تنقیدی سلسلہ
حق ِ تنقید
ڈاکٹر وقار خان ۔
غزل: عمار اقبال (کراچی)
اردو، ادب، تخلیق ، زبان اور فن ایسا مذاق بن چکے جو شاید اب ہم جیسے
لوگوں تک محدور ہو جائیں۔ اردو ادب کی شروع سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ
اردو ادب نے تخلیق کار سے ہمیشہ اُس کی تخلیق ، فن ، وقت، محنت ، علم اور
ریاضت کو مالِ مفت سمجھ کر لیا ہے لیکن ادب نے اپنے تخلیق کار کو ہمیشہ
دینے میں بخل ، تجاہل ، تاخیر اور منافقت سے کام لیا ہے اور تخلیق کار اب
معاشرے کا وہ اضافی نکتہ سمجھا جاتا ہے جسے ہمارا معاشرہ برداشت کرنے کا
اہل نہیں اور نہ ہی ظرف رکھتا ہے ۔
مرا علم بے کار گیا مری تخلیق کو
مرے ہی خلاف استعمال میں لایا گیا ،مجھے مرے ہی بنائے ہوئے الفاظ سے روندا
گیا اور میں چپ تماشا دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ میں ایک تخلیق کار ہوں اور
موجودہ دور میں مری ضرورت نہیں ۔ میں جو ہوں اور جو جانتا ہوں اُس سے صرف
دوسروں کو فائدہ ہوسکتا ہے ، ہمیشہ سے تخلیق کار انہی مسائل کا شکار رہے ۔
لاطینی زبان میں
cret
کے معنی چھان پھٹک کرنا کے ہیں ، اور اردو تنقید میں یہ صلاحیت ختم ہوتی
جا رہی ہے ، تنقید کا معاملہ اب قدرے تبدیلی کی طرف رواں دواں ہے ، پہلے
میں یہ ذکر کیا تھا کہ ہم مغربی عوامل سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی تخلیقی
پہچان ہی کھو بیٹھے، اب میں ایک اور بات کا اضافہ یہ کروں گا کہ جب کسی
تخلیق پر تنقید کی جائے تو نقاد زیرِ عتاب آ جاتا ہے ، اُس کی بات سے
اختلاف ہونے پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی بجائے لوگ بغیر بتائے دشمنی پال
لیتے ہیں اس لیے اب بہت سے نقاد مصلحت آمیزی سے کام لیتے ہیں اور حق بات
کرنے کی بجائے رجعت پسندی کی حمایت کرتے ہیں اور یہی بات ہے کہ تخلیق دم
توڑتی جا رہی ہے۔ کسی کی غلطی کی نشاندہی کرنا اپنی سوشل لائف ختم کرنے
والی بات ہے اور اس بات کا ذمہ دار تخلیق کار ہے جو اپنی خامی کو قبول کرنے
کا حوصلہ نہیں رکھتا اور چھوٹے عناصر کی بنیاد پر اپنے ہی تخلیقی سفر میں
رکاوٹ بنتا ہے ۔ اب یہاں میں نقاد کی خامیوں کا ذکر بھی کروں کہ اُن میں
بھی یہ حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ اچھی تخلیق کو قبول کرتے ہوئے سراہیں ، بلکہ
وہ جان بوجھ کر خامیاں نکالنے میں لگے رہتے ہیں اور تخلیق کے محاسن کو نظر
انداز کر جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کو مرے دوست عمار یاسر مگسی نے "ادبی
ابلیس" کا نام دیا۔
کیا مشرق میں کوئی ایسا نظریہ دان نہیں گزرا جو
ہماری زبان کو عالمی ادب کے برابر لا سکتا ہو؟ گزرے ہیں لیکن ہم نے روندا
ہے ، صرف روندا ہے ، میں نہیں چاہوں گا کہ کوئی مجھ سے آگے جائے ، تم نہیں
چاہو گے کہ میں تم سے آگے جائوں ، ہم نے یا تو قبول نہیں کیا یا آزمایا
نہیں، بہت سے ایسے لوگ رہے؛ اور ہیں بھی؛ جو نظریہ دان ہو سکتے تھے اور اگر
ہم ایسا کر لیتے تو آج ہم کسی آئی اے رچرڈ ، کرسٹوفر کاڈویل، ایڈمنڈولسن،
لارنس ، ہربرٹ، ریڈ ، گاسن ، ڈیشز، ایلیٹ یا ڈرائیڈن کے ادبی نظریات کے
مقروض نہ ہوتے ، ہم میں وہ سب موجود ہے لیکن پہچان کرنی ہے اور ہمیں ہی
کرنی ہے ورنہ ہم گنوا دیں گے وہ ادب جو اردو ادب ہے اور جس میں ہیئت ،
تشکیل اور ساخت کے وہ ذخائر موجود ہیں جو شاید فرانسیسی ، یونانی ، انگریسی
، روسی یا ڈچ زبانوں کے پیش نظر کئی گنا زیادہ رحجانات رکھتے ہیں۔
عمار اقبال کی غزل :
پہلے ہماری آنکھ میں بینائی آئی تھی ،
پھر اُس کے بعد قوتِ گویائی آئی تھی ،
میں اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار ،
میری تھکن سے مجھ میں توانائی آئی تھی ،
دل آج شام سے ہی اُسے ڈھونڈنے لگا ،
کل جس کے بعد کمرے میں تنہائی آئی تھی ،
وہ کس کی نغمگی تھی جو ساتوں سُروں میں تھی ،
رنگوں میں کس کے رنگ سے رعنائی آئی تھی ،
پھر یوں ہوا کہ اُس کو تمنائی کر لیا ،
میری طرف جو چشمِ تماشائی آئی تھی ۔
غزل میں نئے رحجانات کی ڈھونڈ مرا ہی نہیں اردو کا مسئلہ ہے اور یہی امید
بقا ہے لیکن مجھے تسلی اُس وقت ہو گی جب مجھے ستارہ نظر آئے گا۔
عمار اقبال کی غزل معروضیت اور اکتشافی عوامل سے بھرپور، ہیئت اور ساخت کے
اعتبار سے مضبوط ، روانی ، سلاست ، اختراعات، جدیدیت اور تشکیلی مراحل سے
گزرتی ہوئی نظریاتی عوامل کی پاسدار ہے ، نفاست اور احساس کی بہترین مثال
ہے ، نظریات ہماری ضرورت ہیں اور اس غزل کے چند اشعار یہ حق ادا کرنے کی
سعی ہو سکتے ہیں ۔
معائب میں جب بات کی جائے تو تیسرا اور آخری شعر روایتی انداز کے حامل ہیں اور پرانے خیالات پر مبنی ہیں ۔
اسقام کے حوالے سے تیسرے شعر میں مزید فنی بہتری ممکن ہے ۔ تیسرے شعر
میں شاعر نے " کمرے" کی "یے" گرائی ہے ۔ اب "کمرے" معروف ہے اس لیے
Legislative Criticism
کے قوانین کے مطابق معروف کا کوئی رکن گرانا جائز نہیں ، البتہ مجہول کا
گرایا جا سکتا ہے ۔ اب "کمرے" کی "یے" گرانے سے "کمر" پڑھا جائے گا جو شعر
کو معنی سے دور لے جائے گا۔ بعض نقاد اور شعراء اس کو ٹھیک بھی قرار دیتے
ہیں لیکن فنی حوالے سے گنجائش نہیں ۔
1:
پہلے ہماری آنکھ میں بینائی آئی تھی ،
پھر اُس کے بعد قوتِ گویائی آئی تھی ،
جدیدیت اور ہیئت کے حوالے سے غزل کا انتہائی مضبوط شعر جو اس غزل کا
حوالہ ہے۔ ہم نے دیکھنا تو سیکھا ہی نہیں اور اگر دیکھنے لگیں تو بولنے سے
گریز کرتے ہیں۔ اور اگر بولنے لگیں تو وہ بولتے ہیں جو سب سننے چاہیں اور
سب صرف جھوٹ سننا پسند کرتے ہیں۔ روانی اور اکتشافی عوامل کی بہترین مثال
جو شعر کا حق ہے وہ ادا کیا گیا ہے ۔
2:
میں اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار ،
میری تھکن سے مجھ میں توانائی آئی تھی ،
سہل ممتنع، تشکیل ، اور خیال اس شعر کو بہترین اشعار کے زمرے میں لا رہے
ہیں۔ ہر شے اور عنصر اپنی الگ حیثیت رکھتے ہیں ، جو خستگی ہے وہ توانائی سے
الگ ہے ، توانائی کبھی خستگی کی جگہ نہیں لے سکتی ، آسانی کبھی مشکل کا
متبادل نہیں ہو سکتی، اگر سلیقہ آتا ہو تو خستگی طاقت بن سکتی ہے اور مشکل
سے آسانی نکالی جا سکتی ہے ۔ نظریاتی عوامل کو ساتھ لیے ہوئے بہترین شعر ہے
۔
3:
دل آج شام سے ہی اُسے ڈھونڈنے لگا ،
کل جس کے بعد کمرے میں تنہائی آئی تھی ،
روایتی شعر ہے ، نفاست اور روانی واضح ہیں لیکن اس شعر کو معائب میں
شمار کیا گیا ہے ، اور "کمرے" کی "یے" گرانا جائز نہیں کیونکہ "کمرے"
معروف ہے اور مجہول کا رکن گرایا جا سکتا ہے۔
4:
وہ کس کی نغمگی تھی جو ساتوں سُروں میں تھی ،
رنگوں میں کس کے رنگ سے رعنائی آئی تھی ،
شعر انفرادیت، ادبی ماہیت اور جمالیاتی حسیات کا حامل ہے ، لسانی اور خیال
کے حوالے سے نظریات اور توضیحی تشکیل کی بہترین مثال اور مضبوط شعر ہے ۔
Descriptive Environment
کا حامل یہ شعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ مجھے وا کیا جائے ؛ اُن اذہان
پر جو خالی ہیں ؛ وہ نغمگی ہی تو میں ڈھونڈ رہا ہوں جو ایسی سُر میں ہو جو
اپنی دھن میں بہا لے جائے وہ سب جو غیر ضروری ہے۔ وہ رنگ جس سے سارے رنگ
بنے لیکن وہ رنگ ابھی تک وجود میں نہیں آیا، وہ رنگ وجود و نبود سے ماوراء
ہے اور جس کا ہونا سب کے ہونے کی ضمانت ہے ۔
5:
پھر یوں ہوا کہ اُس کو تمنائی کر لیا ،
میری طرف جو چشمِ تماشائی آئی تھی ۔
رواں شعر ہے جو روایت سے جڑا ہے اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ ڈھب
تو وہ ہے جو تماشا ہو کر تماشائی کی حالت کو اپنے اخیتار میں لے لے اور یہی
فن ہے ۔
عمار اقبال کے لیے بہت سی دعائیں اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقار خان۔
Dr. Waqar Khan Poet/Writer
ڈاکٹر وقار خان کی شاعری(غزل، نظم) اور نثر اعزازات: 26 ایوارڈز شاعری میں ، ورلڈ اوسمک ایوارڈ ۔
Friday, 22 January 2016
Tanqeed by Dr.Waqar Khan , ghazal Arshad Abbas Zaki
تنقیدی سلسلہ
(ڈاکٹر وقارخان)
غزل: ارشد عباس ذکی
یہ جو زخمِ دل ہے اِسے رفو نہیں کر رہا ،
میں ترے حوالے سے گفتگو نہیں کر رہا ،
کوئی اور ہے جسے ساری باتوں کا علم ہے ،
مرا راز افشاء مرا عدو نہیں کر رہا ،
یہاں سارے شہر کو علم ہے کہ میں تیرا ہوں،
مرا اعتبار تو صرف تُو نہیں کر رہا ،
میری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں ،
میں ورق ورق کو یونہی لہو نہیں کر رہا،
دلِ خوش گماں تجھے بس اِسی کا ملال ہے ،
دلِ آرزو تری آرزو نہیں کر رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید کسی بھی فن پارے میں حسن و قبح ، محاسن و معائب ، خوبیاں اور اسقام الگ الگ کرنے کا نام ہے ،
اردو نے جس تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے کیا اُسی رفتار سے اردو تنقید نے بھی ترقی کی ؟ کیا اردو تنقید اس قابل ہوئی ہے کہ اِسے یونانی ، رومی ، اطالوی، فرانسیسی یا انگریزی ادب کی تنقید کے مساوی پیش کیا جا سکے ؟ کیا اردو تنقید نے اپنے اصول وضع کیے یا مستعار نظریات کی مرہونِ منت ہے ؟ کیا اردو تنقید اپنی جملہ خامیوں اور ممکنہ خوبیوں سے آگاہ ہے ؟
اردو غٖزل نے جتنی تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور جس طرح اردو غزل کے تقاضے بدلے ہیں ہمیں چاہیے تھا اِس سے فائدہ اٹھا کر اِسے اپنی طاقت بناتے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس کو کمزوری بنا کر اپنی غزل کو دوسری اصناف کے سامنے کمزور ثابت کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
ارشد عباس ذکی کی غزل:
ارشد عباس ذکی کی اس غزل کو پڑھ کر روایت سے جڑے ہونے کا احساس ہوا، مجموعی رائے کے مطابق غزل نظریاتی عوامل کی حامل دکھائی دی ۔ اور اِس غزل پر نظریاتی تنقید ہی کی جا سکتی ہے ۔
(Theoratical Criticism)
اچھی غزل وہ ہے جو نظریاتی عوامل سے چل کر عملی مراحل تک کا سفر کرے ۔ شعر توضیح و تشریح طلب ہو تو اُس سے کھلنے والے در معاندانہ نہ ہوں اور اپنی اصل پر قائم ہوں اور یہ خوبیاں اِس غزل میں موجود ہیں۔ خیال کی پختگی، نفاست ، روانی ، نفسیاتی جذباتیت اور تغزل موجود ہے ۔ مصرعہ سازی ، فنی مہارت ، کرافٹ اور سب سے بڑی بات ارشد عباس ذکی نے اپنے زاویے سے غزل کو پیش کیا اور سہلِ ممتنع میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنا مدعا پیش کیا اور شعوری کوشش سے دور رہ کر آسان لہجے میں اثر انگیز شعر کہے ۔
رہی بات معائب اور خامیوں کی توغزل کے اشعار اکتشافی ہیئت سے دور نظر آتے ہیں، اکتشافی ہیئت جدت پسندوں کی اختراع ہے اور جدت پسند طبقے کے اچھوتے نظریات اور کچھ ذاتی فلاسفی اور نئے الفاظ و تلازمات جو اردو کو دیے جا سکتے ہیں جو پہلے موجود نہ ہوں ، کچھ ایسا نظریہ کچھ ایسا تصور جو اب تک موجود نہ ہو اور شاعر اگر ایسے نئے نظریات پیش کر سکے تو یہ بڑی بات ہوتی ہے ۔ ارشد عباس ذکی کی اس غزل میں یہ ہیئت موجود نہیں۔ تخلیق کے داخلی و باطنی محرکات کو سامنے رکھ کر کچھ نئے تصورات پیش کیے جانے چاہیے تھے ۔ ایک شعر " مری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں" توضیحی عنصر رکھتا ہے جس پر سیر گفتگو ضروری ہے ۔ ایک حد تک غزل روایت سے جڑی ہے ۔
1:
یہ جو زخمِ دل ہے اسے رفو نہیں کر رہا ،
میں ترے حوالے سے گفتگو نہیں کر رہا ،
روایتی شعر جس میں ایک گلہ ہے ، روانی اور تغزل کی بہترین مثال ہے ۔ سہلِ ممتنع ہے اور خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا ہے کہ محبوب کے دیے گئے زخم کو نہ ہی رفو کر رہا ہوں اور نہ ہی تجھے اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے
2:
کوئی اور ہے جسے ساری باتوں کا علم ہے ،
مرا راز افشاء مرا عدو نہیں کر رہا ،
نفاست اور روانی سے بھر پور شعر جو اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ شعر تشریح طلب ہے اور فنی حوالے سے مکمل ہے ۔ کوئی دشمن نہیں بلکہ اپنا ہے جسے مرے تمام حالات اور ارادوں کو پتہ ہے جو راز باہر کر رہا ہے ۔
3:
یہاں سارے شہر کو علم ہے کہ میں تیرا ہوں،
مرا اعتبار تو صرف تُو نہیں کر رہا ،
سہلِ ممتنع اور نفاست سے بھر پور شعر ہے جو پڑھ کر قاری کو با آسانی سمجھ آ سکتا ہے اور اثر رکھتا ہے۔
4:
میری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں ،
میں ورق ورق کو یونہی لہو نہیں کر رہا،
یہ شعر جسے بیان کرنے کے لیے ساختیات اور اسلوبیاتی عوامل کو سامنے رکھنا ہوگا۔ یہ شعر نظریاتی، عملی ، تشریحی اور تدریسی حوالوں سے بھر پور ہے ۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دو طبقوں پر محیط ہیں، ایک وہ جو قربانی دیتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ قربانی کا احساس کسی کو نہیں ہو گا وہ سر کٹانے سے باز نہیں آتا۔ اور دوسرا وہ طبقہ جو قربانی مانگتا ہے ، قربانی لے لینے کے بعد بھی معاف نہیں کرتا اور بے حسی کا شکار رہتا ہے ، دراصل یہ طبقہ ذہنی اور عملی طور پر کمزور طبقہ ہے ۔
چودہ صدیوں کا قصہ ہے اور لفظ لفظ خون رو رہا ہے ۔
اس شعر پر جتنی بات کی جائے کم ہے ۔
5:
دلِ خوش گماں تجھے بس اِسی کا ملال ہے ،
دلِ آرزو تری آرزو نہیں کر رہا ۔
یہ شعر شعریت اور اسلوب کا حامل ہے ۔ تشکیلات اور جامع مفہوم اس شعر کی خوبیوں میں شامل ہیں۔ بیان کیا گیا کہ خوش گماں دل تجھے اس بات کا دکھ ہے کہ اب یہ دل تری آرزو ہی نہیں کر رہا کیوں کہ آرزو زندہ رہنے کا نام ہے اور حقیقت پسندی میں زندہ رہنا بہت دشوار کام تصور کیا جاتا ہے ۔
ارشد عباس ذکی کے لیے دعائیں اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقار خان۔
(ڈاکٹر وقارخان)
غزل: ارشد عباس ذکی
یہ جو زخمِ دل ہے اِسے رفو نہیں کر رہا ،
میں ترے حوالے سے گفتگو نہیں کر رہا ،
کوئی اور ہے جسے ساری باتوں کا علم ہے ،
مرا راز افشاء مرا عدو نہیں کر رہا ،
یہاں سارے شہر کو علم ہے کہ میں تیرا ہوں،
مرا اعتبار تو صرف تُو نہیں کر رہا ،
میری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں ،
میں ورق ورق کو یونہی لہو نہیں کر رہا،
دلِ خوش گماں تجھے بس اِسی کا ملال ہے ،
دلِ آرزو تری آرزو نہیں کر رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید کسی بھی فن پارے میں حسن و قبح ، محاسن و معائب ، خوبیاں اور اسقام الگ الگ کرنے کا نام ہے ،
اردو نے جس تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے کیا اُسی رفتار سے اردو تنقید نے بھی ترقی کی ؟ کیا اردو تنقید اس قابل ہوئی ہے کہ اِسے یونانی ، رومی ، اطالوی، فرانسیسی یا انگریزی ادب کی تنقید کے مساوی پیش کیا جا سکے ؟ کیا اردو تنقید نے اپنے اصول وضع کیے یا مستعار نظریات کی مرہونِ منت ہے ؟ کیا اردو تنقید اپنی جملہ خامیوں اور ممکنہ خوبیوں سے آگاہ ہے ؟
اردو غٖزل نے جتنی تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور جس طرح اردو غزل کے تقاضے بدلے ہیں ہمیں چاہیے تھا اِس سے فائدہ اٹھا کر اِسے اپنی طاقت بناتے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس کو کمزوری بنا کر اپنی غزل کو دوسری اصناف کے سامنے کمزور ثابت کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
ارشد عباس ذکی کی غزل:
ارشد عباس ذکی کی اس غزل کو پڑھ کر روایت سے جڑے ہونے کا احساس ہوا، مجموعی رائے کے مطابق غزل نظریاتی عوامل کی حامل دکھائی دی ۔ اور اِس غزل پر نظریاتی تنقید ہی کی جا سکتی ہے ۔
(Theoratical Criticism)
اچھی غزل وہ ہے جو نظریاتی عوامل سے چل کر عملی مراحل تک کا سفر کرے ۔ شعر توضیح و تشریح طلب ہو تو اُس سے کھلنے والے در معاندانہ نہ ہوں اور اپنی اصل پر قائم ہوں اور یہ خوبیاں اِس غزل میں موجود ہیں۔ خیال کی پختگی، نفاست ، روانی ، نفسیاتی جذباتیت اور تغزل موجود ہے ۔ مصرعہ سازی ، فنی مہارت ، کرافٹ اور سب سے بڑی بات ارشد عباس ذکی نے اپنے زاویے سے غزل کو پیش کیا اور سہلِ ممتنع میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنا مدعا پیش کیا اور شعوری کوشش سے دور رہ کر آسان لہجے میں اثر انگیز شعر کہے ۔
رہی بات معائب اور خامیوں کی توغزل کے اشعار اکتشافی ہیئت سے دور نظر آتے ہیں، اکتشافی ہیئت جدت پسندوں کی اختراع ہے اور جدت پسند طبقے کے اچھوتے نظریات اور کچھ ذاتی فلاسفی اور نئے الفاظ و تلازمات جو اردو کو دیے جا سکتے ہیں جو پہلے موجود نہ ہوں ، کچھ ایسا نظریہ کچھ ایسا تصور جو اب تک موجود نہ ہو اور شاعر اگر ایسے نئے نظریات پیش کر سکے تو یہ بڑی بات ہوتی ہے ۔ ارشد عباس ذکی کی اس غزل میں یہ ہیئت موجود نہیں۔ تخلیق کے داخلی و باطنی محرکات کو سامنے رکھ کر کچھ نئے تصورات پیش کیے جانے چاہیے تھے ۔ ایک شعر " مری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں" توضیحی عنصر رکھتا ہے جس پر سیر گفتگو ضروری ہے ۔ ایک حد تک غزل روایت سے جڑی ہے ۔
1:
یہ جو زخمِ دل ہے اسے رفو نہیں کر رہا ،
میں ترے حوالے سے گفتگو نہیں کر رہا ،
روایتی شعر جس میں ایک گلہ ہے ، روانی اور تغزل کی بہترین مثال ہے ۔ سہلِ ممتنع ہے اور خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا ہے کہ محبوب کے دیے گئے زخم کو نہ ہی رفو کر رہا ہوں اور نہ ہی تجھے اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے
2:
کوئی اور ہے جسے ساری باتوں کا علم ہے ،
مرا راز افشاء مرا عدو نہیں کر رہا ،
نفاست اور روانی سے بھر پور شعر جو اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ شعر تشریح طلب ہے اور فنی حوالے سے مکمل ہے ۔ کوئی دشمن نہیں بلکہ اپنا ہے جسے مرے تمام حالات اور ارادوں کو پتہ ہے جو راز باہر کر رہا ہے ۔
3:
یہاں سارے شہر کو علم ہے کہ میں تیرا ہوں،
مرا اعتبار تو صرف تُو نہیں کر رہا ،
سہلِ ممتنع اور نفاست سے بھر پور شعر ہے جو پڑھ کر قاری کو با آسانی سمجھ آ سکتا ہے اور اثر رکھتا ہے۔
4:
میری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں ،
میں ورق ورق کو یونہی لہو نہیں کر رہا،
یہ شعر جسے بیان کرنے کے لیے ساختیات اور اسلوبیاتی عوامل کو سامنے رکھنا ہوگا۔ یہ شعر نظریاتی، عملی ، تشریحی اور تدریسی حوالوں سے بھر پور ہے ۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دو طبقوں پر محیط ہیں، ایک وہ جو قربانی دیتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ قربانی کا احساس کسی کو نہیں ہو گا وہ سر کٹانے سے باز نہیں آتا۔ اور دوسرا وہ طبقہ جو قربانی مانگتا ہے ، قربانی لے لینے کے بعد بھی معاف نہیں کرتا اور بے حسی کا شکار رہتا ہے ، دراصل یہ طبقہ ذہنی اور عملی طور پر کمزور طبقہ ہے ۔
چودہ صدیوں کا قصہ ہے اور لفظ لفظ خون رو رہا ہے ۔
اس شعر پر جتنی بات کی جائے کم ہے ۔
5:
دلِ خوش گماں تجھے بس اِسی کا ملال ہے ،
دلِ آرزو تری آرزو نہیں کر رہا ۔
یہ شعر شعریت اور اسلوب کا حامل ہے ۔ تشکیلات اور جامع مفہوم اس شعر کی خوبیوں میں شامل ہیں۔ بیان کیا گیا کہ خوش گماں دل تجھے اس بات کا دکھ ہے کہ اب یہ دل تری آرزو ہی نہیں کر رہا کیوں کہ آرزو زندہ رہنے کا نام ہے اور حقیقت پسندی میں زندہ رہنا بہت دشوار کام تصور کیا جاتا ہے ۔
ارشد عباس ذکی کے لیے دعائیں اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقار خان۔
Tanqeed by DR.WAQAR KAHN , Ghazal Faisal imam rizvi
حقِ تنقید
(ہفتہ وار سلسلہ)
ڈاکٹر وقارخان ۔
غزل برائے تنقید ۔: فیصل امام رضوی ۔
کتاب: ہم بچھڑنے والے ہیں ۔
اردو تنقید کا آغاز انیسویں صدی سے ہوا اور اکیسویں صدی میں داخل ہو کر بھی اردو ادب مغربی ادبیات کے اقتباسات سے بھر گیا ، یہاں کسی کو شعور، ساختیات، پسِ ساختیات، تشکیل، رد تشکیل اور جدیدیت ، ما بعد جدیدیت کی سمجھ ہی پیدا نہیں ہوئی ، چونکہ مغرب میں یہ رواج چل رہا تھا تو اردو کے متوالے بھی سر دھنتے چل پڑے ۔ جدیدیت کا رونا رو رو کر میری اور ظفر اقبال کی آنکھیں سُوج گئیں اور شاید ہم دونوں باز نہ آئیں ۔
اپنی مرضی تھوپنا اور بات ہے ، رائے دینا اور تنقید اور بات ہے ، یونانی زبان میں ایک لفظ
“crenien”
بہت استعمال ہوا ہے جس کے معنی محاکمہ کرنے کے ہیں لیکن افسوس کہ ہمیں اپنی مرضی تھوپنے کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔
ٹی ۔ایس۔ ایلیٹ سے اختلاف :
T.S.Eliet
کے خلاف بھی کچھ بولتا ہوں لیکن ڈر ہے کہ بہت سے لوگ جو مغربی مقولے اور حوالے دے کر خود کو نقاد سمجھتے ہیں وہ برا مان جائیں گے ۔
ٹی ایس ایلیٹ اپنے مقالے میں لکھتے ہیں :
" تنقید نہ تو سائنس ہے اور نہ سائنس بن سکتی ہے ، ادبی ذوق مطالعہ ہے ، اور ذوق کی سائنسی تشریح یا درجہ بندی ممکن نہیں "
اب ٹی ایس ایلیٹ پہلے خود اپنی بات کی نفی اس انداز سے کرتے ہیں :
" شاعر کا ذہن ایک ذنبیل ہے جو لا تعداد احساسات ، جملوں اور تصوراتی نقوش یا تمنائوں کو سمیٹے اور ذخیرہ کیے ہوئے ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اجزاء جو مل کر نیا مرکب بنا سکتے ہوں ، فنی عمل کی شدت کو جذبات جو محض اجزائے ترکیبی ہیں ، وہ شدت سے زیادہ اہم ہیں "
ورڈز ورتھ کہتے ہیں جس سے میں خوش ہوا :
" شاعری محض حصولِ مسرت کا ذریعہ نہیں ، بلکہ حصولِ علم کا ذریعہ ہے ، شاعری علم کے جسم میں سانس کی مانند ہے "
میں اب نفسیات کے حوالے سے بات کروں گا ، ایک ماہرِ نفسیات شعور ، لاشعور اور تحت الشعور کے مطالعے سے مریض کی حالت جان لیتا ہے ، شاعری کیا ہے ، شعور، لا شعور کی باتیں، دل اور دماغ کی باتیں، دل اور دماغ سائنس کی بنیاد ہیں ، شعور سائنس کی روح ہے تو شعور کی اصل ادب اور شاعری ہے ، تو گویا تنقید اور ادب سائنس سے پہلے سے موجود ہیں اور ان کے وجود سے سائنس نے جنم لیا۔
اور مجھے اس معاملے پر
T.S.Eliet
سے معذرت کے ساتھ اختلاف رہا۔
فیصل امام رضوی کی غزل :
سائنس اور ادب ایک شے ہے ، اور میں اس فلسفے کی الجھن میں غزل کو اس فلسفے کے دائرہ کار میں لانے کی کوشش میں بات کا آغاز کروں گا۔
غزل روایتی ہے اور نو مولود جدیدیت سے دور مابعد جدیدیت کے عنصر کے ساتھ اپنا الگ رنگ رکھتی ہے ۔ تغزل ، روانی ، سلاست اور سہلِ ممتنع کی بہترین مثال ہے ۔ ساری بات جو اب تک میں بیان کی اُس میں ادب اور لطافت کو قریب لانے کی کوشش کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ احساس اور جذبات کی شدت وہ مرکبات ہیں جو سائنس کی بنیاد ہیں۔ اب شاعر نے خیال میں چاند پر جانے کی بات پہلے کی اور سائنس نے مختلف سیاروں پہ جانے کی تحقیق بعد میں شروع کی ۔ فیصل امام کی غزل میں روایتی انداز کی چاشنی ، اسلوب ، زبان، موضوع ، ذریعہ ء اظہار اور جمالیاتی عنصر جو اس غزل کو منفرد کر رہا ہے ۔ اور یہی احساسات نئے عوامل کا پیش خیمہ ہیں۔
معائب کی جب بات کریں تو ایک شعر میں فنی حوالے سے کچھ بہتری ممکن تھی ۔
یہ سیہ رات عجب مجھ کو مزہ دیتی ہے ،
کوئی تصویر اندھیرے میں بنا دیتی ہے ،
میں تو دانستہ اُسے بھول کے سو جاتا ہوں ،
اُس کی آواز مجھے روز جگا دیتی ہے ،
رشتہء دل ہے کسی ایسی فضا سے میرا ،
جو مرے زخم کو ہر روز ہوا دیتی ہے ،
ایک شہزادی مرے خواب میں آ جاتی ہے ،
مجھ کو پل بھر میں وہ شہزادہ بنا دیتی ہے ،
پوچھتے رہتے ہیں سب مجھ سے یہاں ماہ و نجوم ،
رات کیا چیز ہے فیصل تجھے کیا دیتی ہے ۔
فیصل امام رضوی ۔
1)
یہ سیہ رات عجب مجھ کو مزہ دیتی ہے ،
کوئی تصویر اندھیرے میں بنا دیتی ہے ،
سہل ِ ممتنع اور لطافت کی مثال ہے ، رات کی سیاہی سے گھبرا جانے کی بجائے اُس میں ایک امید کی تصویر کو اپنے لیے روشنی قرار دیا ہے جو رات کا اندھیرا خود اُس روشنی کو لا کر راستہ دکھاتا ہے ۔ اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت ہر شے سے کچھ نئے وجودات اور نظریات کو ڈھونڈنے میں لگ جاتا ہوں اور اس شعر نے نیا مطلب دے دیا۔
2)
میں تو دانستہ اُسے بھول کے سو جاتا ہوں ،
اُس کی آواز مجھے روز جگا دیتی ہے ،
سہل ممتنع اور تغزل سے بھر پور شعر۔ روایتی انداز ۔ اب روایت سے جڑا ہونا ہی بقا ہے ، روایت سے دور بھاگنا بڑائی نہیں لیکن روایت سے نیا رخ نکالنا فن ہے ۔
3)
رشتہء دل ہے کسی ایسی فضا سے میرا ،
جو مرے زخم کو ہر روز ہوا دیتی ہے ،
یہ شعر معائب میں شمار کیا اور اِس شعر میں فنی حوالے سے مزید بہتری ممکن تھی ۔ اب بات کو گھمانے پھرانے کی بجائے جب میں اس شعر کو سلیس پیش کروں تو
" میرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو مرے زخم کو روز ہوا "دیتا" ہے "
لیکن شاعر نے یہاں لکھا کہ " مرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو مرے زخم کو روز ہوا "دیتی " ہے ۔ اب بات یہ ہے کہ "رشتہ " ہوا دیتا ہے ، دیتی غلط ہے ۔
اور اب شاعر نے جس حوالے سے کہا ہے وہ یہ " میرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو فضا مرے زخم کو روز ہوا دیتی ہے "
اب یہاں شاعر واضح نہیں کر سکا کہ وہ "فضا" ہوا دیتی ہے یا " رشتہ " ہوا دیتا ہے ۔ لیکن شاعر نے "رشتہ ہوا دیتی ہے " لکھا جو کہ غلط ہوا۔ " ہوا دینا " محاورہ ہے جو "فضا" کے ساتھ نہیں جچتا ،مثال کے طور پر" یہ فضا مرے زخم کو ہوا دے رہی ہے " ، تو شعر کہیں لڑکھڑا گیا۔
اب اسی شعر کے خیال پر بیان کرتا چلوں تو اُس فضا پر بین کرنے کو جی چاہتا ہے جس فضا نے ہمیں رونا سکھایا، ایک ایسا المیہ جو اس شعر میں بیان ہوا وہ ادب کی بقا ہے اور صرف اُس وقت جب پہچان لیا جائے ۔ ہم ایسی فضا میں موجود ہیں جہاں سانس لینا منع ہے ، لکھنا وہ ہے جو معاشرے کو اچھا لگے چاہے وہ معاشرے کی ضرورت ہو نہ ہو ، بس اُس فضا کی چاپلوسی ضروری ہے جس فضا نے ہمیں معاشرتی حوالے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا کیا۔
4)
ایک شہزادی مرے خواب میں آ جاتی ہے ،
مجھ کو پل بھر میں وہ شہزادہ بنا دیتی ہے ،
مکمل شعر ، سادہ ، لطیف ، جذباتیت اور حساسیت پر مبنی جسے پڑھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شہزادی آ کر خواب کو حقیقت میں بدل دے گی ۔ سحر طاری کر دینے والا شعر جو کرافٹ کے حوالے سے بھی بہترین شعر ہے اور حق ادا کر رہا ہے ۔
5)
پوچھتے رہتے ہیں سب مجھ سے یہاں ماہ و نجوم ،
رات کیا چیز ہے فیصل تجھے کیا دیتی ہے ۔
روایتی شعر ہے، نفاست اور روانی کے حوالے سے بہترین شعر ہے ۔
فیصل امام رضوی کو کتاب " ہم بچھڑنے والے ہیں " کی اشاعت پر مبارک باد، مزید شعوری در کھلنے کی دعا اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقارخان۔
(ہفتہ وار سلسلہ)
ڈاکٹر وقارخان ۔
غزل برائے تنقید ۔: فیصل امام رضوی ۔
کتاب: ہم بچھڑنے والے ہیں ۔
اردو تنقید کا آغاز انیسویں صدی سے ہوا اور اکیسویں صدی میں داخل ہو کر بھی اردو ادب مغربی ادبیات کے اقتباسات سے بھر گیا ، یہاں کسی کو شعور، ساختیات، پسِ ساختیات، تشکیل، رد تشکیل اور جدیدیت ، ما بعد جدیدیت کی سمجھ ہی پیدا نہیں ہوئی ، چونکہ مغرب میں یہ رواج چل رہا تھا تو اردو کے متوالے بھی سر دھنتے چل پڑے ۔ جدیدیت کا رونا رو رو کر میری اور ظفر اقبال کی آنکھیں سُوج گئیں اور شاید ہم دونوں باز نہ آئیں ۔
اپنی مرضی تھوپنا اور بات ہے ، رائے دینا اور تنقید اور بات ہے ، یونانی زبان میں ایک لفظ
“crenien”
بہت استعمال ہوا ہے جس کے معنی محاکمہ کرنے کے ہیں لیکن افسوس کہ ہمیں اپنی مرضی تھوپنے کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔
ٹی ۔ایس۔ ایلیٹ سے اختلاف :
T.S.Eliet
کے خلاف بھی کچھ بولتا ہوں لیکن ڈر ہے کہ بہت سے لوگ جو مغربی مقولے اور حوالے دے کر خود کو نقاد سمجھتے ہیں وہ برا مان جائیں گے ۔
ٹی ایس ایلیٹ اپنے مقالے میں لکھتے ہیں :
" تنقید نہ تو سائنس ہے اور نہ سائنس بن سکتی ہے ، ادبی ذوق مطالعہ ہے ، اور ذوق کی سائنسی تشریح یا درجہ بندی ممکن نہیں "
اب ٹی ایس ایلیٹ پہلے خود اپنی بات کی نفی اس انداز سے کرتے ہیں :
" شاعر کا ذہن ایک ذنبیل ہے جو لا تعداد احساسات ، جملوں اور تصوراتی نقوش یا تمنائوں کو سمیٹے اور ذخیرہ کیے ہوئے ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اجزاء جو مل کر نیا مرکب بنا سکتے ہوں ، فنی عمل کی شدت کو جذبات جو محض اجزائے ترکیبی ہیں ، وہ شدت سے زیادہ اہم ہیں "
ورڈز ورتھ کہتے ہیں جس سے میں خوش ہوا :
" شاعری محض حصولِ مسرت کا ذریعہ نہیں ، بلکہ حصولِ علم کا ذریعہ ہے ، شاعری علم کے جسم میں سانس کی مانند ہے "
میں اب نفسیات کے حوالے سے بات کروں گا ، ایک ماہرِ نفسیات شعور ، لاشعور اور تحت الشعور کے مطالعے سے مریض کی حالت جان لیتا ہے ، شاعری کیا ہے ، شعور، لا شعور کی باتیں، دل اور دماغ کی باتیں، دل اور دماغ سائنس کی بنیاد ہیں ، شعور سائنس کی روح ہے تو شعور کی اصل ادب اور شاعری ہے ، تو گویا تنقید اور ادب سائنس سے پہلے سے موجود ہیں اور ان کے وجود سے سائنس نے جنم لیا۔
اور مجھے اس معاملے پر
T.S.Eliet
سے معذرت کے ساتھ اختلاف رہا۔
فیصل امام رضوی کی غزل :
سائنس اور ادب ایک شے ہے ، اور میں اس فلسفے کی الجھن میں غزل کو اس فلسفے کے دائرہ کار میں لانے کی کوشش میں بات کا آغاز کروں گا۔
غزل روایتی ہے اور نو مولود جدیدیت سے دور مابعد جدیدیت کے عنصر کے ساتھ اپنا الگ رنگ رکھتی ہے ۔ تغزل ، روانی ، سلاست اور سہلِ ممتنع کی بہترین مثال ہے ۔ ساری بات جو اب تک میں بیان کی اُس میں ادب اور لطافت کو قریب لانے کی کوشش کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ احساس اور جذبات کی شدت وہ مرکبات ہیں جو سائنس کی بنیاد ہیں۔ اب شاعر نے خیال میں چاند پر جانے کی بات پہلے کی اور سائنس نے مختلف سیاروں پہ جانے کی تحقیق بعد میں شروع کی ۔ فیصل امام کی غزل میں روایتی انداز کی چاشنی ، اسلوب ، زبان، موضوع ، ذریعہ ء اظہار اور جمالیاتی عنصر جو اس غزل کو منفرد کر رہا ہے ۔ اور یہی احساسات نئے عوامل کا پیش خیمہ ہیں۔
معائب کی جب بات کریں تو ایک شعر میں فنی حوالے سے کچھ بہتری ممکن تھی ۔
یہ سیہ رات عجب مجھ کو مزہ دیتی ہے ،
کوئی تصویر اندھیرے میں بنا دیتی ہے ،
میں تو دانستہ اُسے بھول کے سو جاتا ہوں ،
اُس کی آواز مجھے روز جگا دیتی ہے ،
رشتہء دل ہے کسی ایسی فضا سے میرا ،
جو مرے زخم کو ہر روز ہوا دیتی ہے ،
ایک شہزادی مرے خواب میں آ جاتی ہے ،
مجھ کو پل بھر میں وہ شہزادہ بنا دیتی ہے ،
پوچھتے رہتے ہیں سب مجھ سے یہاں ماہ و نجوم ،
رات کیا چیز ہے فیصل تجھے کیا دیتی ہے ۔
فیصل امام رضوی ۔
1)
یہ سیہ رات عجب مجھ کو مزہ دیتی ہے ،
کوئی تصویر اندھیرے میں بنا دیتی ہے ،
سہل ِ ممتنع اور لطافت کی مثال ہے ، رات کی سیاہی سے گھبرا جانے کی بجائے اُس میں ایک امید کی تصویر کو اپنے لیے روشنی قرار دیا ہے جو رات کا اندھیرا خود اُس روشنی کو لا کر راستہ دکھاتا ہے ۔ اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت ہر شے سے کچھ نئے وجودات اور نظریات کو ڈھونڈنے میں لگ جاتا ہوں اور اس شعر نے نیا مطلب دے دیا۔
2)
میں تو دانستہ اُسے بھول کے سو جاتا ہوں ،
اُس کی آواز مجھے روز جگا دیتی ہے ،
سہل ممتنع اور تغزل سے بھر پور شعر۔ روایتی انداز ۔ اب روایت سے جڑا ہونا ہی بقا ہے ، روایت سے دور بھاگنا بڑائی نہیں لیکن روایت سے نیا رخ نکالنا فن ہے ۔
3)
رشتہء دل ہے کسی ایسی فضا سے میرا ،
جو مرے زخم کو ہر روز ہوا دیتی ہے ،
یہ شعر معائب میں شمار کیا اور اِس شعر میں فنی حوالے سے مزید بہتری ممکن تھی ۔ اب بات کو گھمانے پھرانے کی بجائے جب میں اس شعر کو سلیس پیش کروں تو
" میرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو مرے زخم کو روز ہوا "دیتا" ہے "
لیکن شاعر نے یہاں لکھا کہ " مرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو مرے زخم کو روز ہوا "دیتی " ہے ۔ اب بات یہ ہے کہ "رشتہ " ہوا دیتا ہے ، دیتی غلط ہے ۔
اور اب شاعر نے جس حوالے سے کہا ہے وہ یہ " میرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو فضا مرے زخم کو روز ہوا دیتی ہے "
اب یہاں شاعر واضح نہیں کر سکا کہ وہ "فضا" ہوا دیتی ہے یا " رشتہ " ہوا دیتا ہے ۔ لیکن شاعر نے "رشتہ ہوا دیتی ہے " لکھا جو کہ غلط ہوا۔ " ہوا دینا " محاورہ ہے جو "فضا" کے ساتھ نہیں جچتا ،مثال کے طور پر" یہ فضا مرے زخم کو ہوا دے رہی ہے " ، تو شعر کہیں لڑکھڑا گیا۔
اب اسی شعر کے خیال پر بیان کرتا چلوں تو اُس فضا پر بین کرنے کو جی چاہتا ہے جس فضا نے ہمیں رونا سکھایا، ایک ایسا المیہ جو اس شعر میں بیان ہوا وہ ادب کی بقا ہے اور صرف اُس وقت جب پہچان لیا جائے ۔ ہم ایسی فضا میں موجود ہیں جہاں سانس لینا منع ہے ، لکھنا وہ ہے جو معاشرے کو اچھا لگے چاہے وہ معاشرے کی ضرورت ہو نہ ہو ، بس اُس فضا کی چاپلوسی ضروری ہے جس فضا نے ہمیں معاشرتی حوالے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا کیا۔
4)
ایک شہزادی مرے خواب میں آ جاتی ہے ،
مجھ کو پل بھر میں وہ شہزادہ بنا دیتی ہے ،
مکمل شعر ، سادہ ، لطیف ، جذباتیت اور حساسیت پر مبنی جسے پڑھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شہزادی آ کر خواب کو حقیقت میں بدل دے گی ۔ سحر طاری کر دینے والا شعر جو کرافٹ کے حوالے سے بھی بہترین شعر ہے اور حق ادا کر رہا ہے ۔
5)
پوچھتے رہتے ہیں سب مجھ سے یہاں ماہ و نجوم ،
رات کیا چیز ہے فیصل تجھے کیا دیتی ہے ۔
روایتی شعر ہے، نفاست اور روانی کے حوالے سے بہترین شعر ہے ۔
فیصل امام رضوی کو کتاب " ہم بچھڑنے والے ہیں " کی اشاعت پر مبارک باد، مزید شعوری در کھلنے کی دعا اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقارخان۔
Haq-e-tanqeed by Dr.Waqar Khan , ghazal saleem waqif
تنقیدی سلسلہ " حقِ تنقید "
(ڈاکٹر وقار خان)
غزل ۔ سلیم واقف ( کتاب: نیند کا ململ )
پازیب کو چوما کبھی کاجل نہیں دیکھا ،
پوجا ہے جسے اُس کو مکمل نہیں دیکھا ،
دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں ،
صحرا پہ برستا ہوا بادل نہیں دیکھا ،
کھدر سی تھکن اوڑھ کے جاگا ہوں میں اِک عمر ،
آنکھوں نے کبھی نیند کا ململ نہیں دیکھا ،
گرمی میں کبھی ٹھنڈی ہوا تک نہیں کھائی ،
سردی میں کبھی اُون کا کمبل نہیں دیکھا ،
واقفؔ تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے ،
سچ پوچھو تو تم سا کوئی پاگل نہیں دیکھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید کی ابتدا اُسی وقت ہو گئی تھی جب دنیا وجود میں آنے کے بعد ایک انسان نے دوسرے انسان کے طرزِ عمل پر اعتراض اٹھایا ۔ ادبی تنقید کے ابتدائی نقوش کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ڈھائی ہزار سال پہلے ادبی تنقید کا آغاز افلاطون اور ارسطو کے نظریات سے ہوا لیکن لگ بھگ چار ہزار سال پہلے بھی تنقید کے شواہد ملتے ہیں ۔
جس طرح ادب زندگی کے حوادث اور تغیرات سے جنم لیتا ہے اُسی طرح تنقید بھی ناقدین کے اردگرد کے ماحول اور ذہنی رویوں سے متاثر ہوتی ہے ۔
میرا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ میں کسی شے کے مکمل ہونے پر یقین نہیں رکھتا لیکن میں مکمل تخلیق دیکھنا بھی چاہتا ہوں۔ اردو ادب میں یہ بات با تکرار کہی جاتی ہے کہ فلاں ادیب یا شاعر کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ، مورخ فیصلہ دے گا یا تاریخ فیصلہ رقم کرے گی یا وقت کی چھلنی سے چھن کر سب کھرا کھوٹا الگ ہو گا لیکن بات یہ ہے کہ اِسی امید پہ ہم وہ لکھنا شروع کر دیں جو ہماری تو دور اُس مخلوق کو بھی سمجھ نہ آئے جس کا ہم خیال اور قیاس کرتے ہیں ۔ تو وہ لکھو ہی کیوں جس کا کوئی مطلب نہ ہو ، " شاخِ عصر " اور اِس طرح کی تراکیب و لوازمات جن کا وجود تو کیا مطلب بھی سمجھ نہ آئے ۔ دوسرا رونا ان کا رونا پڑے گا جو جدت کے نام پر اودھم مچاتے ہوئے ہر جائز نا جائز کو اردو میں دھکیلتے نظر آتے ہیں ۔ کہتے ہیں یہ شاعری آنے والا زمانہ سمجھے گا۔ جب تخلیق کار کے فن کو اُس کا عہد اُس کے ہم عصر نہ سمجھ سکیں تو آنے والے زمانے اور نئی نسل کو کیا دلچسپی ہو گی کہ وہ سر کھپائے کے مٹی سے بھرے بوسیدہ اوراق میں لکھا کیا تھا ۔
سلیم واقف کی ٖغزل :
سچ ایک خطرناک ہتھیار ہے ، ابھی تک اردو میں اس نے جڑیں نہیں پکڑٰیں ، ابھی تک خوشامد پسندی نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ، ہم نے ابھی تک اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے کا گُر نہیں جانا اور شاید نہ جان پائیں گے ۔ ابھی تک مشرق شاہانہ خیالات سے پیچھے نہیں ہٹا اور یہ وجہ ہے کہ ہم اب تک کوئی فلاسفر یا موجد نہیں لا سکے ۔
سلیم واقف کی اِس غزل میں اس ہتھیار " سچ" کو استعمال کیا گیا اور شاعر نے کیوں کیا یہ مجھے نہیں پتہ ، اُسے چاہیے تھا وہ بات کو چھپاتا ، وہ ڈرتا پڑھنے والوں سے ، وہ بولتا جو لوگ سننا چاہتے ہیں لیکن سلیم واقف نے ایسا نہیں کیا ۔
غزل میں روانی ، ندرت اور ایک ایسی کسک جو غزل کے چند اشعار کو الگ کرتی ہے ۔ وہ بیان کیا گیا جو ہم سننا پسند نہیں کرتے ۔ " دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں " یہ بیان کس قدر سچ بولتا ہے ، وہ سچ جو برسانے والے سے لے کر بھیگنے والے تک کی تقسیم کا رونا رو رہا ہے ۔
غزل میں تقریباتی عوامل نہیں جو "ہے " وہ بیان کیا گیا ہے ، تقریباتی عوامل وہ ہیں جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کریں ۔ اکثر اشعار مصلحت سے دور ہیں اور مرے خیال میں جس فن پارے میں مصلحت آمیز عناصر پائے جاتے ہوں وہ سچ نہیں کہہ پاتا ، پھر وہ ہر کسی کو خوش کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے ۔ غزل کا الگ لہجہ اس غزل کا حاصل ہے ۔
اقسام کے زمرے میں جب بات کروں تو ساختیات اور ہیئت کے حوالے سے پہلا اور آخری شعر روایتی انداز سے پیش کیے گئے اشعار ہیں ، خاص طور پر مقطع کی ساخت اور ہیئت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا " واقف تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے " اب دنیا سے " وفا" کی طلب ہی تلازمہ بننا چاہیے اور " وفائوں " سے ہیئت پر اثر پڑا ۔
1)
پازیب کو چوما کبھی کاجل نہیں دیکھا ،
پوجا ہے جسے اُس کو مکمل نہیں دیکھا ،
شعر روایت سے جڑا ہے اور نسوانی لگائو سے متعلق ہے ، تغزل سے بھر پور ہے ۔
2)
دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں ،
صحرا پہ برستا ہوا بادل نہیں دیکھا ،
اس شعر پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے ، یہ شعر کی مدافعت کرتا ہے ، غزل کی مدافعت کرتا ہے ، جو سچ ہے وہ کہتا ہے ، بارش صحرا پر ہی کیوں نہیں برستی ؟ یا دعائوں کا مرکز صرف سر سبز میدان ہی ٹھہرے یا وہاں سے مانگی جانے والی دعا اثر نہیں رکھتی ؟ کیا دعا کا تر ہونا ضروری ہے ؟ یہ وہ سچ ہیں جو سچ ہیں ۔ اور اس شعر کا حق تحسین ہے ۔ اور نظریاتی حوالے سے مضبوط شعر ہے ۔
3)
کھدر سی تھکن اوڑھ کے جاگا ہوں میں اِک عمر ،
آنکھوں نے کبھی نیند کا ململ نہیں دیکھا ،
وہ لہجہ جو اپنی تکالیف اور مصائب کے حصے کا رت جگا بھی کاٹ رہا ہے ، اور جذبات کا عکاس شعر ہے جو احساس رکھتا ہے ۔
4)
گرمی میں کبھی ٹھنڈی ہوا تک نہیں کھائی ،
سردی میں کبھی اُون کا کمبل نہیں دیکھا ،
حاصل ِ غزل شعر ہے ، اکتشافی حوالے سے نئے خیال کے ساتھ صدیوں کا دکھ سمیٹے ہوئے ہے ۔ استدلالی فکر ، استخراجی قوت ، تمدن و ثقافت کا عکس ، تشریحی و نظریاتی حوالے سے مضبوط شعر ہے ۔
اس کائنات میں بے شمار آفاقی اصول موجود ہیں جو ساری کائنات کے لیے ایک جیسے ہیں لیکن ایک جیسے پیش نہیں کیے گئے اور یہی دکھ مجھے لے ڈوبے گا ۔ قوم گوری ہو یا کالی ، علاقہ گرم ہو یا سرد ، مذہب اسلام ہو یا کفر ، لوگ امیر ہوں یا غریب ، طرزِ زندگی جدید ہو یا قدیم ، سب انسان ہیں اور سب اُن آسائش و سہولت کے حقدار ہیں جو اس جہان میں پائی جاتی ہو ، کوئی ایسی چیز اب تک وجود میں نہیں آئی جس پر کسی مخصوص طبقے کا حق ہو ، کیا سورج مشرق سے نکلنا شروع ہوا ؟ کیا بچے عورت کی بجائے مرد نے دیے ؟ نہیں ۔۔۔۔ تو یہ تقسیم بھی ویسی کیوں نہیں جیسی اصل وقت میں کی گئی تھی ۔ اس نظریاتی بحث کو بہت عمدہ طریقے سے اس شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔
5)
واقفؔ تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے ،
سچ پوچھو تو تم سا کوئی پاگل نہیں دیکھا ۔
روایتی شعر ہے اور اِسی شعر کو میں نے غزل کے معائب میں شامل کیا ہے ، ساخیتیات اور ہیئت کے حوالے سے اس شعر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا ۔ اور کچھ نئے انکشافات کا حامل نہیں ہے جو کہ اردو غزل کے بقا کے لیے ضروری ہیں ۔
سلیم واقفؔ کو کتاب " نیند کا ململ " لانے پر مبارکباد ، مزید شعوری در کھلنے کی دعا اور نیک تمنائیں ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔
(ڈاکٹر وقار خان)
غزل ۔ سلیم واقف ( کتاب: نیند کا ململ )
پازیب کو چوما کبھی کاجل نہیں دیکھا ،
پوجا ہے جسے اُس کو مکمل نہیں دیکھا ،
دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں ،
صحرا پہ برستا ہوا بادل نہیں دیکھا ،
کھدر سی تھکن اوڑھ کے جاگا ہوں میں اِک عمر ،
آنکھوں نے کبھی نیند کا ململ نہیں دیکھا ،
گرمی میں کبھی ٹھنڈی ہوا تک نہیں کھائی ،
سردی میں کبھی اُون کا کمبل نہیں دیکھا ،
واقفؔ تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے ،
سچ پوچھو تو تم سا کوئی پاگل نہیں دیکھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید کی ابتدا اُسی وقت ہو گئی تھی جب دنیا وجود میں آنے کے بعد ایک انسان نے دوسرے انسان کے طرزِ عمل پر اعتراض اٹھایا ۔ ادبی تنقید کے ابتدائی نقوش کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ڈھائی ہزار سال پہلے ادبی تنقید کا آغاز افلاطون اور ارسطو کے نظریات سے ہوا لیکن لگ بھگ چار ہزار سال پہلے بھی تنقید کے شواہد ملتے ہیں ۔
جس طرح ادب زندگی کے حوادث اور تغیرات سے جنم لیتا ہے اُسی طرح تنقید بھی ناقدین کے اردگرد کے ماحول اور ذہنی رویوں سے متاثر ہوتی ہے ۔
میرا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ میں کسی شے کے مکمل ہونے پر یقین نہیں رکھتا لیکن میں مکمل تخلیق دیکھنا بھی چاہتا ہوں۔ اردو ادب میں یہ بات با تکرار کہی جاتی ہے کہ فلاں ادیب یا شاعر کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ، مورخ فیصلہ دے گا یا تاریخ فیصلہ رقم کرے گی یا وقت کی چھلنی سے چھن کر سب کھرا کھوٹا الگ ہو گا لیکن بات یہ ہے کہ اِسی امید پہ ہم وہ لکھنا شروع کر دیں جو ہماری تو دور اُس مخلوق کو بھی سمجھ نہ آئے جس کا ہم خیال اور قیاس کرتے ہیں ۔ تو وہ لکھو ہی کیوں جس کا کوئی مطلب نہ ہو ، " شاخِ عصر " اور اِس طرح کی تراکیب و لوازمات جن کا وجود تو کیا مطلب بھی سمجھ نہ آئے ۔ دوسرا رونا ان کا رونا پڑے گا جو جدت کے نام پر اودھم مچاتے ہوئے ہر جائز نا جائز کو اردو میں دھکیلتے نظر آتے ہیں ۔ کہتے ہیں یہ شاعری آنے والا زمانہ سمجھے گا۔ جب تخلیق کار کے فن کو اُس کا عہد اُس کے ہم عصر نہ سمجھ سکیں تو آنے والے زمانے اور نئی نسل کو کیا دلچسپی ہو گی کہ وہ سر کھپائے کے مٹی سے بھرے بوسیدہ اوراق میں لکھا کیا تھا ۔
سلیم واقف کی ٖغزل :
سچ ایک خطرناک ہتھیار ہے ، ابھی تک اردو میں اس نے جڑیں نہیں پکڑٰیں ، ابھی تک خوشامد پسندی نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ، ہم نے ابھی تک اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے کا گُر نہیں جانا اور شاید نہ جان پائیں گے ۔ ابھی تک مشرق شاہانہ خیالات سے پیچھے نہیں ہٹا اور یہ وجہ ہے کہ ہم اب تک کوئی فلاسفر یا موجد نہیں لا سکے ۔
سلیم واقف کی اِس غزل میں اس ہتھیار " سچ" کو استعمال کیا گیا اور شاعر نے کیوں کیا یہ مجھے نہیں پتہ ، اُسے چاہیے تھا وہ بات کو چھپاتا ، وہ ڈرتا پڑھنے والوں سے ، وہ بولتا جو لوگ سننا چاہتے ہیں لیکن سلیم واقف نے ایسا نہیں کیا ۔
غزل میں روانی ، ندرت اور ایک ایسی کسک جو غزل کے چند اشعار کو الگ کرتی ہے ۔ وہ بیان کیا گیا جو ہم سننا پسند نہیں کرتے ۔ " دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں " یہ بیان کس قدر سچ بولتا ہے ، وہ سچ جو برسانے والے سے لے کر بھیگنے والے تک کی تقسیم کا رونا رو رہا ہے ۔
غزل میں تقریباتی عوامل نہیں جو "ہے " وہ بیان کیا گیا ہے ، تقریباتی عوامل وہ ہیں جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کریں ۔ اکثر اشعار مصلحت سے دور ہیں اور مرے خیال میں جس فن پارے میں مصلحت آمیز عناصر پائے جاتے ہوں وہ سچ نہیں کہہ پاتا ، پھر وہ ہر کسی کو خوش کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے ۔ غزل کا الگ لہجہ اس غزل کا حاصل ہے ۔
اقسام کے زمرے میں جب بات کروں تو ساختیات اور ہیئت کے حوالے سے پہلا اور آخری شعر روایتی انداز سے پیش کیے گئے اشعار ہیں ، خاص طور پر مقطع کی ساخت اور ہیئت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا " واقف تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے " اب دنیا سے " وفا" کی طلب ہی تلازمہ بننا چاہیے اور " وفائوں " سے ہیئت پر اثر پڑا ۔
1)
پازیب کو چوما کبھی کاجل نہیں دیکھا ،
پوجا ہے جسے اُس کو مکمل نہیں دیکھا ،
شعر روایت سے جڑا ہے اور نسوانی لگائو سے متعلق ہے ، تغزل سے بھر پور ہے ۔
2)
دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں ،
صحرا پہ برستا ہوا بادل نہیں دیکھا ،
اس شعر پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے ، یہ شعر کی مدافعت کرتا ہے ، غزل کی مدافعت کرتا ہے ، جو سچ ہے وہ کہتا ہے ، بارش صحرا پر ہی کیوں نہیں برستی ؟ یا دعائوں کا مرکز صرف سر سبز میدان ہی ٹھہرے یا وہاں سے مانگی جانے والی دعا اثر نہیں رکھتی ؟ کیا دعا کا تر ہونا ضروری ہے ؟ یہ وہ سچ ہیں جو سچ ہیں ۔ اور اس شعر کا حق تحسین ہے ۔ اور نظریاتی حوالے سے مضبوط شعر ہے ۔
3)
کھدر سی تھکن اوڑھ کے جاگا ہوں میں اِک عمر ،
آنکھوں نے کبھی نیند کا ململ نہیں دیکھا ،
وہ لہجہ جو اپنی تکالیف اور مصائب کے حصے کا رت جگا بھی کاٹ رہا ہے ، اور جذبات کا عکاس شعر ہے جو احساس رکھتا ہے ۔
4)
گرمی میں کبھی ٹھنڈی ہوا تک نہیں کھائی ،
سردی میں کبھی اُون کا کمبل نہیں دیکھا ،
حاصل ِ غزل شعر ہے ، اکتشافی حوالے سے نئے خیال کے ساتھ صدیوں کا دکھ سمیٹے ہوئے ہے ۔ استدلالی فکر ، استخراجی قوت ، تمدن و ثقافت کا عکس ، تشریحی و نظریاتی حوالے سے مضبوط شعر ہے ۔
اس کائنات میں بے شمار آفاقی اصول موجود ہیں جو ساری کائنات کے لیے ایک جیسے ہیں لیکن ایک جیسے پیش نہیں کیے گئے اور یہی دکھ مجھے لے ڈوبے گا ۔ قوم گوری ہو یا کالی ، علاقہ گرم ہو یا سرد ، مذہب اسلام ہو یا کفر ، لوگ امیر ہوں یا غریب ، طرزِ زندگی جدید ہو یا قدیم ، سب انسان ہیں اور سب اُن آسائش و سہولت کے حقدار ہیں جو اس جہان میں پائی جاتی ہو ، کوئی ایسی چیز اب تک وجود میں نہیں آئی جس پر کسی مخصوص طبقے کا حق ہو ، کیا سورج مشرق سے نکلنا شروع ہوا ؟ کیا بچے عورت کی بجائے مرد نے دیے ؟ نہیں ۔۔۔۔ تو یہ تقسیم بھی ویسی کیوں نہیں جیسی اصل وقت میں کی گئی تھی ۔ اس نظریاتی بحث کو بہت عمدہ طریقے سے اس شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔
5)
واقفؔ تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے ،
سچ پوچھو تو تم سا کوئی پاگل نہیں دیکھا ۔
روایتی شعر ہے اور اِسی شعر کو میں نے غزل کے معائب میں شامل کیا ہے ، ساخیتیات اور ہیئت کے حوالے سے اس شعر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا ۔ اور کچھ نئے انکشافات کا حامل نہیں ہے جو کہ اردو غزل کے بقا کے لیے ضروری ہیں ۔
سلیم واقفؔ کو کتاب " نیند کا ململ " لانے پر مبارکباد ، مزید شعوری در کھلنے کی دعا اور نیک تمنائیں ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔
Haq-e-Tanqeed by Dr.Waqar Khan , Ghazal Mumtaz Gurmani
تنقیدی سلسلہ "حقِ تنقید"
ڈاکٹر وقار خان
غزل : ممتاز گرمانی
اردو زبان سے تعلق کا اظہار کرنے والا کوئی بھی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ زبان وسیع ہے جو ہر زبان کو اپنے اندر سما لینے کا حوصلہ رکھتی ہے سوائے انگریزی کے۔ ساخیتات ، ایک ایسا علم جو ہیئت اور اثر کو بیان کرتا ہے ، اب ساخت الفاظ کی بھی ہو سکتی ہے اور خیالات و رموز کی بھی ، لیکن ہر وہ بیان جو اپنے اندر مکمل ہو گا وہ علم ِ ساختیات کے قوانین پر پورا اترتا ہے اور اردو زبان وہ واحد زبان ہے جو شاید لاطینی اور یونانی زبانوں کے مقابلے میں اپنے اندر زیادہ اثر رکھتی ہے لیکن ہمیں احساس شاید کبھی نہ ہو ۔
مستقبل ، کسی بھی عمل کے مرحلہ وار آگے بڑھنے اور نئی ہیئت میں تبدیل ہو کر ایک نیے عمل کے ظہور کا نام ہے ۔ اردو کے مستقبل کے بارے میں بات کی جائے تو میری بتائی گئی اس تعریف کے مطابق اردو مرحلہ وار آگے بڑھی ، نئی ہیئت کی طرف رواں دواں بھی ہے ؛ لیکن کیا نئی ہیئت کے بعد ایک مکمل نئی شکل اور عمل کے ساتھ ظہور ہو سکے گی ؟ اردو کا مسقبل شاید اُن بدنصیبوں کے ہاتھوں میں ہے جنہیں ہم شاعر ، ادیب ، اور نقاد کہتے ہیں ، لیکن یہ جس طبقے کے لوگ ہیں وہ طبقہ تخلیق کی پیداوار ہے لیکن تخلیق دو طرح کی ہوتی ہے ، اچھی تخلیق اور بری تخلیق۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مسقبل کا تعین کرنے والے اچھی تخلیق کی پیداوار ہیں یا بری تخلیق کی ، کیا ذاتی مفاد اور آسانی کی خواہش میں ریاضت کو چھوڑ کر شارٹ کٹس ڈھونڈنے والے اردو کو اُس سمت میں لے کر چلنے کا فن جانتے ہیں؟
مجھے معلوم ہے آپ مری باتوں سے تنگ پڑ رہے ہوں گے لیکن مری ایک مجبوری ہے ، میں بولنا چھوڑ نہیں سکتا ، لکھنا ترک کرنا مرے لیے سانس ترک کرنے کے مترادف ہے ، میں جانتا ہوں میں کچھ نہیں ، لیکن میں اُن نظریہ دان ہستیوں کی تلاش میں سرگرداں ہو جو شاید اردو کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
کیا خبر میں کامیاب بھی ہوپائوں گا یا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ ادھر ہی موجود ہیں لیکن ہم نے اُن کو نظر انداز کر کے بری تخلیق کے حامل الفاظ کو واضح کیا ہوا ہے اور یہی تخلیق بے سود ہے ۔ بولنا ایک مشکل کام ہے اور جو بول اٹھے وہ پھر چپ نہیں کر سکتا ، اس لیے اکثر لوگ چپ رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بولنے کا ہرجانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔
آج سے تقریبا چار ہزار سال قبل ادبی تخلیق اور شعوری تنقید پر کیا گیا کام جس کا خالق خاخپ اور اسونب تھا ۔خاخب اور اسونب نے اس تخلیقی کام میں ادب اور تخلیق کو امر قرار دیا اور یہ تصنیف فراعنہ مصر کے بارہویں خاندان (1786/ 1991 ق م ) کے زمانے میں تخلیق کی گئی ۔ وہ تخلیق آج تک کیوں یاد رکھی گئی کیوںکہ اُس نے مرحلہ وار ادب اور شعور کی نئی جہتوں کو کھولا اور آج تک یاد رکھی گئی ۔ اب جب ہم افلاطون اور ارسطو کی بات کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہم ابھی اُن سے تفصیلی ملاقات کر کے آ رہے ہوں ، یہ ذرا بھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ صدیاں ہوئیں بیت چکے ہیں اور ہم میں سے بڑے سے بڑے ادیب نے بھی اُن سے ہاتھ ملا کر نہیں دیکھا ؛ جب بھی اُن کے نظریات کے بارے میں بات کی جائے تو ہم چاہے بات اردو میں کریں یا سرائیکی، انگریزی میں یا فراسیسی، عبرانی ہو یا لاطینی ، لیکن بات ایک ہی رہتی ہے کیوں کہ وہ بات صرف بات نہیں ایک تخلیق تھی ، اچھی تخلیق ، اور صرف تخلیق ہی کو بقا حاصل ہے جو آج کل بہت کم دکھائی دے رہی ہے ۔
ممتاز گرمانی کی غزل :
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
ممتاز گرمانی کی غزل ساخت ، اسلوب ، فن ، روانی اور نئے مضامین کے ساتھ مخصوص لہجے کی حامل ، نظریاتی عوامل پر مشتمل جو اپنے اندر تشریحی موضوعات رکھتی ہے۔ سلاست، مصرع سازی تغزل اور ایک حد تک روایت سے جڑی غزل ہے اور یقینا اچھی تخلیق میں شمار کی جائے گی اور یہی تخلیقی رویہ کسی بھی شاعر کی تخلیق کو زندہ رکھتا ہے ۔
معائب کی بات کی جائے تو آخری شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ممکن ہے جسے میں آخر پر بیان کروں گا ۔
1)
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
اسلوب اور عنوان کے حوالے سے خوبصورت شعر ہے جو روایت کی مضبوطی کا اظہار ہے ، تشکیل اور زبان کے حقوق کو واضح کر رہا ہے ۔ ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ ہم نے رائگانی کا فن سیکھا ہے ، اور اس انداز سے سیکھا ہے کہ یا تو رائگاں ہوئے یا رائگاں کیا ۔ فن کو جہل کی نذر کر کے اپنے مسقبل کو رائگاں جانے دیا۔ اس شعر میں یہی بیان ہوا کہ ہنر مت گنوا مرے دستکار ہنر مت گنوا ، لیکن اس معاشرے میں ہنر کی قدر ہی کیا ہے ۔
2)
نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
روایت سے جڑا انتہائی خوبصورت شعر ، تشریحی عنصر کے ساتھ ایک امید اور اپنے کام کی لے کے ساتھ بہتا ہوا شعر ہے ۔ وہ جو ہے اُس سے بہتر ہے جو ہونا ہے ، کیا پتہ ہو جو ہو گا اِس سے بھی برا ہو جو اب اچھا نہیں ہے ۔ شمار بے برکتی کا باعث ہے اور یہی شمار اب اردو کے پیچھے پڑا ہے جو اس کو سر اٹھانے نہیں دیتا ، ہر ادیب اپنی اہمیت اور حیثیت کے سکوں کو شمار کرتے نہیں تھکتا اور اس شمار کے وزن نے اردو کی کمر جھکا دی ہے ۔ عاجزی وہ شے ہے جو مفاد سے ماوراء ہے اور صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہے لیکن عاجزی بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔
3)
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
اکتشافی عوامل ، نئے عنوان کا حامل شعر جو
Descriptive Criticism
کے حوالے سے اپنی الگ اہمیت کا حامل ہے ۔" زمینِ دل پہ تہجد گزار پھول بنا " کتنا دلکش مصرعہ ہے ۔ ہم نے یہ ہی تو جانا ہے کہ جو نہیں وہ پیش کیا جائے اور جو ہے اُسے چھپایا جائے اور اس کام میں ہم کامیاب بھی ہوئے اور افسوس کے ہم انسان ہیں ، یہی المیہ اس شعر میں خوبصورتی سے بیان ہوا ہے ۔
4)
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
معاندازنہ عناصر سے دور روایت سے جڑا سہل ِ ممتنع اور اثر انگیز شعر ہے ۔ سننا بہت تکلیف دہ ہے اور صبر طلب بھی ، اور ہم نہ ہی صبر کرنے کے حامل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی تکلیف برداشت کرنے کے ، لیکن خالی ہاتھ لوٹنا تکلیف دہ نہیں ؟ شاید نہیں کیوں کہ خالی ہاتھ لوٹنا آسان ہے بجائے فکر و فقر کا بوجھ اٹھا کر آنے سے ۔ موجودہ زمانہ جلد بازی کا شکار ہے اور شاید وقت نے بھی جلد گزر کر جلد بازی کا ثبوت دیا ہے ۔ شعر میں یہی بات بیان کی گئی کہ میں نے اُس کی سنی ہی نہیں اس لیے خالی ہاتھ لوٹا؛ تشریح طلب موضوع کے ساتھ خوبصورت شعر ہے ۔
5)
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
روایت سے جڑا خوبصورت ، رواں شعر ہے اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا کہ یہ زندگی چار دن کی مہمان ہے سو اس کے واسطے چار پھول بنا ، لیکن زندگی چار دن میں چالیس صدیوں کا سفر کاٹنے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس کے لیے پھول اپنی سانسوں کی بلی دے کر اور خون سے سینچ کر بنانے پڑتے ہیں اور شاعر نے کتنی آسانی سے کہہ دیا اور یہی شعر کی خوبصورتی ہے ۔
6)
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
تشکیل ، پسِ تشکیل ، ہیئت اور ساخت ، زبان ، اسلوب ، تشریحی عوامل ، نظریاتی منطق کا حامل شعر جو مجھے دل سے اچھا لگا ۔ مجھے یہ بیان کرنے میں ذرا بھی خوف نہیں ہو گا کہ یہ اچھی تخلیق کا اچھا شعر ہے ۔ میں اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر آ کھڑا تھا جہاں دو راستے تھے ، ایک زندگی کا راستہ ، دوسرا مایوسی کا، آپ سوچیں گے زندگی کے ساتھ موت کا تلازمہ جچتا تھا لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا ، موت اتنی بڑے شے نہیں ، جس قدر مایوسی ۔ میں زندگی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا ، جینا چاہتا تھا ، لیکن سب لوگ مرا منہ چِڑا رہے تھے ، مجھے واضح الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ تُو اس قابل نہیں کہ زندگی کی راہ پر چل سکے ، پھر میں نے ایک فیصلہ کیا ، میں نے خود سے کہا کہ تم اپنا کام کرو اور لوگوں کو اُن کا کام کرنے دو۔ لوگوں کا کام بہکانا ہے سو وہ بہکاتے رہیں ، میرا کام آگے بڑھنا ہے سو میں بڑھتا رہوں ؛ اور میں آگے نکل آیا ، اُن سب سے ۔ اس شعر کوپڑھ کر کے مرے اندر کا بوجھ کم ہوا اور مجھے غرض نہیں اس بات سے کہ لوگ کیا سوچتے ہوں ۔
7)
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
جمالیاتی احساس اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا خوبصورت شعر لیکن اس شعر کو میں نے غزل کے معائب و اسقام میں شامل کیا ۔ شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ہو سکتی ہے ۔ سبز پری کے ساتھ چلنے سے ہر ایک کانٹا پھول بنا، بالکل ایسا ہو سکتا ہے ؛ خوبصورتی و روئیدگی آ ئے گی ، بالکل آ سکتی ہے ۔ سبزہ اور سبز پن خوبصورتی اور خوشحالی کی علامت ہیں ، لیکن زمیں پر "گھاس" اگنا تلازمے پر پورا نہیں اُتر رہا ۔ اب میں تفصل سے بیان کروں گا کہ "سبزہ" اور "گھاس" کی ہیئت اور ساخت میں کیا فرق ہے ۔ " سبزہ " ہریالی اور روئیدگی ہے ، جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو سکتی ہے جو ایک منظر ہے ۔ "گھاس" ایک مختلف
term
ہے جو "چارا" ہےاور جانوروں کی خوراک ہے ، اب سبز پری کے ساتھ چلنے سے سبزہ اگتا تو خوبصورتی میں اضافہ ہوتا اور اگر گھاس اگتی تو اُس منظر نامے پر اثر پڑتا جو شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک اور مثال جیسے "سبز پا" اور "سبز بخت" میں فرق ہے ، "سبز پا" کا مطلب نامبارک کے ہیں اور "سبز بخت" کا مطلب نیک بخت اور مبارک شے کے ہیں ۔ تو اس طرح اس شعر میں مزید بہتری ممکن تھی ۔
ممتاز گرمانی کے لیے نیک تمنائیں اور مزید شعوری در کھلنے کی دعا ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔
ڈاکٹر وقار خان
غزل : ممتاز گرمانی
اردو زبان سے تعلق کا اظہار کرنے والا کوئی بھی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ زبان وسیع ہے جو ہر زبان کو اپنے اندر سما لینے کا حوصلہ رکھتی ہے سوائے انگریزی کے۔ ساخیتات ، ایک ایسا علم جو ہیئت اور اثر کو بیان کرتا ہے ، اب ساخت الفاظ کی بھی ہو سکتی ہے اور خیالات و رموز کی بھی ، لیکن ہر وہ بیان جو اپنے اندر مکمل ہو گا وہ علم ِ ساختیات کے قوانین پر پورا اترتا ہے اور اردو زبان وہ واحد زبان ہے جو شاید لاطینی اور یونانی زبانوں کے مقابلے میں اپنے اندر زیادہ اثر رکھتی ہے لیکن ہمیں احساس شاید کبھی نہ ہو ۔
مستقبل ، کسی بھی عمل کے مرحلہ وار آگے بڑھنے اور نئی ہیئت میں تبدیل ہو کر ایک نیے عمل کے ظہور کا نام ہے ۔ اردو کے مستقبل کے بارے میں بات کی جائے تو میری بتائی گئی اس تعریف کے مطابق اردو مرحلہ وار آگے بڑھی ، نئی ہیئت کی طرف رواں دواں بھی ہے ؛ لیکن کیا نئی ہیئت کے بعد ایک مکمل نئی شکل اور عمل کے ساتھ ظہور ہو سکے گی ؟ اردو کا مسقبل شاید اُن بدنصیبوں کے ہاتھوں میں ہے جنہیں ہم شاعر ، ادیب ، اور نقاد کہتے ہیں ، لیکن یہ جس طبقے کے لوگ ہیں وہ طبقہ تخلیق کی پیداوار ہے لیکن تخلیق دو طرح کی ہوتی ہے ، اچھی تخلیق اور بری تخلیق۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مسقبل کا تعین کرنے والے اچھی تخلیق کی پیداوار ہیں یا بری تخلیق کی ، کیا ذاتی مفاد اور آسانی کی خواہش میں ریاضت کو چھوڑ کر شارٹ کٹس ڈھونڈنے والے اردو کو اُس سمت میں لے کر چلنے کا فن جانتے ہیں؟
مجھے معلوم ہے آپ مری باتوں سے تنگ پڑ رہے ہوں گے لیکن مری ایک مجبوری ہے ، میں بولنا چھوڑ نہیں سکتا ، لکھنا ترک کرنا مرے لیے سانس ترک کرنے کے مترادف ہے ، میں جانتا ہوں میں کچھ نہیں ، لیکن میں اُن نظریہ دان ہستیوں کی تلاش میں سرگرداں ہو جو شاید اردو کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
کیا خبر میں کامیاب بھی ہوپائوں گا یا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ ادھر ہی موجود ہیں لیکن ہم نے اُن کو نظر انداز کر کے بری تخلیق کے حامل الفاظ کو واضح کیا ہوا ہے اور یہی تخلیق بے سود ہے ۔ بولنا ایک مشکل کام ہے اور جو بول اٹھے وہ پھر چپ نہیں کر سکتا ، اس لیے اکثر لوگ چپ رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بولنے کا ہرجانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔
آج سے تقریبا چار ہزار سال قبل ادبی تخلیق اور شعوری تنقید پر کیا گیا کام جس کا خالق خاخپ اور اسونب تھا ۔خاخب اور اسونب نے اس تخلیقی کام میں ادب اور تخلیق کو امر قرار دیا اور یہ تصنیف فراعنہ مصر کے بارہویں خاندان (1786/ 1991 ق م ) کے زمانے میں تخلیق کی گئی ۔ وہ تخلیق آج تک کیوں یاد رکھی گئی کیوںکہ اُس نے مرحلہ وار ادب اور شعور کی نئی جہتوں کو کھولا اور آج تک یاد رکھی گئی ۔ اب جب ہم افلاطون اور ارسطو کی بات کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہم ابھی اُن سے تفصیلی ملاقات کر کے آ رہے ہوں ، یہ ذرا بھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ صدیاں ہوئیں بیت چکے ہیں اور ہم میں سے بڑے سے بڑے ادیب نے بھی اُن سے ہاتھ ملا کر نہیں دیکھا ؛ جب بھی اُن کے نظریات کے بارے میں بات کی جائے تو ہم چاہے بات اردو میں کریں یا سرائیکی، انگریزی میں یا فراسیسی، عبرانی ہو یا لاطینی ، لیکن بات ایک ہی رہتی ہے کیوں کہ وہ بات صرف بات نہیں ایک تخلیق تھی ، اچھی تخلیق ، اور صرف تخلیق ہی کو بقا حاصل ہے جو آج کل بہت کم دکھائی دے رہی ہے ۔
ممتاز گرمانی کی غزل :
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
ممتاز گرمانی کی غزل ساخت ، اسلوب ، فن ، روانی اور نئے مضامین کے ساتھ مخصوص لہجے کی حامل ، نظریاتی عوامل پر مشتمل جو اپنے اندر تشریحی موضوعات رکھتی ہے۔ سلاست، مصرع سازی تغزل اور ایک حد تک روایت سے جڑی غزل ہے اور یقینا اچھی تخلیق میں شمار کی جائے گی اور یہی تخلیقی رویہ کسی بھی شاعر کی تخلیق کو زندہ رکھتا ہے ۔
معائب کی بات کی جائے تو آخری شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ممکن ہے جسے میں آخر پر بیان کروں گا ۔
1)
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
اسلوب اور عنوان کے حوالے سے خوبصورت شعر ہے جو روایت کی مضبوطی کا اظہار ہے ، تشکیل اور زبان کے حقوق کو واضح کر رہا ہے ۔ ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ ہم نے رائگانی کا فن سیکھا ہے ، اور اس انداز سے سیکھا ہے کہ یا تو رائگاں ہوئے یا رائگاں کیا ۔ فن کو جہل کی نذر کر کے اپنے مسقبل کو رائگاں جانے دیا۔ اس شعر میں یہی بیان ہوا کہ ہنر مت گنوا مرے دستکار ہنر مت گنوا ، لیکن اس معاشرے میں ہنر کی قدر ہی کیا ہے ۔
2)
نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
روایت سے جڑا انتہائی خوبصورت شعر ، تشریحی عنصر کے ساتھ ایک امید اور اپنے کام کی لے کے ساتھ بہتا ہوا شعر ہے ۔ وہ جو ہے اُس سے بہتر ہے جو ہونا ہے ، کیا پتہ ہو جو ہو گا اِس سے بھی برا ہو جو اب اچھا نہیں ہے ۔ شمار بے برکتی کا باعث ہے اور یہی شمار اب اردو کے پیچھے پڑا ہے جو اس کو سر اٹھانے نہیں دیتا ، ہر ادیب اپنی اہمیت اور حیثیت کے سکوں کو شمار کرتے نہیں تھکتا اور اس شمار کے وزن نے اردو کی کمر جھکا دی ہے ۔ عاجزی وہ شے ہے جو مفاد سے ماوراء ہے اور صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہے لیکن عاجزی بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔
3)
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
اکتشافی عوامل ، نئے عنوان کا حامل شعر جو
Descriptive Criticism
کے حوالے سے اپنی الگ اہمیت کا حامل ہے ۔" زمینِ دل پہ تہجد گزار پھول بنا " کتنا دلکش مصرعہ ہے ۔ ہم نے یہ ہی تو جانا ہے کہ جو نہیں وہ پیش کیا جائے اور جو ہے اُسے چھپایا جائے اور اس کام میں ہم کامیاب بھی ہوئے اور افسوس کے ہم انسان ہیں ، یہی المیہ اس شعر میں خوبصورتی سے بیان ہوا ہے ۔
4)
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
معاندازنہ عناصر سے دور روایت سے جڑا سہل ِ ممتنع اور اثر انگیز شعر ہے ۔ سننا بہت تکلیف دہ ہے اور صبر طلب بھی ، اور ہم نہ ہی صبر کرنے کے حامل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی تکلیف برداشت کرنے کے ، لیکن خالی ہاتھ لوٹنا تکلیف دہ نہیں ؟ شاید نہیں کیوں کہ خالی ہاتھ لوٹنا آسان ہے بجائے فکر و فقر کا بوجھ اٹھا کر آنے سے ۔ موجودہ زمانہ جلد بازی کا شکار ہے اور شاید وقت نے بھی جلد گزر کر جلد بازی کا ثبوت دیا ہے ۔ شعر میں یہی بات بیان کی گئی کہ میں نے اُس کی سنی ہی نہیں اس لیے خالی ہاتھ لوٹا؛ تشریح طلب موضوع کے ساتھ خوبصورت شعر ہے ۔
5)
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
روایت سے جڑا خوبصورت ، رواں شعر ہے اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا کہ یہ زندگی چار دن کی مہمان ہے سو اس کے واسطے چار پھول بنا ، لیکن زندگی چار دن میں چالیس صدیوں کا سفر کاٹنے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس کے لیے پھول اپنی سانسوں کی بلی دے کر اور خون سے سینچ کر بنانے پڑتے ہیں اور شاعر نے کتنی آسانی سے کہہ دیا اور یہی شعر کی خوبصورتی ہے ۔
6)
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
تشکیل ، پسِ تشکیل ، ہیئت اور ساخت ، زبان ، اسلوب ، تشریحی عوامل ، نظریاتی منطق کا حامل شعر جو مجھے دل سے اچھا لگا ۔ مجھے یہ بیان کرنے میں ذرا بھی خوف نہیں ہو گا کہ یہ اچھی تخلیق کا اچھا شعر ہے ۔ میں اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر آ کھڑا تھا جہاں دو راستے تھے ، ایک زندگی کا راستہ ، دوسرا مایوسی کا، آپ سوچیں گے زندگی کے ساتھ موت کا تلازمہ جچتا تھا لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا ، موت اتنی بڑے شے نہیں ، جس قدر مایوسی ۔ میں زندگی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا ، جینا چاہتا تھا ، لیکن سب لوگ مرا منہ چِڑا رہے تھے ، مجھے واضح الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ تُو اس قابل نہیں کہ زندگی کی راہ پر چل سکے ، پھر میں نے ایک فیصلہ کیا ، میں نے خود سے کہا کہ تم اپنا کام کرو اور لوگوں کو اُن کا کام کرنے دو۔ لوگوں کا کام بہکانا ہے سو وہ بہکاتے رہیں ، میرا کام آگے بڑھنا ہے سو میں بڑھتا رہوں ؛ اور میں آگے نکل آیا ، اُن سب سے ۔ اس شعر کوپڑھ کر کے مرے اندر کا بوجھ کم ہوا اور مجھے غرض نہیں اس بات سے کہ لوگ کیا سوچتے ہوں ۔
7)
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
جمالیاتی احساس اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا خوبصورت شعر لیکن اس شعر کو میں نے غزل کے معائب و اسقام میں شامل کیا ۔ شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ہو سکتی ہے ۔ سبز پری کے ساتھ چلنے سے ہر ایک کانٹا پھول بنا، بالکل ایسا ہو سکتا ہے ؛ خوبصورتی و روئیدگی آ ئے گی ، بالکل آ سکتی ہے ۔ سبزہ اور سبز پن خوبصورتی اور خوشحالی کی علامت ہیں ، لیکن زمیں پر "گھاس" اگنا تلازمے پر پورا نہیں اُتر رہا ۔ اب میں تفصل سے بیان کروں گا کہ "سبزہ" اور "گھاس" کی ہیئت اور ساخت میں کیا فرق ہے ۔ " سبزہ " ہریالی اور روئیدگی ہے ، جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو سکتی ہے جو ایک منظر ہے ۔ "گھاس" ایک مختلف
term
ہے جو "چارا" ہےاور جانوروں کی خوراک ہے ، اب سبز پری کے ساتھ چلنے سے سبزہ اگتا تو خوبصورتی میں اضافہ ہوتا اور اگر گھاس اگتی تو اُس منظر نامے پر اثر پڑتا جو شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک اور مثال جیسے "سبز پا" اور "سبز بخت" میں فرق ہے ، "سبز پا" کا مطلب نامبارک کے ہیں اور "سبز بخت" کا مطلب نیک بخت اور مبارک شے کے ہیں ۔ تو اس طرح اس شعر میں مزید بہتری ممکن تھی ۔
ممتاز گرمانی کے لیے نیک تمنائیں اور مزید شعوری در کھلنے کی دعا ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔
Ideas of Aristotle and Ibn e Sina Explained by Dr.Waqar Khan
ارسطو نے فلسفہ نظری کی تین قسمیں بیان کی ہیں ،
ریاضیات ، طبیعات ، علم لاہوت
اس لحاظ سے ابنِ سینا نے موجودات کے حوالے سے مزید بات بڑھائی اور موجودات کی تین اقسام بیان کیں جو یہ ہیں :
1)
ایک وہ جو صرف ممکن کے ذیل میں ہیں جو صرف پیدا ہو کر فنا ہو جاتی ہیں ۔
2)
دوسری وہ ہیں جو ممکن کے ذیل میں لیکن ایک خارجی سبب سے ان میں وجوب پایا جاتا ہے یعنی وہ فانی ہونے کے باوجود باقی رہ جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
3)
تیسری قسم اس ذاتِ بر تر تک محدود ہے جو بذاتِ واجب ہے اور اسے اللہ کہتے ہیں ۔
یہ سوال اٹھایا محترمہ رضوانہ سعید نے اور اس حوالے سے ان موجودات کی مثالیں پوچھیں تو میں کچھ بیان کیں جو یہ ہیں :
ریاضیات ، طبیعات ، علم لاہوت
اس لحاظ سے ابنِ سینا نے موجودات کے حوالے سے مزید بات بڑھائی اور موجودات کی تین اقسام بیان کیں جو یہ ہیں :
1)
ایک وہ جو صرف ممکن کے ذیل میں ہیں جو صرف پیدا ہو کر فنا ہو جاتی ہیں ۔
2)
دوسری وہ ہیں جو ممکن کے ذیل میں لیکن ایک خارجی سبب سے ان میں وجوب پایا جاتا ہے یعنی وہ فانی ہونے کے باوجود باقی رہ جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
3)
تیسری قسم اس ذاتِ بر تر تک محدود ہے جو بذاتِ واجب ہے اور اسے اللہ کہتے ہیں ۔
یہ سوال اٹھایا محترمہ رضوانہ سعید نے اور اس حوالے سے ان موجودات کی مثالیں پوچھیں تو میں کچھ بیان کیں جو یہ ہیں :
1)
پہلی قسم جس کو فنا ہے ، وہ مادہ ہے ، وہ وجود ہے ، اور ہر وہ شے وجود رکھتی ہے جو محدود احاطے کی حامل ہو ، صرف خدا کا وجود نہیں وہ وجود سے ماوراء ہے ، یہ قسم انسان ، حیوان ، زمین ، پہاڑ اور ان جیسی تمام اشیاء کو اپنی حد میں رکھتی ہے ۔
2)
دوسری قسم وہ ہے جو ایک حد تک مادہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن طبیعات اور اعلیٰ علوم کی حیثیت سے بھی اوپر کا درجہ رکھتی ہے ، اصل میں وہ کچھ عجیب ہے ، اُسے نور کہیں یا کلام ، لیکن وہ اُس سے ہے جس سے یہ تمام جہان بنے ، اور اُس نے ہی اپنے کلام ِ کن سے یہ سب بنایا ، اب دیکھیں یہ مادہ بھی اسی سے بنا اس لیے اس کلام کا تعلق اس مادہ سے ہے ، وہ کلام ہی تھا جس کے ہونے سے یہ مادہ و غیر مادہ سب بنا ،
اب بات الجھانے کی بجائے سیدھی بات یہ کہ "کلام" ایک درمیانی رابطہ رہا ، وجود اور ماورائے وجود کے درمیان ، کلام ایک طرف تو اُس سے جڑا ہے جو کلیم ہے ، اور دوسری طرف اس سے جڑا ہے جسے کلام عطا ہوا اور وہ کلام کرنا نہ جانتا تھا ، کلام پہلی قسم سے بھی جڑا ہے یعنی مادہ اور انسان سے بھی ، تیسری سے بھی جڑا ہے یعنی اس واحد سے بھی ، یہ درمیانی صورت دوسری قسم جب پہلی قسم سے جڑی تو فنا کو قبول کر کے بھی بقا پا گئی کیونکہ اس کا تعلق تیسری قسم سے بھی تھا ۔ بات یہ ہے کہ جب یہ وجود سے ملی تو فنا ہوئی ، اور جب ماورائے وجود سے نکلی تو بقا رکھتی ہے ۔
علوم کی تین اقسام میں سے دوسری قسم جو ارسطو اور ابنِ سینا نے بیان کی ، دوسری قسم کو کہا گیا کہ وہ ایک حد تک طبیعات سے ماوراء اور بلند بھی ہے اور وجود سے جڑی بھی ، یہ دوسری قسم کلام ہی ہے ، جو فنا ہو کر بھی بقا کی حامل ہے ۔
کلام ایک پل ہے ان دو کے درمیان جو کلیم ہے اور جسے عطا ہوا ۔
وہ پیکر جب پیدا ہوا تو لا علم تھا ، پہلے اسے آگہی عطا کی گئی تو وہ با علم ہوا لیکن پھر بھی خاموش تھا ، وہ وقت ایسا تھا جب کسی کو کچھ بولنے اور سوال کرنے کی اجازت بھی نہ تھی ، وہ پیکر بھی خاموش تھا ، پھر اسے کلام عطا کیا گیا تو وہ بولنے لگا ، وہ کلام کرنے لگا اور آج تک کرتا آ رہا ہے ، وہ سوال کرنے لگا اُس پر بھی جس سے سوال کرنے کی طاقت عطا کی ۔
یہ کلام ہی دوسری قسم ہے جو درمیانی پل ہے فنا اور بقا کے بیچ ۔
3)
تیسری قسم وہ ہے جو مادہ اور وجود سے ماوراء ہے ۔ وہ احساس سے بھی زیادہ حساس اور جذب ہو جانے والی ہے ، اس قسم سے متعلق علم طبیعات ، ریاضیات اور فلاسفی سے ماوراء ہے جس کو تسلیم کرنے کے لیے تمام علوم کو جھکنا پڑتا ہے کیونکہ تمام علوم کی اصل وہ ہے ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔
پہلی قسم جس کو فنا ہے ، وہ مادہ ہے ، وہ وجود ہے ، اور ہر وہ شے وجود رکھتی ہے جو محدود احاطے کی حامل ہو ، صرف خدا کا وجود نہیں وہ وجود سے ماوراء ہے ، یہ قسم انسان ، حیوان ، زمین ، پہاڑ اور ان جیسی تمام اشیاء کو اپنی حد میں رکھتی ہے ۔
2)
دوسری قسم وہ ہے جو ایک حد تک مادہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن طبیعات اور اعلیٰ علوم کی حیثیت سے بھی اوپر کا درجہ رکھتی ہے ، اصل میں وہ کچھ عجیب ہے ، اُسے نور کہیں یا کلام ، لیکن وہ اُس سے ہے جس سے یہ تمام جہان بنے ، اور اُس نے ہی اپنے کلام ِ کن سے یہ سب بنایا ، اب دیکھیں یہ مادہ بھی اسی سے بنا اس لیے اس کلام کا تعلق اس مادہ سے ہے ، وہ کلام ہی تھا جس کے ہونے سے یہ مادہ و غیر مادہ سب بنا ،
اب بات الجھانے کی بجائے سیدھی بات یہ کہ "کلام" ایک درمیانی رابطہ رہا ، وجود اور ماورائے وجود کے درمیان ، کلام ایک طرف تو اُس سے جڑا ہے جو کلیم ہے ، اور دوسری طرف اس سے جڑا ہے جسے کلام عطا ہوا اور وہ کلام کرنا نہ جانتا تھا ، کلام پہلی قسم سے بھی جڑا ہے یعنی مادہ اور انسان سے بھی ، تیسری سے بھی جڑا ہے یعنی اس واحد سے بھی ، یہ درمیانی صورت دوسری قسم جب پہلی قسم سے جڑی تو فنا کو قبول کر کے بھی بقا پا گئی کیونکہ اس کا تعلق تیسری قسم سے بھی تھا ۔ بات یہ ہے کہ جب یہ وجود سے ملی تو فنا ہوئی ، اور جب ماورائے وجود سے نکلی تو بقا رکھتی ہے ۔
علوم کی تین اقسام میں سے دوسری قسم جو ارسطو اور ابنِ سینا نے بیان کی ، دوسری قسم کو کہا گیا کہ وہ ایک حد تک طبیعات سے ماوراء اور بلند بھی ہے اور وجود سے جڑی بھی ، یہ دوسری قسم کلام ہی ہے ، جو فنا ہو کر بھی بقا کی حامل ہے ۔
کلام ایک پل ہے ان دو کے درمیان جو کلیم ہے اور جسے عطا ہوا ۔
وہ پیکر جب پیدا ہوا تو لا علم تھا ، پہلے اسے آگہی عطا کی گئی تو وہ با علم ہوا لیکن پھر بھی خاموش تھا ، وہ وقت ایسا تھا جب کسی کو کچھ بولنے اور سوال کرنے کی اجازت بھی نہ تھی ، وہ پیکر بھی خاموش تھا ، پھر اسے کلام عطا کیا گیا تو وہ بولنے لگا ، وہ کلام کرنے لگا اور آج تک کرتا آ رہا ہے ، وہ سوال کرنے لگا اُس پر بھی جس سے سوال کرنے کی طاقت عطا کی ۔
یہ کلام ہی دوسری قسم ہے جو درمیانی پل ہے فنا اور بقا کے بیچ ۔
3)
تیسری قسم وہ ہے جو مادہ اور وجود سے ماوراء ہے ۔ وہ احساس سے بھی زیادہ حساس اور جذب ہو جانے والی ہے ، اس قسم سے متعلق علم طبیعات ، ریاضیات اور فلاسفی سے ماوراء ہے جس کو تسلیم کرنے کے لیے تمام علوم کو جھکنا پڑتا ہے کیونکہ تمام علوم کی اصل وہ ہے ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔
Ghazal ek jism by Dr.Waqar Khan
تصورات میں جب بھی رہا ، رہا اک جسم،
خیال ِ قرب کی نظروںمیں گھومتا اک جسم،
تمام اہلیان ِشوق منہ چُھپا تے پھریں ،
کہ اِن کے شوق کے باطن کا آئینہ اک جسم،
یہ اِس طرف کو پڑا ہانپتا ہے وصل ترا،
اور اُس طرف کو ٹوٹ پھوٹ کر گرا اک جسم،
نہ چاہتے ہوئے پھر بھی تو ہو رہا مائل،
کہ مجھ کو اپنی طرف کیوں ہے کھینچتا اک جسم،
مرے خیال میں اِس کو ہوس ہی کہتے ہیں،
میں اِک کے بعد مانگتا ہوں دوسرا اک جسم،
بغیر سوچے میں دے دوں تجھے یہ کُرہ ارض،
تُو گر نواز دے کوئی بھی من چلا اک جسم،
زہے نصیب کہ میرا نصیب ہے اک جسم،
مرا نصیب بھی کیا خوب ، کہ ترا اک جسم،
یہ شیخ صاحب کا فرمان ہے سو دیکھ میاں،
کہ سات پردوں میں لائو ڈھکا چُھپا اک جسم،
تمہا رے عشق کی ھو ابتدا تقدس سے،
مگر یقین سے کہتا ہوں انتہا اک جسم،
وہ جسم آج تہہِ خاک جا چُکا ہے وقار،
اور اُس کے ہجر میں خود کو گنوا چُکا اک جسم۔
وقار خان
خیال ِ قرب کی نظروںمیں گھومتا اک جسم،
تمام اہلیان ِشوق منہ چُھپا تے پھریں ،
کہ اِن کے شوق کے باطن کا آئینہ اک جسم،
یہ اِس طرف کو پڑا ہانپتا ہے وصل ترا،
اور اُس طرف کو ٹوٹ پھوٹ کر گرا اک جسم،
نہ چاہتے ہوئے پھر بھی تو ہو رہا مائل،
کہ مجھ کو اپنی طرف کیوں ہے کھینچتا اک جسم،
مرے خیال میں اِس کو ہوس ہی کہتے ہیں،
میں اِک کے بعد مانگتا ہوں دوسرا اک جسم،
بغیر سوچے میں دے دوں تجھے یہ کُرہ ارض،
تُو گر نواز دے کوئی بھی من چلا اک جسم،
زہے نصیب کہ میرا نصیب ہے اک جسم،
مرا نصیب بھی کیا خوب ، کہ ترا اک جسم،
یہ شیخ صاحب کا فرمان ہے سو دیکھ میاں،
کہ سات پردوں میں لائو ڈھکا چُھپا اک جسم،
تمہا رے عشق کی ھو ابتدا تقدس سے،
مگر یقین سے کہتا ہوں انتہا اک جسم،
وہ جسم آج تہہِ خاک جا چُکا ہے وقار،
اور اُس کے ہجر میں خود کو گنوا چُکا اک جسم۔
وقار خان
Subscribe to:
Comments (Atom)