Friday, 22 January 2016

Haq-e-tanqeed by Dr.Waqar Khan , ghazal saleem waqif

تنقیدی سلسلہ " حقِ تنقید "
(ڈاکٹر وقار خان)
غزل ۔ سلیم واقف ( کتاب: نیند کا ململ )
پازیب کو چوما کبھی کاجل نہیں دیکھا ،
پوجا ہے جسے اُس کو مکمل نہیں دیکھا ،
دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں ،
صحرا پہ برستا ہوا بادل نہیں دیکھا ،
کھدر سی تھکن اوڑھ کے جاگا ہوں میں اِک عمر ،
آنکھوں نے کبھی نیند کا ململ نہیں دیکھا ،
گرمی میں کبھی ٹھنڈی ہوا تک نہیں کھائی ،
سردی میں کبھی اُون کا کمبل نہیں دیکھا ،
واقفؔ تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے ،
سچ پوچھو تو تم سا کوئی پاگل نہیں دیکھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید کی ابتدا اُسی وقت ہو گئی تھی جب دنیا وجود میں آنے کے بعد ایک انسان نے دوسرے انسان کے طرزِ عمل پر اعتراض اٹھایا ۔ ادبی تنقید کے ابتدائی نقوش کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ڈھائی ہزار سال پہلے ادبی تنقید کا آغاز افلاطون اور ارسطو کے نظریات سے ہوا لیکن لگ بھگ چار ہزار سال پہلے بھی تنقید کے شواہد ملتے ہیں ۔
جس طرح ادب زندگی کے حوادث اور تغیرات سے جنم لیتا ہے اُسی طرح تنقید بھی ناقدین کے اردگرد کے ماحول اور ذہنی رویوں سے متاثر ہوتی ہے ۔
میرا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ میں کسی شے کے مکمل ہونے پر یقین نہیں رکھتا لیکن میں مکمل تخلیق دیکھنا بھی چاہتا ہوں۔ اردو ادب میں یہ بات با تکرار کہی جاتی ہے کہ فلاں ادیب یا شاعر کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ، مورخ فیصلہ دے گا یا تاریخ فیصلہ رقم کرے گی یا وقت کی چھلنی سے چھن کر سب کھرا کھوٹا الگ ہو گا لیکن بات یہ ہے کہ اِسی امید پہ ہم وہ لکھنا شروع کر دیں جو ہماری تو دور اُس مخلوق کو بھی سمجھ نہ آئے جس کا ہم خیال اور قیاس کرتے ہیں ۔ تو وہ لکھو ہی کیوں جس کا کوئی مطلب نہ ہو ، " شاخِ عصر " اور اِس طرح کی تراکیب و لوازمات جن کا وجود تو کیا مطلب بھی سمجھ نہ آئے ۔ دوسرا رونا ان کا رونا پڑے گا جو جدت کے نام پر اودھم مچاتے ہوئے ہر جائز نا جائز کو اردو میں دھکیلتے نظر آتے ہیں ۔ کہتے ہیں یہ شاعری آنے والا زمانہ سمجھے گا۔ جب تخلیق کار کے فن کو اُس کا عہد اُس کے ہم عصر نہ سمجھ سکیں تو آنے والے زمانے اور نئی نسل کو کیا دلچسپی ہو گی کہ وہ سر کھپائے کے مٹی سے بھرے بوسیدہ اوراق میں لکھا کیا تھا ۔
سلیم واقف کی ٖغزل :
سچ ایک خطرناک ہتھیار ہے ، ابھی تک اردو میں اس نے جڑیں نہیں پکڑٰیں ، ابھی تک خوشامد پسندی نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ، ہم نے ابھی تک اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے کا گُر نہیں جانا اور شاید نہ جان پائیں گے ۔ ابھی تک مشرق شاہانہ خیالات سے پیچھے نہیں ہٹا اور یہ وجہ ہے کہ ہم اب تک کوئی فلاسفر یا موجد نہیں لا سکے ۔
سلیم واقف کی اِس غزل میں اس ہتھیار " سچ" کو استعمال کیا گیا اور شاعر نے کیوں کیا یہ مجھے نہیں پتہ ، اُسے چاہیے تھا وہ بات کو چھپاتا ، وہ ڈرتا پڑھنے والوں سے ، وہ بولتا جو لوگ سننا چاہتے ہیں لیکن سلیم واقف نے ایسا نہیں کیا ۔
غزل میں روانی ، ندرت اور ایک ایسی کسک جو غزل کے چند اشعار کو الگ کرتی ہے ۔ وہ بیان کیا گیا جو ہم سننا پسند نہیں کرتے ۔ " دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں " یہ بیان کس قدر سچ بولتا ہے ، وہ سچ جو برسانے والے سے لے کر بھیگنے والے تک کی تقسیم کا رونا رو رہا ہے ۔
غزل میں تقریباتی عوامل نہیں جو "ہے " وہ بیان کیا گیا ہے ، تقریباتی عوامل وہ ہیں جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کریں ۔ اکثر اشعار مصلحت سے دور ہیں اور مرے خیال میں جس فن پارے میں مصلحت آمیز عناصر پائے جاتے ہوں وہ سچ نہیں کہہ پاتا ، پھر وہ ہر کسی کو خوش کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے ۔ غزل کا الگ لہجہ اس غزل کا حاصل ہے ۔
اقسام کے زمرے میں جب بات کروں تو ساختیات اور ہیئت کے حوالے سے پہلا اور آخری شعر روایتی انداز سے پیش کیے گئے اشعار ہیں ، خاص طور پر مقطع کی ساخت اور ہیئت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا " واقف تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے " اب دنیا سے " وفا" کی طلب ہی تلازمہ بننا چاہیے اور " وفائوں " سے ہیئت پر اثر پڑا ۔
1)
پازیب کو چوما کبھی کاجل نہیں دیکھا ،
پوجا ہے جسے اُس کو مکمل نہیں دیکھا ،
شعر روایت سے جڑا ہے اور نسوانی لگائو سے متعلق ہے ، تغزل سے بھر پور ہے ۔
2)
دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں ،
صحرا پہ برستا ہوا بادل نہیں دیکھا ،
اس شعر پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے ، یہ شعر کی مدافعت کرتا ہے ، غزل کی مدافعت کرتا ہے ، جو سچ ہے وہ کہتا ہے ، بارش صحرا پر ہی کیوں نہیں برستی ؟ یا دعائوں کا مرکز صرف سر سبز میدان ہی ٹھہرے یا وہاں سے مانگی جانے والی دعا اثر نہیں رکھتی ؟ کیا دعا کا تر ہونا ضروری ہے ؟ یہ وہ سچ ہیں جو سچ ہیں ۔ اور اس شعر کا حق تحسین ہے ۔ اور نظریاتی حوالے سے مضبوط شعر ہے ۔
3)
کھدر سی تھکن اوڑھ کے جاگا ہوں میں اِک عمر ،
آنکھوں نے کبھی نیند کا ململ نہیں دیکھا ،
وہ لہجہ جو اپنی تکالیف اور مصائب کے حصے کا رت جگا بھی کاٹ رہا ہے ، اور جذبات کا عکاس شعر ہے جو احساس رکھتا ہے ۔
4)
گرمی میں کبھی ٹھنڈی ہوا تک نہیں کھائی ،
سردی میں کبھی اُون کا کمبل نہیں دیکھا ،
حاصل ِ غزل شعر ہے ، اکتشافی حوالے سے نئے خیال کے ساتھ صدیوں کا دکھ سمیٹے ہوئے ہے ۔ استدلالی فکر ، استخراجی قوت ، تمدن و ثقافت کا عکس ، تشریحی و نظریاتی حوالے سے مضبوط شعر ہے ۔
اس کائنات میں بے شمار آفاقی اصول موجود ہیں جو ساری کائنات کے لیے ایک جیسے ہیں لیکن ایک جیسے پیش نہیں کیے گئے اور یہی دکھ مجھے لے ڈوبے گا ۔ قوم گوری ہو یا کالی ، علاقہ گرم ہو یا سرد ، مذہب اسلام ہو یا کفر ، لوگ امیر ہوں یا غریب ، طرزِ زندگی جدید ہو یا قدیم ، سب انسان ہیں اور سب اُن آسائش و سہولت کے حقدار ہیں جو اس جہان میں پائی جاتی ہو ، کوئی ایسی چیز اب تک وجود میں نہیں آئی جس پر کسی مخصوص طبقے کا حق ہو ، کیا سورج مشرق سے نکلنا شروع ہوا ؟ کیا بچے عورت کی بجائے مرد نے دیے ؟ نہیں ۔۔۔۔ تو یہ تقسیم بھی ویسی کیوں نہیں جیسی اصل وقت میں کی گئی تھی ۔ اس نظریاتی بحث کو بہت عمدہ طریقے سے اس شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔
5)
واقفؔ تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے ،
سچ پوچھو تو تم سا کوئی پاگل نہیں دیکھا ۔
روایتی شعر ہے اور اِسی شعر کو میں نے غزل کے معائب میں شامل کیا ہے ، ساخیتیات اور ہیئت کے حوالے سے اس شعر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا ۔ اور کچھ نئے انکشافات کا حامل نہیں ہے جو کہ اردو غزل کے بقا کے لیے ضروری ہیں ۔
سلیم واقفؔ کو کتاب " نیند کا ململ " لانے پر مبارکباد ، مزید شعوری در کھلنے کی دعا اور نیک تمنائیں ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

No comments:

Post a Comment