Friday, 22 January 2016

Tanqeed by DR.WAQAR KAHN , Ghazal Faisal imam rizvi

حقِ تنقید
(ہفتہ وار سلسلہ)
ڈاکٹر وقارخان ۔
غزل برائے تنقید ۔: فیصل امام رضوی ۔
کتاب: ہم بچھڑنے والے ہیں ۔

اردو تنقید کا آغاز انیسویں صدی سے ہوا اور اکیسویں صدی میں داخل ہو کر بھی اردو ادب مغربی ادبیات کے اقتباسات سے بھر گیا ، یہاں کسی کو شعور، ساختیات، پسِ ساختیات، تشکیل، رد تشکیل اور جدیدیت ، ما بعد جدیدیت کی سمجھ ہی پیدا نہیں ہوئی ، چونکہ مغرب میں یہ رواج چل رہا تھا تو اردو کے متوالے بھی سر دھنتے چل پڑے ۔ جدیدیت کا رونا رو رو کر میری اور ظفر اقبال کی آنکھیں سُوج گئیں اور شاید ہم دونوں باز نہ آئیں ۔
اپنی مرضی تھوپنا اور بات ہے ، رائے دینا اور تنقید اور بات ہے ، یونانی زبان میں ایک لفظ
“crenien”
بہت استعمال ہوا ہے جس کے معنی محاکمہ کرنے کے ہیں لیکن افسوس کہ ہمیں اپنی مرضی تھوپنے کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔

ٹی ۔ایس۔ ایلیٹ سے اختلاف :
T.S.Eliet
کے خلاف بھی کچھ بولتا ہوں لیکن ڈر ہے کہ بہت سے لوگ جو مغربی مقولے اور حوالے دے کر خود کو نقاد سمجھتے ہیں وہ برا مان جائیں گے ۔

ٹی ایس ایلیٹ اپنے مقالے میں لکھتے ہیں :
" تنقید نہ تو سائنس ہے اور نہ سائنس بن سکتی ہے ، ادبی ذوق مطالعہ ہے ، اور ذوق کی سائنسی تشریح یا درجہ بندی ممکن نہیں "
اب ٹی ایس ایلیٹ پہلے خود اپنی بات کی نفی اس انداز سے کرتے ہیں :
" شاعر کا ذہن ایک ذنبیل ہے جو لا تعداد احساسات ، جملوں اور تصوراتی نقوش یا تمنائوں کو سمیٹے اور ذخیرہ کیے ہوئے ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اجزاء جو مل کر نیا مرکب بنا سکتے ہوں ، فنی عمل کی شدت کو جذبات جو محض اجزائے ترکیبی ہیں ، وہ شدت سے زیادہ اہم ہیں "

ورڈز ورتھ کہتے ہیں جس سے میں خوش ہوا :
" شاعری محض حصولِ مسرت کا ذریعہ نہیں ، بلکہ حصولِ علم کا ذریعہ ہے ، شاعری علم کے جسم میں سانس کی مانند ہے "

میں اب نفسیات کے حوالے سے بات کروں گا ، ایک ماہرِ نفسیات شعور ، لاشعور اور تحت الشعور کے مطالعے سے مریض کی حالت جان لیتا ہے ، شاعری کیا ہے ، شعور، لا شعور کی باتیں، دل اور دماغ کی باتیں، دل اور دماغ سائنس کی بنیاد ہیں ، شعور سائنس کی روح ہے تو شعور کی اصل ادب اور شاعری ہے ، تو گویا تنقید اور ادب سائنس سے پہلے سے موجود ہیں اور ان کے وجود سے سائنس نے جنم لیا۔
اور مجھے اس معاملے پر
T.S.Eliet
سے معذرت کے ساتھ اختلاف رہا۔

فیصل امام رضوی کی غزل :
سائنس اور ادب ایک شے ہے ، اور میں اس فلسفے کی الجھن میں غزل کو اس فلسفے کے دائرہ کار میں لانے کی کوشش میں بات کا آغاز کروں گا۔
غزل روایتی ہے اور نو مولود جدیدیت سے دور مابعد جدیدیت کے عنصر کے ساتھ اپنا الگ رنگ رکھتی ہے ۔ تغزل ، روانی ، سلاست اور سہلِ ممتنع کی بہترین مثال ہے ۔ ساری بات جو اب تک میں بیان کی اُس میں ادب اور لطافت کو قریب لانے کی کوشش کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ احساس اور جذبات کی شدت وہ مرکبات ہیں جو سائنس کی بنیاد ہیں۔ اب شاعر نے خیال میں چاند پر جانے کی بات پہلے کی اور سائنس نے مختلف سیاروں پہ جانے کی تحقیق بعد میں شروع کی ۔ فیصل امام کی غزل میں روایتی انداز کی چاشنی ، اسلوب ، زبان، موضوع ، ذریعہ ء اظہار اور جمالیاتی عنصر جو اس غزل کو منفرد کر رہا ہے ۔ اور یہی احساسات نئے عوامل کا پیش خیمہ ہیں۔

معائب کی جب بات کریں تو ایک شعر میں فنی حوالے سے کچھ بہتری ممکن تھی ۔
یہ سیہ رات عجب مجھ کو مزہ دیتی ہے ،
کوئی تصویر اندھیرے میں بنا دیتی ہے ،

میں تو دانستہ اُسے بھول کے سو جاتا ہوں ،
اُس کی آواز مجھے روز جگا دیتی ہے ،

رشتہء دل ہے کسی ایسی فضا سے میرا ،
جو مرے زخم کو ہر روز ہوا دیتی ہے ،

ایک شہزادی مرے خواب میں آ جاتی ہے ،
مجھ کو پل بھر میں وہ شہزادہ بنا دیتی ہے ،

پوچھتے رہتے ہیں سب مجھ سے یہاں ماہ و نجوم ،
رات کیا چیز ہے فیصل تجھے کیا دیتی ہے ۔
فیصل امام رضوی ۔
1)
یہ سیہ رات عجب مجھ کو مزہ دیتی ہے ،
کوئی تصویر اندھیرے میں بنا دیتی ہے ،
سہل ِ ممتنع اور لطافت کی مثال ہے ، رات کی سیاہی سے گھبرا جانے کی بجائے اُس میں ایک امید کی تصویر کو اپنے لیے روشنی قرار دیا ہے جو رات کا اندھیرا خود اُس روشنی کو لا کر راستہ دکھاتا ہے ۔ اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت ہر شے سے کچھ نئے وجودات اور نظریات کو ڈھونڈنے میں لگ جاتا ہوں اور اس شعر نے نیا مطلب دے دیا۔
2)
میں تو دانستہ اُسے بھول کے سو جاتا ہوں ،
اُس کی آواز مجھے روز جگا دیتی ہے ،
سہل ممتنع اور تغزل سے بھر پور شعر۔ روایتی انداز ۔ اب روایت سے جڑا ہونا ہی بقا ہے ، روایت سے دور بھاگنا بڑائی نہیں لیکن روایت سے نیا رخ نکالنا فن ہے ۔
3)
رشتہء دل ہے کسی ایسی فضا سے میرا ،
جو مرے زخم کو ہر روز ہوا دیتی ہے ،
یہ شعر معائب میں شمار کیا اور اِس شعر میں فنی حوالے سے مزید بہتری ممکن تھی ۔ اب بات کو گھمانے پھرانے کی بجائے جب میں اس شعر کو سلیس پیش کروں تو
" میرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو مرے زخم کو روز ہوا "دیتا" ہے "
لیکن شاعر نے یہاں لکھا کہ " مرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو مرے زخم کو روز ہوا "دیتی " ہے ۔ اب بات یہ ہے کہ "رشتہ " ہوا دیتا ہے ، دیتی غلط ہے ۔
اور اب شاعر نے جس حوالے سے کہا ہے وہ یہ " میرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو فضا مرے زخم کو روز ہوا دیتی ہے "
اب یہاں شاعر واضح نہیں کر سکا کہ وہ "فضا" ہوا دیتی ہے یا " رشتہ " ہوا دیتا ہے ۔ لیکن شاعر نے "رشتہ ہوا دیتی ہے " لکھا جو کہ غلط ہوا۔ " ہوا دینا " محاورہ ہے جو "فضا" کے ساتھ نہیں جچتا ،مثال کے طور پر" یہ فضا مرے زخم کو ہوا دے رہی ہے " ، تو شعر کہیں لڑکھڑا گیا۔
اب اسی شعر کے خیال پر بیان کرتا چلوں تو اُس فضا پر بین کرنے کو جی چاہتا ہے جس فضا نے ہمیں رونا سکھایا، ایک ایسا المیہ جو اس شعر میں بیان ہوا وہ ادب کی بقا ہے اور صرف اُس وقت جب پہچان لیا جائے ۔ ہم ایسی فضا میں موجود ہیں جہاں سانس لینا منع ہے ، لکھنا وہ ہے جو معاشرے کو اچھا لگے چاہے وہ معاشرے کی ضرورت ہو نہ ہو ، بس اُس فضا کی چاپلوسی ضروری ہے جس فضا نے ہمیں معاشرتی حوالے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا کیا۔
4)
ایک شہزادی مرے خواب میں آ جاتی ہے ،
مجھ کو پل بھر میں وہ شہزادہ بنا دیتی ہے ،

مکمل شعر ، سادہ ، لطیف ، جذباتیت اور حساسیت پر مبنی جسے پڑھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شہزادی آ کر خواب کو حقیقت میں بدل دے گی ۔ سحر طاری کر دینے والا شعر جو کرافٹ کے حوالے سے بھی بہترین شعر ہے اور حق ادا کر رہا ہے ۔
5)
پوچھتے رہتے ہیں سب مجھ سے یہاں ماہ و نجوم ،
رات کیا چیز ہے فیصل تجھے کیا دیتی ہے ۔
روایتی شعر ہے، نفاست اور روانی کے حوالے سے بہترین شعر ہے ۔
فیصل امام رضوی کو کتاب " ہم بچھڑنے والے ہیں " کی اشاعت پر مبارک باد، مزید شعوری در کھلنے کی دعا اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقارخان۔

No comments:

Post a Comment