Interview Of Dr.Waqar Khan by Faheem Manjhota Urdu Columns
شعر
لکھنا اور کہنا ایک خدا داد صلاحیت ہے اور انسان ازل سے انپے احساسات
اورجذبات کو بیان کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتا رہاہے نوجوان نسل کے چند
شعراء ایسے ہیں جنہوں نے بہت کم عرصے میں کامیابی کی بلدیوں کا چھوا ہے
اور بہت جلد مقبولیت حاصل کی انہیں میں سے کوٹ سلطان کی سرزمین سے تعلق
رکھنے والے ایک شاعر وقار خان بھی ہیں جنہوں نے بہت کم عرصہ میں اپنی شاعری
اور خوبصورت لب ولہجہ کی وجہ سے شا عری میں خوب نام کمایا ہے اور اب تک
شاعری کے میدان میں مختلف 22 ا یوارڈ بھی اپنے نام کر چکے ہیں ، 4اپریل
1994کو کوٹ سلطان میں پیدا ہونے والے اس خوبصورت لب و لہجہ کے نوجوان شاعر
سے گذشتہ روز صبح پاکستاننے جو بات چیت کی آپ قارئین کی نظر ہے ۔
صبح پاکستان:.۔اپنا مختصر تعارف کر ا دیں ؟
وقار خان۔میرا نام وقار خان ہے اور میں 4اپریل 1994 کو کوٹ سلطان میں پیدا
ہو ا ،ابتدائی تعلیم کوٹ سلطان سے حاصل کی آج کل نشتر میڈیکل کالج ملتان
میں ایم بی بی ایس کا طالب علم ہوں
صبح پاکستان۔میڈیکل اور شاعری دوالگ الگ اور مشکل شعبے ہیں کیسے کر لیتے ہیں ؟
وقار خان۔شاعر بنتے نہیں شاعر پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی شعوری کوشش سے
شعرکہے جا سکتے ہیں میرے نزدیک شعور کی ضرورت ہے اور محنت انسا ن کو کہا ں
سے کہا ں لے جاتی ہے ،شاعر میں پہلے تھا ،ڈاکٹر میں بعد میں بنا ،میڈیکل
مشکل ہوتی ہے مگر شاعری میں نہیں ،
صبح پاکستان۔ پہلا شعر کب اور کونسا کہا ؟
وقار خان۔شعر میں آٹھویں جماعت سے کہ رہا ہوں،پہلے ٹوٹے پھوٹے شعر کہا
کرتا تھا مگر نویں جماعت سے غزل کہنا شروع کردی او ر مقابلاتی اور طرحی غزل
بھی کہنے لگا
اس شخص کو اجالوں کا سمجھا گیا خدا
اک شمع تک بھی جس سے جلائی نہ گئی،
یہ میر ی پہلی غزل کا ایک شعر ہے۔
صبح پاکستان:.۔کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب شاعر ایک ناکام عاشق ہوتاہے ،آپ کیا کہیں گے ؟
وقار خان۔شاعری اور عشق کا تعلق ضرور ہے مگر لازم نہیں کہ یہ عشق مجازی ہو
اور معشوقانہ چکر پہ مبنی ہو ایک بے چینی اور ایک اضطراب ایک شاعر میں
ہوتاہے اور عشق سے بھی تو اس لحاظ سے مماثلت ہو سکتی ہے لازم نہیں کہ ہر
شاعر عاشق ہو یا ہر عاشق شاعر ہو ۔میرا ایک شعر ہے
یہ عشق ماورائے وجود و نبود ہے ڈونڈھا گیا مگر اسے کون و مکان میں۔
عشق تو یہاں کا ہے ہی نہیں پھر کون عاشق اور کون معشوق
صبح پاکستان۔غزل کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی شاعری کی ؟
وقار خان۔جی میں نے نظم اور نثر بھی لکھی ہے اور افسانہ بھی اورہر وہ صفت
سخن معزز جو اپنا حق ادا کر رہی ہو ہے اور جس صنف میں لکھا جائے ایسے لکھا
جائے کہ لکھنے کا حق ادا ہو جائے ۔
صبح پاکستان:.۔کیا آپ باقاعدہ مشاعروں میں بھی شرکت کرتے ہیں ؟
وقار خان۔سخن سرائے پاکستان کے نام سے ہماری ایک تنظیم ہے جس کے زیر اہتما
م مشاعرے ہم خود کرواتے ہیں جس میں ملک بھر کے عالمی شہرت یافتہ شعرا ء
کرام آتے ہیں اور مشاعرے بے شمار پڑھے ہیں پہلا مشاعری اعتبار ساجد اور ضیا
ثاقب بخاری کے ساتھ پڑھا،اس کے علاقہ ملتان ،فیصل آباد ،بہاولپور،لاہور
،میانوالی ،خانپو ، ڈیرہ غازی خان اور تمام شہروں میں بارہا مشاعرے پڑھے
ہیں۔ دوستوں کی محبت ہے کہ وہ روز یاد کیے ہوئے ہیں ۔
صبح پاکستان۔:.صوفی ازم کے بارے آپ کیا کہیں گے ؟
وقار خان۔صوفی ،انسان ،ذات،خدا کتابیں یہ سب کیا ہیں ؟ ،میری شاعری عشق
معشوقی اور روزی روٹی کے رونے دھونے پہ نہیں میں چاہتاہوں پہچان لوں خود کو
اور اس کو جس نے بنایا ،اس کو جس نے بہکایا ،اس کو جس نے رلایا ،اس کو جس
نے سدھارا،صوفی ہونا بڑی بات نہیں خیال کے اس راستے کو ظاہر کرنا چاہیے جس
پر چل کر لوگ اپنی منزل کو پہنچتے ہیں ،میں تو بس ایک ادھورا سا شاعر ہوں۔
صبح پاکستان:.۔کیا آپ کی شاعری کی کوئی کتاب بھی آ چکی ہے ؟
وقار خان۔ابھی تک کتاب تو نہیں آ سکی ،مگر میرا کلام مختلف اخبارات
،میگزین اور رسائل میں چھپتا رہا ہے ،پاکستا ن کے علاوہ انڈیا کے میگزین
میں بھی میرا کلام چھپا ہے میری ایک نظم انگلش میں ٹرانسلیٹ ہو کر بھی چھپ
چکی ہے میری کتا ب تکمیل کے مراحل میں ہے اور بہت جلد آ جائے گی ۔
صبح پاکستان::..۔شاعری میں کس سے متاثرہیں ؟
وقار خان ۔میں سب سے زیادہ اپنی ماں سے متاثر ہوں اور پہلا شعور مجھے اپنی
ماں سے ملا،اس کے علاوہ ساغر صدیقی سے پھر غالب اور آ کر رکا جون ایلیا ء
پر اور مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ میں ان سے مل نہیں سکا،میں جون ایلیا کو
صدی کا شاعر کہتاہوں ۔
زندگی ملی کبھی تو گلہ کریں گے پر،
زندگی ملی نہیں تو گلہ کیا نہیں،
زخم کی نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکا ،
تو وقار خان ہے جون ایلیا نہیں۔
صبح پاکستان:.۔شاعری میں اصلاح کس سے لیتے ہیں ؟
وقار خان۔ میں شاعری میں اصلاح کسی سے نہیں لی اور نہ ہی باقاعدہ طور پر
کسی کو شاگرد رہاہوں ، شروع کی شاعری اپنے اردو کے استاد طار مسعود مہار کو
ایک بار سنائی تھی پھر ملتان آنے کے بعد کچھ غزلیں ضیا ثاقب بخاری کو بھی
دکھائیں ۔
صبح پاکستان:.۔آج کا نوجوان کتاب سے دور کیوں ہے ؟
وقار
خان۔ادب ،کتاب،شعور،روایت یہ سب مذاق بن چکا ہے آج کا نوجوان سار ا دن انٹر
نیٹ پر گزار دیتاہے اور اس کو ادب سے کوئی دلچشپی نہیں رہی میر ا خیا ل
میں اس سلسلہ میں والدیں کا قصور بھی ہے جو پیسا کمانے کی دوڑ میں اپنے
بچوں کی صحیح پر ورش نہیں کرتے اور ان کو صرف وقت کی ڈور میں ڈال دیتے ہیں
جو وقت کی دوڑ میں تو آگے نکل جاتے ہیں مگر ان میں انسان کہیں بھٹکتا رہ
جاتاہے
صبح پاکستان۔ انیسوں صدی کے شعرا بارے آپ کا کیا خیال ہے ؟
وقار خان۔شاعری ہوتی رہی ہے ہر عہد میں لیکن تقاضے بدلتے رہے انیسویں صدی
میں بڑے بڑے شاعر گزرے ہیں جو شاید اب یہ صدی جنم نہ دے سکے ۔
صبح پاکستان:.۔موجود دور کی شاعری کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟
وقار خان۔موجودہ دور میں بھی شاعری ہو رہی ہے مگر میں اس سے مطمئن نہیں
ہوں اور غزل مکمل طور پر بدل چکی ہے چاہیے تو یہ تھا کہ ہم غزل کے تقاضوں
کو دیکھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھاتے مگر ہم نے ایسا نہ کیا ،ہر عہد میں ادب
تخلیق ہو تا رہا ہے مگر اس وقت جس مشکل مراحل سے ہم گزر رہے ہیں مجھے نہایت
ہی افسوس اور تشویش کے ساتھ کہنا پڑ رہاہے کہ جس رو پر ہمارا ادب تیزی سے
جار ہے مجھے لگتاہے اس سے ہمارے اد ب کی عمر کم ہوتی جا رہی ہے ۔
صبح پاکستان:.۔آج کل شاعری میں جدت نام کا لفظ استعمال کیا جا رہاہے ،کیا کہیں گے اس پر ؟
وقار خان۔آج کل نئے شعراء پر جدت کا بھوت سوار ہے اور وہ جس طرح انگریزی
کے الفاظ اور بے تکے الفاظ اور لوازمات استعمال میں لا رہے ہیں اس سے شعر
کی عمر کم ہو جائے گی اور یہ خطر ناک حد تک آنے والے ادوار میں مشکلات پید ا
کر دے گا،جدت نئے خیال اور نئے مضامین شامل کرنے کا نام ہے نہ کہ بے تکے
اور بے معنی لوازمات کے استعمال کا ، اردو کو لشکری زبان سے کھچڑی زبان
بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔
صبح پاکستان:.۔آپ کی مادری زبان سرائیکی ہے مگر آپ اردو شاعر ہیں ۔۔کیوں ؟
وقار خان۔زبان کسی کی ملکیت نہیں جو مزاج کو بھا جائے وہ راس آ جاتی ہے
،میری مادری زبان سرائیکی ہے میں اس میں بھی کچھ کرنا چاہوں گا مگر اردو
میرے مزاج میں شامل ہے زبان کو ئی بھی ہو ادب ضروری ہے
صبح پاکستان:۔نوجوان شعرا کے نام کیا پیغام دیں گے ؟
وقار خان۔نئے شعراء کو ایک پیغام دوں گاکہ اپنے مشاہدات اور احساسات کولے
کے آئیں ،زمانے کے ساتھ لکھنا سیکھو ،کیوں ان سے مستعار لیتے ہو جو چلے گئے
ہیں ،شعر کہو اور شاعری کا حق ادا کر دو۔
نمونہ کلا م
غزل
میرے اپنوں کو مرے سامنے مارا تُو نے ،
پُل صراط ایسی ہی ہے ؟ جس سے گزارا تُو نے ؟
تیرے سینے پہ اترتا تو کوئی بات بھی تھی ،
مجھ کو بنجر سی زمیں پر ہی اتارا تُو نے ،
تُجھ سے چھِن جائے سہارا تو پتہ چل جائے ،
اے خدا چھین لیا میرا سہارا تُو نے ،
مجھ کو احساس ہے کہ میں ہی غلط ہوں لیکن،
جو کیا ٹھیک کیا ؟ سارے کا سارا تُو نے ؟
اُس کے چُلو میں جو آیا تو وہ زم زم نکلا،
اور سمندر بھی دیا مجھ کو تو کھارا تُو نے ،
روح کی روح کو بھی وار دیا تُجھ پہ وقارؔ ،
اور مٹی کا کیا جسم بھی پیار ا تُو نے ۔
انٹر ویو :۔۔۔۔۔۔۔ملک فہیم منجوٹھہ
No comments:
Post a Comment