زیادہ سوچنے والے تجھے پتہ نہیں ہے ،
جو تجھ کو سینے لگاتا ہے وہ ترا نہیں ہے ،
وہاں پہ ہم بھی ہیں موجود ڈھونڈنے والی ،
سو تیرے دل میں اکیلا ترا خدا نہیں ہے ،
تمہیں پتہ ہے کہ تم کس لیے ہوئے ہو ذلیل ؟
تمہارے پاس کوئی اپنا نظریہ نہیں ہے ،
ہیں بد دماغ مری طرح میرے سارے دوست ،
کوئی بھی دنیا کے بارے میں سوچتا نہیں ہے ،
اے لڑکی تجھ کو بھلا مجھ میں کیا نظر آیا ؟
وقارؔ خام صفت تیرے کام کا نہیں ہے
ڈاکٹر وقار خان

No comments:
Post a Comment