Friday, 22 January 2016

Nazm Aib by Dr.Waqar Khan

"عیب"
یہ ایک لفظ برا جو کہ ایک لفظ ہے بس
تو کیا برائی ہے اس لفظ کا قصور ہے کیا
تو کیا یہ ٹھیک ہے اس کو برا ہی کہتے رہیں
یہ رات جو کہ اندھیری ہے کیوں اندھیری ہے
بس ایک رات کو ہی کیوں اندھیر کر دیا ہے
یہ کالی رات ہے کتنے ہی راز رکھے ہوئے
اور ایک ہم ہیں کہ رب کا بھی راز رکھتے نہیں
یہ اک گناہ کہ جس کا وجود ہے یا نہیں
گناہ کرتے ہیں یا پھر گناہ ہوتا ہے
گناہ کر کے معافی کا راستہ کیوں ہے
گناہ کرنا ہے تو پھر قبول بھی تو کرو
وہ شوق رکھتے ہو اور حوصلہ نہیں رکھتے
یہ ایک جھوٹ جو تم بولتے تو ہو لیکن
یہ جھوٹ بھی تو تمہاری ہی خامیوں سے بنا
یہ جھوٹ جو کہ کبھی جھوٹ ہی نہیں کہتا
یہ جھوٹ جس کے سہارے تمہارے کام چلیں
یہ جھوٹ جو کہ کئی کڑوے سچ چھپائے ہوئے
اور ایک تم کہ اسے اپنا مانتے ہی نہیں
یہ ساری خامیاں ، یہ سارے عیب، سارے نقص
تمہارے فحش کبی جسم کو ڈھکے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر وقارخان۔

No comments:

Post a Comment