Friday, 22 January 2016

Tanqeed by Dr.Waqar Khan , ghazal Amar Iqbal Karachi

تنقیدی سلسلہ
حق ِ تنقید
ڈاکٹر وقار خان ۔
غزل: عمار اقبال (کراچی)

اردو، ادب، تخلیق ، زبان اور فن ایسا مذاق بن چکے جو شاید اب ہم جیسے لوگوں تک محدور ہو جائیں۔ اردو ادب کی شروع سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ اردو ادب نے تخلیق کار سے ہمیشہ اُس کی تخلیق ، فن ، وقت، محنت ، علم اور ریاضت کو مالِ مفت سمجھ کر لیا ہے لیکن ادب نے اپنے تخلیق کار کو ہمیشہ دینے میں بخل ، تجاہل ، تاخیر اور منافقت سے کام لیا ہے اور تخلیق کار اب معاشرے کا وہ اضافی نکتہ سمجھا جاتا ہے جسے ہمارا معاشرہ برداشت کرنے کا اہل نہیں اور نہ ہی ظرف رکھتا ہے ۔
مرا علم بے کار گیا مری تخلیق کو مرے ہی خلاف استعمال میں لایا گیا ،مجھے مرے ہی بنائے ہوئے الفاظ سے روندا گیا اور میں چپ تماشا دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ میں ایک تخلیق کار ہوں اور موجودہ دور میں مری ضرورت نہیں ۔ میں جو ہوں اور جو جانتا ہوں اُس سے صرف دوسروں کو فائدہ ہوسکتا ہے ، ہمیشہ سے تخلیق کار انہی مسائل کا شکار رہے ۔

لاطینی زبان میں
cret
کے معنی چھان پھٹک کرنا کے ہیں ، اور اردو تنقید میں یہ صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے ، تنقید کا معاملہ اب قدرے تبدیلی کی طرف رواں دواں ہے ، پہلے میں یہ ذکر کیا تھا کہ ہم مغربی عوامل سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی تخلیقی پہچان ہی کھو بیٹھے، اب میں ایک اور بات کا اضافہ یہ کروں گا کہ جب کسی تخلیق پر تنقید کی جائے تو نقاد زیرِ عتاب آ جاتا ہے ، اُس کی بات سے اختلاف ہونے پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی بجائے لوگ بغیر بتائے دشمنی پال لیتے ہیں اس لیے اب بہت سے نقاد مصلحت آمیزی سے کام لیتے ہیں اور حق بات کرنے کی بجائے رجعت پسندی کی حمایت کرتے ہیں اور یہی بات ہے کہ تخلیق دم توڑتی جا رہی ہے۔ کسی کی غلطی کی نشاندہی کرنا اپنی سوشل لائف ختم کرنے والی بات ہے اور اس بات کا ذمہ دار تخلیق کار ہے جو اپنی خامی کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا اور چھوٹے عناصر کی بنیاد پر اپنے ہی تخلیقی سفر میں رکاوٹ بنتا ہے ۔ اب یہاں میں نقاد کی خامیوں کا ذکر بھی کروں کہ اُن میں بھی یہ حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ اچھی تخلیق کو قبول کرتے ہوئے سراہیں ، بلکہ وہ جان بوجھ کر خامیاں نکالنے میں لگے رہتے ہیں اور تخلیق کے محاسن کو نظر انداز کر جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کو مرے دوست عمار یاسر مگسی نے "ادبی ابلیس" کا نام دیا۔

کیا مشرق میں کوئی ایسا نظریہ دان نہیں گزرا جو ہماری زبان کو عالمی ادب کے برابر لا سکتا ہو؟ گزرے ہیں لیکن ہم نے روندا ہے ، صرف روندا ہے ، میں نہیں چاہوں گا کہ کوئی مجھ سے آگے جائے ، تم نہیں چاہو گے کہ میں تم سے آگے جائوں ، ہم نے یا تو قبول نہیں کیا یا آزمایا نہیں، بہت سے ایسے لوگ رہے؛ اور ہیں بھی؛ جو نظریہ دان ہو سکتے تھے اور اگر ہم ایسا کر لیتے تو آج ہم کسی آئی اے رچرڈ ، کرسٹوفر کاڈویل، ایڈمنڈولسن، لارنس ، ہربرٹ، ریڈ ، گاسن ، ڈیشز، ایلیٹ یا ڈرائیڈن کے ادبی نظریات کے مقروض نہ ہوتے ، ہم میں وہ سب موجود ہے لیکن پہچان کرنی ہے اور ہمیں ہی کرنی ہے ورنہ ہم گنوا دیں گے وہ ادب جو اردو ادب ہے اور جس میں ہیئت ، تشکیل اور ساخت کے وہ ذخائر موجود ہیں جو شاید فرانسیسی ، یونانی ، انگریسی ، روسی یا ڈچ زبانوں کے پیش نظر کئی گنا زیادہ رحجانات رکھتے ہیں۔
عمار اقبال کی غزل :
پہلے ہماری آنکھ میں بینائی آئی تھی ،
پھر اُس کے بعد قوتِ گویائی آئی تھی ،

میں اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار ،
میری تھکن سے مجھ میں توانائی آئی تھی ،

دل آج شام سے ہی اُسے ڈھونڈنے لگا ،
کل جس کے بعد کمرے میں تنہائی آئی تھی ،

وہ کس کی نغمگی تھی جو ساتوں سُروں میں تھی ،
رنگوں میں کس کے رنگ سے رعنائی آئی تھی ،

پھر یوں ہوا کہ اُس کو تمنائی کر لیا ،
میری طرف جو چشمِ تماشائی آئی تھی ۔

غزل میں نئے رحجانات کی ڈھونڈ مرا ہی نہیں اردو کا مسئلہ ہے اور یہی امید بقا ہے لیکن مجھے تسلی اُس وقت ہو گی جب مجھے ستارہ نظر آئے گا۔
عمار اقبال کی غزل معروضیت اور اکتشافی عوامل سے بھرپور، ہیئت اور ساخت کے اعتبار سے مضبوط ، روانی ، سلاست ، اختراعات، جدیدیت اور تشکیلی مراحل سے گزرتی ہوئی نظریاتی عوامل کی پاسدار ہے ، نفاست اور احساس کی بہترین مثال ہے ، نظریات ہماری ضرورت ہیں اور اس غزل کے چند اشعار یہ حق ادا کرنے کی سعی ہو سکتے ہیں ۔
معائب میں جب بات کی جائے تو تیسرا اور آخری شعر روایتی انداز کے حامل ہیں اور پرانے خیالات پر مبنی ہیں ۔
اسقام کے حوالے سے تیسرے شعر میں مزید فنی بہتری ممکن ہے ۔ تیسرے شعر میں شاعر نے " کمرے" کی "یے" گرائی ہے ۔ اب "کمرے" معروف ہے اس لیے
Legislative Criticism
کے قوانین کے مطابق معروف کا کوئی رکن گرانا جائز نہیں ، البتہ مجہول کا گرایا جا سکتا ہے ۔ اب "کمرے" کی "یے" گرانے سے "کمر" پڑھا جائے گا جو شعر کو معنی سے دور لے جائے گا۔ بعض نقاد اور شعراء اس کو ٹھیک بھی قرار دیتے ہیں لیکن فنی حوالے سے گنجائش نہیں ۔
1:
پہلے ہماری آنکھ میں بینائی آئی تھی ،
پھر اُس کے بعد قوتِ گویائی آئی تھی ،
جدیدیت اور ہیئت کے حوالے سے غزل کا انتہائی مضبوط شعر جو اس غزل کا حوالہ ہے۔ ہم نے دیکھنا تو سیکھا ہی نہیں اور اگر دیکھنے لگیں تو بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ اور اگر بولنے لگیں تو وہ بولتے ہیں جو سب سننے چاہیں اور سب صرف جھوٹ سننا پسند کرتے ہیں۔ روانی اور اکتشافی عوامل کی بہترین مثال جو شعر کا حق ہے وہ ادا کیا گیا ہے ۔
2:
میں اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار ،
میری تھکن سے مجھ میں توانائی آئی تھی ،
سہل ممتنع، تشکیل ، اور خیال اس شعر کو بہترین اشعار کے زمرے میں لا رہے ہیں۔ ہر شے اور عنصر اپنی الگ حیثیت رکھتے ہیں ، جو خستگی ہے وہ توانائی سے الگ ہے ، توانائی کبھی خستگی کی جگہ نہیں لے سکتی ، آسانی کبھی مشکل کا متبادل نہیں ہو سکتی، اگر سلیقہ آتا ہو تو خستگی طاقت بن سکتی ہے اور مشکل سے آسانی نکالی جا سکتی ہے ۔ نظریاتی عوامل کو ساتھ لیے ہوئے بہترین شعر ہے ۔
3:
دل آج شام سے ہی اُسے ڈھونڈنے لگا ،
کل جس کے بعد کمرے میں تنہائی آئی تھی ،
روایتی شعر ہے ، نفاست اور روانی واضح ہیں لیکن اس شعر کو معائب میں شمار کیا گیا ہے ، اور "کمرے" کی "یے" گرانا جائز نہیں کیونکہ "کمرے" معروف ہے اور مجہول کا رکن گرایا جا سکتا ہے۔
4:
وہ کس کی نغمگی تھی جو ساتوں سُروں میں تھی ،
رنگوں میں کس کے رنگ سے رعنائی آئی تھی ،
شعر انفرادیت، ادبی ماہیت اور جمالیاتی حسیات کا حامل ہے ، لسانی اور خیال کے حوالے سے نظریات اور توضیحی تشکیل کی بہترین مثال اور مضبوط شعر ہے ۔
Descriptive Environment
کا حامل یہ شعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ مجھے وا کیا جائے ؛ اُن اذہان پر جو خالی ہیں ؛ وہ نغمگی ہی تو میں ڈھونڈ رہا ہوں جو ایسی سُر میں ہو جو اپنی دھن میں بہا لے جائے وہ سب جو غیر ضروری ہے۔ وہ رنگ جس سے سارے رنگ بنے لیکن وہ رنگ ابھی تک وجود میں نہیں آیا، وہ رنگ وجود و نبود سے ماوراء ہے اور جس کا ہونا سب کے ہونے کی ضمانت ہے ۔
5:
پھر یوں ہوا کہ اُس کو تمنائی کر لیا ،
میری طرف جو چشمِ تماشائی آئی تھی ۔
رواں شعر ہے جو روایت سے جڑا ہے اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ ڈھب تو وہ ہے جو تماشا ہو کر تماشائی کی حالت کو اپنے اخیتار میں لے لے اور یہی فن ہے ۔
عمار اقبال کے لیے بہت سی دعائیں اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقار خان۔

Tanqeed by Dr.Waqar Khan , ghazal Arshad Abbas Zaki

تنقیدی سلسلہ
(ڈاکٹر وقارخان)
غزل: ارشد عباس ذکی

یہ جو زخمِ دل ہے اِسے رفو نہیں کر رہا ،
میں ترے حوالے سے گفتگو نہیں کر رہا ،

کوئی اور ہے جسے ساری باتوں کا علم ہے ،
مرا راز افشاء مرا عدو نہیں کر رہا ،

یہاں سارے شہر کو علم ہے کہ میں تیرا ہوں،
مرا اعتبار تو صرف تُو نہیں کر رہا ،

میری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں ،
میں ورق ورق کو یونہی لہو نہیں کر رہا،

دلِ خوش گماں تجھے بس اِسی کا ملال ہے ،
دلِ آرزو تری آرزو نہیں کر رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید کسی بھی فن پارے میں حسن و قبح ، محاسن و معائب ، خوبیاں اور اسقام الگ الگ کرنے کا نام ہے ،
اردو نے جس تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے کیا اُسی رفتار سے اردو تنقید نے بھی ترقی کی ؟ کیا اردو تنقید اس قابل ہوئی ہے کہ اِسے یونانی ، رومی ، اطالوی، فرانسیسی یا انگریزی ادب کی تنقید کے مساوی پیش کیا جا سکے ؟ کیا اردو تنقید نے اپنے اصول وضع کیے یا مستعار نظریات کی مرہونِ منت ہے ؟ کیا اردو تنقید اپنی جملہ خامیوں اور ممکنہ خوبیوں سے آگاہ ہے ؟
اردو غٖزل نے جتنی تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور جس طرح اردو غزل کے تقاضے بدلے ہیں ہمیں چاہیے تھا اِس سے فائدہ اٹھا کر اِسے اپنی طاقت بناتے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس کو کمزوری بنا کر اپنی غزل کو دوسری اصناف کے سامنے کمزور ثابت کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
ارشد عباس ذکی کی غزل:
ارشد عباس ذکی کی اس غزل کو پڑھ کر روایت سے جڑے ہونے کا احساس ہوا، مجموعی رائے کے مطابق غزل نظریاتی عوامل کی حامل دکھائی دی ۔ اور اِس غزل پر نظریاتی تنقید ہی کی جا سکتی ہے ۔
(Theoratical Criticism)
اچھی غزل وہ ہے جو نظریاتی عوامل سے چل کر عملی مراحل تک کا سفر کرے ۔ شعر توضیح و تشریح طلب ہو تو اُس سے کھلنے والے در معاندانہ نہ ہوں اور اپنی اصل پر قائم ہوں اور یہ خوبیاں اِس غزل میں موجود ہیں۔ خیال کی پختگی، نفاست ، روانی ، نفسیاتی جذباتیت اور تغزل موجود ہے ۔ مصرعہ سازی ، فنی مہارت ، کرافٹ اور سب سے بڑی بات ارشد عباس ذکی نے اپنے زاویے سے غزل کو پیش کیا اور سہلِ ممتنع میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنا مدعا پیش کیا اور شعوری کوشش سے دور رہ کر آسان لہجے میں اثر انگیز شعر کہے ۔

رہی بات معائب اور خامیوں کی توغزل کے اشعار اکتشافی ہیئت سے دور نظر آتے ہیں، اکتشافی ہیئت جدت پسندوں کی اختراع ہے اور جدت پسند طبقے کے اچھوتے نظریات اور کچھ ذاتی فلاسفی اور نئے الفاظ و تلازمات جو اردو کو دیے جا سکتے ہیں جو پہلے موجود نہ ہوں ، کچھ ایسا نظریہ کچھ ایسا تصور جو اب تک موجود نہ ہو اور شاعر اگر ایسے نئے نظریات پیش کر سکے تو یہ بڑی بات ہوتی ہے ۔ ارشد عباس ذکی کی اس غزل میں یہ ہیئت موجود نہیں۔ تخلیق کے داخلی و باطنی محرکات کو سامنے رکھ کر کچھ نئے تصورات پیش کیے جانے چاہیے تھے ۔ ایک شعر " مری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں" توضیحی عنصر رکھتا ہے جس پر سیر گفتگو ضروری ہے ۔ ایک حد تک غزل روایت سے جڑی ہے ۔
1:
یہ جو زخمِ دل ہے اسے رفو نہیں کر رہا ،
میں ترے حوالے سے گفتگو نہیں کر رہا ،
روایتی شعر جس میں ایک گلہ ہے ، روانی اور تغزل کی بہترین مثال ہے ۔ سہلِ ممتنع ہے اور خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا ہے کہ محبوب کے دیے گئے زخم کو نہ ہی رفو کر رہا ہوں اور نہ ہی تجھے اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے
2:
کوئی اور ہے جسے ساری باتوں کا علم ہے ،
مرا راز افشاء مرا عدو نہیں کر رہا ،
نفاست اور روانی سے بھر پور شعر جو اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ شعر تشریح طلب ہے اور فنی حوالے سے مکمل ہے ۔ کوئی دشمن نہیں بلکہ اپنا ہے جسے مرے تمام حالات اور ارادوں کو پتہ ہے جو راز باہر کر رہا ہے ۔
3:
یہاں سارے شہر کو علم ہے کہ میں تیرا ہوں،
مرا اعتبار تو صرف تُو نہیں کر رہا ،
سہلِ ممتنع اور نفاست سے بھر پور شعر ہے جو پڑھ کر قاری کو با آسانی سمجھ آ سکتا ہے اور اثر رکھتا ہے۔
4:
میری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں ،
میں ورق ورق کو یونہی لہو نہیں کر رہا،
یہ شعر جسے بیان کرنے کے لیے ساختیات اور اسلوبیاتی عوامل کو سامنے رکھنا ہوگا۔ یہ شعر نظریاتی، عملی ، تشریحی اور تدریسی حوالوں سے بھر پور ہے ۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دو طبقوں پر محیط ہیں، ایک وہ جو قربانی دیتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ قربانی کا احساس کسی کو نہیں ہو گا وہ سر کٹانے سے باز نہیں آتا۔ اور دوسرا وہ طبقہ جو قربانی مانگتا ہے ، قربانی لے لینے کے بعد بھی معاف نہیں کرتا اور بے حسی کا شکار رہتا ہے ، دراصل یہ طبقہ ذہنی اور عملی طور پر کمزور طبقہ ہے ۔
چودہ صدیوں کا قصہ ہے اور لفظ لفظ خون رو رہا ہے ۔
اس شعر پر جتنی بات کی جائے کم ہے ۔
5:
دلِ خوش گماں تجھے بس اِسی کا ملال ہے ،
دلِ آرزو تری آرزو نہیں کر رہا ۔
یہ شعر شعریت اور اسلوب کا حامل ہے ۔ تشکیلات اور جامع مفہوم اس شعر کی خوبیوں میں شامل ہیں۔ بیان کیا گیا کہ خوش گماں دل تجھے اس بات کا دکھ ہے کہ اب یہ دل تری آرزو ہی نہیں کر رہا کیوں کہ آرزو زندہ رہنے کا نام ہے اور حقیقت پسندی میں زندہ رہنا بہت دشوار کام تصور کیا جاتا ہے ۔
ارشد عباس ذکی کے لیے دعائیں اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقار خان۔

Tanqeed by DR.WAQAR KAHN , Ghazal Faisal imam rizvi

حقِ تنقید
(ہفتہ وار سلسلہ)
ڈاکٹر وقارخان ۔
غزل برائے تنقید ۔: فیصل امام رضوی ۔
کتاب: ہم بچھڑنے والے ہیں ۔

اردو تنقید کا آغاز انیسویں صدی سے ہوا اور اکیسویں صدی میں داخل ہو کر بھی اردو ادب مغربی ادبیات کے اقتباسات سے بھر گیا ، یہاں کسی کو شعور، ساختیات، پسِ ساختیات، تشکیل، رد تشکیل اور جدیدیت ، ما بعد جدیدیت کی سمجھ ہی پیدا نہیں ہوئی ، چونکہ مغرب میں یہ رواج چل رہا تھا تو اردو کے متوالے بھی سر دھنتے چل پڑے ۔ جدیدیت کا رونا رو رو کر میری اور ظفر اقبال کی آنکھیں سُوج گئیں اور شاید ہم دونوں باز نہ آئیں ۔
اپنی مرضی تھوپنا اور بات ہے ، رائے دینا اور تنقید اور بات ہے ، یونانی زبان میں ایک لفظ
“crenien”
بہت استعمال ہوا ہے جس کے معنی محاکمہ کرنے کے ہیں لیکن افسوس کہ ہمیں اپنی مرضی تھوپنے کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔

ٹی ۔ایس۔ ایلیٹ سے اختلاف :
T.S.Eliet
کے خلاف بھی کچھ بولتا ہوں لیکن ڈر ہے کہ بہت سے لوگ جو مغربی مقولے اور حوالے دے کر خود کو نقاد سمجھتے ہیں وہ برا مان جائیں گے ۔

ٹی ایس ایلیٹ اپنے مقالے میں لکھتے ہیں :
" تنقید نہ تو سائنس ہے اور نہ سائنس بن سکتی ہے ، ادبی ذوق مطالعہ ہے ، اور ذوق کی سائنسی تشریح یا درجہ بندی ممکن نہیں "
اب ٹی ایس ایلیٹ پہلے خود اپنی بات کی نفی اس انداز سے کرتے ہیں :
" شاعر کا ذہن ایک ذنبیل ہے جو لا تعداد احساسات ، جملوں اور تصوراتی نقوش یا تمنائوں کو سمیٹے اور ذخیرہ کیے ہوئے ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اجزاء جو مل کر نیا مرکب بنا سکتے ہوں ، فنی عمل کی شدت کو جذبات جو محض اجزائے ترکیبی ہیں ، وہ شدت سے زیادہ اہم ہیں "

ورڈز ورتھ کہتے ہیں جس سے میں خوش ہوا :
" شاعری محض حصولِ مسرت کا ذریعہ نہیں ، بلکہ حصولِ علم کا ذریعہ ہے ، شاعری علم کے جسم میں سانس کی مانند ہے "

میں اب نفسیات کے حوالے سے بات کروں گا ، ایک ماہرِ نفسیات شعور ، لاشعور اور تحت الشعور کے مطالعے سے مریض کی حالت جان لیتا ہے ، شاعری کیا ہے ، شعور، لا شعور کی باتیں، دل اور دماغ کی باتیں، دل اور دماغ سائنس کی بنیاد ہیں ، شعور سائنس کی روح ہے تو شعور کی اصل ادب اور شاعری ہے ، تو گویا تنقید اور ادب سائنس سے پہلے سے موجود ہیں اور ان کے وجود سے سائنس نے جنم لیا۔
اور مجھے اس معاملے پر
T.S.Eliet
سے معذرت کے ساتھ اختلاف رہا۔

فیصل امام رضوی کی غزل :
سائنس اور ادب ایک شے ہے ، اور میں اس فلسفے کی الجھن میں غزل کو اس فلسفے کے دائرہ کار میں لانے کی کوشش میں بات کا آغاز کروں گا۔
غزل روایتی ہے اور نو مولود جدیدیت سے دور مابعد جدیدیت کے عنصر کے ساتھ اپنا الگ رنگ رکھتی ہے ۔ تغزل ، روانی ، سلاست اور سہلِ ممتنع کی بہترین مثال ہے ۔ ساری بات جو اب تک میں بیان کی اُس میں ادب اور لطافت کو قریب لانے کی کوشش کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ احساس اور جذبات کی شدت وہ مرکبات ہیں جو سائنس کی بنیاد ہیں۔ اب شاعر نے خیال میں چاند پر جانے کی بات پہلے کی اور سائنس نے مختلف سیاروں پہ جانے کی تحقیق بعد میں شروع کی ۔ فیصل امام کی غزل میں روایتی انداز کی چاشنی ، اسلوب ، زبان، موضوع ، ذریعہ ء اظہار اور جمالیاتی عنصر جو اس غزل کو منفرد کر رہا ہے ۔ اور یہی احساسات نئے عوامل کا پیش خیمہ ہیں۔

معائب کی جب بات کریں تو ایک شعر میں فنی حوالے سے کچھ بہتری ممکن تھی ۔
یہ سیہ رات عجب مجھ کو مزہ دیتی ہے ،
کوئی تصویر اندھیرے میں بنا دیتی ہے ،

میں تو دانستہ اُسے بھول کے سو جاتا ہوں ،
اُس کی آواز مجھے روز جگا دیتی ہے ،

رشتہء دل ہے کسی ایسی فضا سے میرا ،
جو مرے زخم کو ہر روز ہوا دیتی ہے ،

ایک شہزادی مرے خواب میں آ جاتی ہے ،
مجھ کو پل بھر میں وہ شہزادہ بنا دیتی ہے ،

پوچھتے رہتے ہیں سب مجھ سے یہاں ماہ و نجوم ،
رات کیا چیز ہے فیصل تجھے کیا دیتی ہے ۔
فیصل امام رضوی ۔
1)
یہ سیہ رات عجب مجھ کو مزہ دیتی ہے ،
کوئی تصویر اندھیرے میں بنا دیتی ہے ،
سہل ِ ممتنع اور لطافت کی مثال ہے ، رات کی سیاہی سے گھبرا جانے کی بجائے اُس میں ایک امید کی تصویر کو اپنے لیے روشنی قرار دیا ہے جو رات کا اندھیرا خود اُس روشنی کو لا کر راستہ دکھاتا ہے ۔ اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت ہر شے سے کچھ نئے وجودات اور نظریات کو ڈھونڈنے میں لگ جاتا ہوں اور اس شعر نے نیا مطلب دے دیا۔
2)
میں تو دانستہ اُسے بھول کے سو جاتا ہوں ،
اُس کی آواز مجھے روز جگا دیتی ہے ،
سہل ممتنع اور تغزل سے بھر پور شعر۔ روایتی انداز ۔ اب روایت سے جڑا ہونا ہی بقا ہے ، روایت سے دور بھاگنا بڑائی نہیں لیکن روایت سے نیا رخ نکالنا فن ہے ۔
3)
رشتہء دل ہے کسی ایسی فضا سے میرا ،
جو مرے زخم کو ہر روز ہوا دیتی ہے ،
یہ شعر معائب میں شمار کیا اور اِس شعر میں فنی حوالے سے مزید بہتری ممکن تھی ۔ اب بات کو گھمانے پھرانے کی بجائے جب میں اس شعر کو سلیس پیش کروں تو
" میرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو مرے زخم کو روز ہوا "دیتا" ہے "
لیکن شاعر نے یہاں لکھا کہ " مرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو مرے زخم کو روز ہوا "دیتی " ہے ۔ اب بات یہ ہے کہ "رشتہ " ہوا دیتا ہے ، دیتی غلط ہے ۔
اور اب شاعر نے جس حوالے سے کہا ہے وہ یہ " میرا رشتہ ایک ایسی فضا سے ہے جو فضا مرے زخم کو روز ہوا دیتی ہے "
اب یہاں شاعر واضح نہیں کر سکا کہ وہ "فضا" ہوا دیتی ہے یا " رشتہ " ہوا دیتا ہے ۔ لیکن شاعر نے "رشتہ ہوا دیتی ہے " لکھا جو کہ غلط ہوا۔ " ہوا دینا " محاورہ ہے جو "فضا" کے ساتھ نہیں جچتا ،مثال کے طور پر" یہ فضا مرے زخم کو ہوا دے رہی ہے " ، تو شعر کہیں لڑکھڑا گیا۔
اب اسی شعر کے خیال پر بیان کرتا چلوں تو اُس فضا پر بین کرنے کو جی چاہتا ہے جس فضا نے ہمیں رونا سکھایا، ایک ایسا المیہ جو اس شعر میں بیان ہوا وہ ادب کی بقا ہے اور صرف اُس وقت جب پہچان لیا جائے ۔ ہم ایسی فضا میں موجود ہیں جہاں سانس لینا منع ہے ، لکھنا وہ ہے جو معاشرے کو اچھا لگے چاہے وہ معاشرے کی ضرورت ہو نہ ہو ، بس اُس فضا کی چاپلوسی ضروری ہے جس فضا نے ہمیں معاشرتی حوالے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا کیا۔
4)
ایک شہزادی مرے خواب میں آ جاتی ہے ،
مجھ کو پل بھر میں وہ شہزادہ بنا دیتی ہے ،

مکمل شعر ، سادہ ، لطیف ، جذباتیت اور حساسیت پر مبنی جسے پڑھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شہزادی آ کر خواب کو حقیقت میں بدل دے گی ۔ سحر طاری کر دینے والا شعر جو کرافٹ کے حوالے سے بھی بہترین شعر ہے اور حق ادا کر رہا ہے ۔
5)
پوچھتے رہتے ہیں سب مجھ سے یہاں ماہ و نجوم ،
رات کیا چیز ہے فیصل تجھے کیا دیتی ہے ۔
روایتی شعر ہے، نفاست اور روانی کے حوالے سے بہترین شعر ہے ۔
فیصل امام رضوی کو کتاب " ہم بچھڑنے والے ہیں " کی اشاعت پر مبارک باد، مزید شعوری در کھلنے کی دعا اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقارخان۔

Haq-e-tanqeed by Dr.Waqar Khan , ghazal saleem waqif

تنقیدی سلسلہ " حقِ تنقید "
(ڈاکٹر وقار خان)
غزل ۔ سلیم واقف ( کتاب: نیند کا ململ )
پازیب کو چوما کبھی کاجل نہیں دیکھا ،
پوجا ہے جسے اُس کو مکمل نہیں دیکھا ،
دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں ،
صحرا پہ برستا ہوا بادل نہیں دیکھا ،
کھدر سی تھکن اوڑھ کے جاگا ہوں میں اِک عمر ،
آنکھوں نے کبھی نیند کا ململ نہیں دیکھا ،
گرمی میں کبھی ٹھنڈی ہوا تک نہیں کھائی ،
سردی میں کبھی اُون کا کمبل نہیں دیکھا ،
واقفؔ تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے ،
سچ پوچھو تو تم سا کوئی پاگل نہیں دیکھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید کی ابتدا اُسی وقت ہو گئی تھی جب دنیا وجود میں آنے کے بعد ایک انسان نے دوسرے انسان کے طرزِ عمل پر اعتراض اٹھایا ۔ ادبی تنقید کے ابتدائی نقوش کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ڈھائی ہزار سال پہلے ادبی تنقید کا آغاز افلاطون اور ارسطو کے نظریات سے ہوا لیکن لگ بھگ چار ہزار سال پہلے بھی تنقید کے شواہد ملتے ہیں ۔
جس طرح ادب زندگی کے حوادث اور تغیرات سے جنم لیتا ہے اُسی طرح تنقید بھی ناقدین کے اردگرد کے ماحول اور ذہنی رویوں سے متاثر ہوتی ہے ۔
میرا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ میں کسی شے کے مکمل ہونے پر یقین نہیں رکھتا لیکن میں مکمل تخلیق دیکھنا بھی چاہتا ہوں۔ اردو ادب میں یہ بات با تکرار کہی جاتی ہے کہ فلاں ادیب یا شاعر کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ، مورخ فیصلہ دے گا یا تاریخ فیصلہ رقم کرے گی یا وقت کی چھلنی سے چھن کر سب کھرا کھوٹا الگ ہو گا لیکن بات یہ ہے کہ اِسی امید پہ ہم وہ لکھنا شروع کر دیں جو ہماری تو دور اُس مخلوق کو بھی سمجھ نہ آئے جس کا ہم خیال اور قیاس کرتے ہیں ۔ تو وہ لکھو ہی کیوں جس کا کوئی مطلب نہ ہو ، " شاخِ عصر " اور اِس طرح کی تراکیب و لوازمات جن کا وجود تو کیا مطلب بھی سمجھ نہ آئے ۔ دوسرا رونا ان کا رونا پڑے گا جو جدت کے نام پر اودھم مچاتے ہوئے ہر جائز نا جائز کو اردو میں دھکیلتے نظر آتے ہیں ۔ کہتے ہیں یہ شاعری آنے والا زمانہ سمجھے گا۔ جب تخلیق کار کے فن کو اُس کا عہد اُس کے ہم عصر نہ سمجھ سکیں تو آنے والے زمانے اور نئی نسل کو کیا دلچسپی ہو گی کہ وہ سر کھپائے کے مٹی سے بھرے بوسیدہ اوراق میں لکھا کیا تھا ۔
سلیم واقف کی ٖغزل :
سچ ایک خطرناک ہتھیار ہے ، ابھی تک اردو میں اس نے جڑیں نہیں پکڑٰیں ، ابھی تک خوشامد پسندی نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ، ہم نے ابھی تک اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے کا گُر نہیں جانا اور شاید نہ جان پائیں گے ۔ ابھی تک مشرق شاہانہ خیالات سے پیچھے نہیں ہٹا اور یہ وجہ ہے کہ ہم اب تک کوئی فلاسفر یا موجد نہیں لا سکے ۔
سلیم واقف کی اِس غزل میں اس ہتھیار " سچ" کو استعمال کیا گیا اور شاعر نے کیوں کیا یہ مجھے نہیں پتہ ، اُسے چاہیے تھا وہ بات کو چھپاتا ، وہ ڈرتا پڑھنے والوں سے ، وہ بولتا جو لوگ سننا چاہتے ہیں لیکن سلیم واقف نے ایسا نہیں کیا ۔
غزل میں روانی ، ندرت اور ایک ایسی کسک جو غزل کے چند اشعار کو الگ کرتی ہے ۔ وہ بیان کیا گیا جو ہم سننا پسند نہیں کرتے ۔ " دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں " یہ بیان کس قدر سچ بولتا ہے ، وہ سچ جو برسانے والے سے لے کر بھیگنے والے تک کی تقسیم کا رونا رو رہا ہے ۔
غزل میں تقریباتی عوامل نہیں جو "ہے " وہ بیان کیا گیا ہے ، تقریباتی عوامل وہ ہیں جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کریں ۔ اکثر اشعار مصلحت سے دور ہیں اور مرے خیال میں جس فن پارے میں مصلحت آمیز عناصر پائے جاتے ہوں وہ سچ نہیں کہہ پاتا ، پھر وہ ہر کسی کو خوش کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے ۔ غزل کا الگ لہجہ اس غزل کا حاصل ہے ۔
اقسام کے زمرے میں جب بات کروں تو ساختیات اور ہیئت کے حوالے سے پہلا اور آخری شعر روایتی انداز سے پیش کیے گئے اشعار ہیں ، خاص طور پر مقطع کی ساخت اور ہیئت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا " واقف تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے " اب دنیا سے " وفا" کی طلب ہی تلازمہ بننا چاہیے اور " وفائوں " سے ہیئت پر اثر پڑا ۔
1)
پازیب کو چوما کبھی کاجل نہیں دیکھا ،
پوجا ہے جسے اُس کو مکمل نہیں دیکھا ،
شعر روایت سے جڑا ہے اور نسوانی لگائو سے متعلق ہے ، تغزل سے بھر پور ہے ۔
2)
دم توڑ گئیں خیر سے بارش کی دعائیں ،
صحرا پہ برستا ہوا بادل نہیں دیکھا ،
اس شعر پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے ، یہ شعر کی مدافعت کرتا ہے ، غزل کی مدافعت کرتا ہے ، جو سچ ہے وہ کہتا ہے ، بارش صحرا پر ہی کیوں نہیں برستی ؟ یا دعائوں کا مرکز صرف سر سبز میدان ہی ٹھہرے یا وہاں سے مانگی جانے والی دعا اثر نہیں رکھتی ؟ کیا دعا کا تر ہونا ضروری ہے ؟ یہ وہ سچ ہیں جو سچ ہیں ۔ اور اس شعر کا حق تحسین ہے ۔ اور نظریاتی حوالے سے مضبوط شعر ہے ۔
3)
کھدر سی تھکن اوڑھ کے جاگا ہوں میں اِک عمر ،
آنکھوں نے کبھی نیند کا ململ نہیں دیکھا ،
وہ لہجہ جو اپنی تکالیف اور مصائب کے حصے کا رت جگا بھی کاٹ رہا ہے ، اور جذبات کا عکاس شعر ہے جو احساس رکھتا ہے ۔
4)
گرمی میں کبھی ٹھنڈی ہوا تک نہیں کھائی ،
سردی میں کبھی اُون کا کمبل نہیں دیکھا ،
حاصل ِ غزل شعر ہے ، اکتشافی حوالے سے نئے خیال کے ساتھ صدیوں کا دکھ سمیٹے ہوئے ہے ۔ استدلالی فکر ، استخراجی قوت ، تمدن و ثقافت کا عکس ، تشریحی و نظریاتی حوالے سے مضبوط شعر ہے ۔
اس کائنات میں بے شمار آفاقی اصول موجود ہیں جو ساری کائنات کے لیے ایک جیسے ہیں لیکن ایک جیسے پیش نہیں کیے گئے اور یہی دکھ مجھے لے ڈوبے گا ۔ قوم گوری ہو یا کالی ، علاقہ گرم ہو یا سرد ، مذہب اسلام ہو یا کفر ، لوگ امیر ہوں یا غریب ، طرزِ زندگی جدید ہو یا قدیم ، سب انسان ہیں اور سب اُن آسائش و سہولت کے حقدار ہیں جو اس جہان میں پائی جاتی ہو ، کوئی ایسی چیز اب تک وجود میں نہیں آئی جس پر کسی مخصوص طبقے کا حق ہو ، کیا سورج مشرق سے نکلنا شروع ہوا ؟ کیا بچے عورت کی بجائے مرد نے دیے ؟ نہیں ۔۔۔۔ تو یہ تقسیم بھی ویسی کیوں نہیں جیسی اصل وقت میں کی گئی تھی ۔ اس نظریاتی بحث کو بہت عمدہ طریقے سے اس شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔
5)
واقفؔ تمہیں دنیا سے وفائوں کی طلب ہے ،
سچ پوچھو تو تم سا کوئی پاگل نہیں دیکھا ۔
روایتی شعر ہے اور اِسی شعر کو میں نے غزل کے معائب میں شامل کیا ہے ، ساخیتیات اور ہیئت کے حوالے سے اس شعر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا ۔ اور کچھ نئے انکشافات کا حامل نہیں ہے جو کہ اردو غزل کے بقا کے لیے ضروری ہیں ۔
سلیم واقفؔ کو کتاب " نیند کا ململ " لانے پر مبارکباد ، مزید شعوری در کھلنے کی دعا اور نیک تمنائیں ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Haq-e-Tanqeed by Dr.Waqar Khan , Ghazal Mumtaz Gurmani

تنقیدی سلسلہ "حقِ تنقید"
ڈاکٹر وقار خان
غزل : ممتاز گرمانی

اردو زبان سے تعلق کا اظہار کرنے والا کوئی بھی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ زبان وسیع ہے جو ہر زبان کو اپنے اندر سما لینے کا حوصلہ رکھتی ہے سوائے انگریزی کے۔ ساخیتات ، ایک ایسا علم جو ہیئت اور اثر کو بیان کرتا ہے ، اب ساخت الفاظ کی بھی ہو سکتی ہے اور خیالات و رموز کی بھی ، لیکن ہر وہ بیان جو اپنے اندر مکمل ہو گا وہ علم ِ ساختیات کے قوانین پر پورا اترتا ہے اور اردو زبان وہ واحد زبان ہے جو شاید لاطینی اور یونانی زبانوں کے مقابلے میں اپنے اندر زیادہ اثر رکھتی ہے لیکن ہمیں احساس شاید کبھی نہ ہو ۔
مستقبل ، کسی بھی عمل کے مرحلہ وار آگے بڑھنے اور نئی ہیئت میں تبدیل ہو کر ایک نیے عمل کے ظہور کا نام ہے ۔ اردو کے مستقبل کے بارے میں بات کی جائے تو میری بتائی گئی اس تعریف کے مطابق اردو مرحلہ وار آگے بڑھی ، نئی ہیئت کی طرف رواں دواں بھی ہے ؛ لیکن کیا نئی ہیئت کے بعد ایک مکمل نئی شکل اور عمل کے ساتھ ظہور ہو سکے گی ؟ اردو کا مسقبل شاید اُن بدنصیبوں کے ہاتھوں میں ہے جنہیں ہم شاعر ، ادیب ، اور نقاد کہتے ہیں ، لیکن یہ جس طبقے کے لوگ ہیں وہ طبقہ تخلیق کی پیداوار ہے لیکن تخلیق دو طرح کی ہوتی ہے ، اچھی تخلیق اور بری تخلیق۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مسقبل کا تعین کرنے والے اچھی تخلیق کی پیداوار ہیں یا بری تخلیق کی ، کیا ذاتی مفاد اور آسانی کی خواہش میں ریاضت کو چھوڑ کر شارٹ کٹس ڈھونڈنے والے اردو کو اُس سمت میں لے کر چلنے کا فن جانتے ہیں؟
مجھے معلوم ہے آپ مری باتوں سے تنگ پڑ رہے ہوں گے لیکن مری ایک مجبوری ہے ، میں بولنا چھوڑ نہیں سکتا ، لکھنا ترک کرنا مرے لیے سانس ترک کرنے کے مترادف ہے ، میں جانتا ہوں میں کچھ نہیں ، لیکن میں اُن نظریہ دان ہستیوں کی تلاش میں سرگرداں ہو جو شاید اردو کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
کیا خبر میں کامیاب بھی ہوپائوں گا یا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ ادھر ہی موجود ہیں لیکن ہم نے اُن کو نظر انداز کر کے بری تخلیق کے حامل الفاظ کو واضح کیا ہوا ہے اور یہی تخلیق بے سود ہے ۔ بولنا ایک مشکل کام ہے اور جو بول اٹھے وہ پھر چپ نہیں کر سکتا ، اس لیے اکثر لوگ چپ رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بولنے کا ہرجانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔
آج سے تقریبا چار ہزار سال قبل ادبی تخلیق اور شعوری تنقید پر کیا گیا کام جس کا خالق خاخپ اور اسونب تھا ۔خاخب اور اسونب نے اس تخلیقی کام میں ادب اور تخلیق کو امر قرار دیا اور یہ تصنیف فراعنہ مصر کے بارہویں خاندان (1786/ 1991 ق م ) کے زمانے میں تخلیق کی گئی ۔ وہ تخلیق آج تک کیوں یاد رکھی گئی کیوںکہ اُس نے مرحلہ وار ادب اور شعور کی نئی جہتوں کو کھولا اور آج تک یاد رکھی گئی ۔ اب جب ہم افلاطون اور ارسطو کی بات کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہم ابھی اُن سے تفصیلی ملاقات کر کے آ رہے ہوں ، یہ ذرا بھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ صدیاں ہوئیں بیت چکے ہیں اور ہم میں سے بڑے سے بڑے ادیب نے بھی اُن سے ہاتھ ملا کر نہیں دیکھا ؛ جب بھی اُن کے نظریات کے بارے میں بات کی جائے تو ہم چاہے بات اردو میں کریں یا سرائیکی، انگریزی میں یا فراسیسی، عبرانی ہو یا لاطینی ، لیکن بات ایک ہی رہتی ہے کیوں کہ وہ بات صرف بات نہیں ایک تخلیق تھی ، اچھی تخلیق ، اور صرف تخلیق ہی کو بقا حاصل ہے جو آج کل بہت کم دکھائی دے رہی ہے ۔
ممتاز گرمانی کی غزل :

سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،

نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،

فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،

میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،

یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،

پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،

چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔

ممتاز گرمانی کی غزل ساخت ، اسلوب ، فن ، روانی اور نئے مضامین کے ساتھ مخصوص لہجے کی حامل ، نظریاتی عوامل پر مشتمل جو اپنے اندر تشریحی موضوعات رکھتی ہے۔ سلاست، مصرع سازی تغزل اور ایک حد تک روایت سے جڑی غزل ہے اور یقینا اچھی تخلیق میں شمار کی جائے گی اور یہی تخلیقی رویہ کسی بھی شاعر کی تخلیق کو زندہ رکھتا ہے ۔
معائب کی بات کی جائے تو آخری شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ممکن ہے جسے میں آخر پر بیان کروں گا ۔
1)
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
اسلوب اور عنوان کے حوالے سے خوبصورت شعر ہے جو روایت کی مضبوطی کا اظہار ہے ، تشکیل اور زبان کے حقوق کو واضح کر رہا ہے ۔ ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ ہم نے رائگانی کا فن سیکھا ہے ، اور اس انداز سے سیکھا ہے کہ یا تو رائگاں ہوئے یا رائگاں کیا ۔ فن کو جہل کی نذر کر کے اپنے مسقبل کو رائگاں جانے دیا۔ اس شعر میں یہی بیان ہوا کہ ہنر مت گنوا مرے دستکار ہنر مت گنوا ، لیکن اس معاشرے میں ہنر کی قدر ہی کیا ہے ۔
2)

نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
روایت سے جڑا انتہائی خوبصورت شعر ، تشریحی عنصر کے ساتھ ایک امید اور اپنے کام کی لے کے ساتھ بہتا ہوا شعر ہے ۔ وہ جو ہے اُس سے بہتر ہے جو ہونا ہے ، کیا پتہ ہو جو ہو گا اِس سے بھی برا ہو جو اب اچھا نہیں ہے ۔ شمار بے برکتی کا باعث ہے اور یہی شمار اب اردو کے پیچھے پڑا ہے جو اس کو سر اٹھانے نہیں دیتا ، ہر ادیب اپنی اہمیت اور حیثیت کے سکوں کو شمار کرتے نہیں تھکتا اور اس شمار کے وزن نے اردو کی کمر جھکا دی ہے ۔ عاجزی وہ شے ہے جو مفاد سے ماوراء ہے اور صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہے لیکن عاجزی بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔
3)
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
اکتشافی عوامل ، نئے عنوان کا حامل شعر جو
Descriptive Criticism
کے حوالے سے اپنی الگ اہمیت کا حامل ہے ۔" زمینِ دل پہ تہجد گزار پھول بنا " کتنا دلکش مصرعہ ہے ۔ ہم نے یہ ہی تو جانا ہے کہ جو نہیں وہ پیش کیا جائے اور جو ہے اُسے چھپایا جائے اور اس کام میں ہم کامیاب بھی ہوئے اور افسوس کے ہم انسان ہیں ، یہی المیہ اس شعر میں خوبصورتی سے بیان ہوا ہے ۔
4)
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
معاندازنہ عناصر سے دور روایت سے جڑا سہل ِ ممتنع اور اثر انگیز شعر ہے ۔ سننا بہت تکلیف دہ ہے اور صبر طلب بھی ، اور ہم نہ ہی صبر کرنے کے حامل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی تکلیف برداشت کرنے کے ، لیکن خالی ہاتھ لوٹنا تکلیف دہ نہیں ؟ شاید نہیں کیوں کہ خالی ہاتھ لوٹنا آسان ہے بجائے فکر و فقر کا بوجھ اٹھا کر آنے سے ۔ موجودہ زمانہ جلد بازی کا شکار ہے اور شاید وقت نے بھی جلد گزر کر جلد بازی کا ثبوت دیا ہے ۔ شعر میں یہی بات بیان کی گئی کہ میں نے اُس کی سنی ہی نہیں اس لیے خالی ہاتھ لوٹا؛ تشریح طلب موضوع کے ساتھ خوبصورت شعر ہے ۔
5)
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
روایت سے جڑا خوبصورت ، رواں شعر ہے اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا کہ یہ زندگی چار دن کی مہمان ہے سو اس کے واسطے چار پھول بنا ، لیکن زندگی چار دن میں چالیس صدیوں کا سفر کاٹنے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس کے لیے پھول اپنی سانسوں کی بلی دے کر اور خون سے سینچ کر بنانے پڑتے ہیں اور شاعر نے کتنی آسانی سے کہہ دیا اور یہی شعر کی خوبصورتی ہے ۔
6)
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
تشکیل ، پسِ تشکیل ، ہیئت اور ساخت ، زبان ، اسلوب ، تشریحی عوامل ، نظریاتی منطق کا حامل شعر جو مجھے دل سے اچھا لگا ۔ مجھے یہ بیان کرنے میں ذرا بھی خوف نہیں ہو گا کہ یہ اچھی تخلیق کا اچھا شعر ہے ۔ میں اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر آ کھڑا تھا جہاں دو راستے تھے ، ایک زندگی کا راستہ ، دوسرا مایوسی کا، آپ سوچیں گے زندگی کے ساتھ موت کا تلازمہ جچتا تھا لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا ، موت اتنی بڑے شے نہیں ، جس قدر مایوسی ۔ میں زندگی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا ، جینا چاہتا تھا ، لیکن سب لوگ مرا منہ چِڑا رہے تھے ، مجھے واضح الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ تُو اس قابل نہیں کہ زندگی کی راہ پر چل سکے ، پھر میں نے ایک فیصلہ کیا ، میں نے خود سے کہا کہ تم اپنا کام کرو اور لوگوں کو اُن کا کام کرنے دو۔ لوگوں کا کام بہکانا ہے سو وہ بہکاتے رہیں ، میرا کام آگے بڑھنا ہے سو میں بڑھتا رہوں ؛ اور میں آگے نکل آیا ، اُن سب سے ۔ اس شعر کوپڑھ کر کے مرے اندر کا بوجھ کم ہوا اور مجھے غرض نہیں اس بات سے کہ لوگ کیا سوچتے ہوں ۔
7)
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
جمالیاتی احساس اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا خوبصورت شعر لیکن اس شعر کو میں نے غزل کے معائب و اسقام میں شامل کیا ۔ شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ہو سکتی ہے ۔ سبز پری کے ساتھ چلنے سے ہر ایک کانٹا پھول بنا، بالکل ایسا ہو سکتا ہے ؛ خوبصورتی و روئیدگی آ ئے گی ، بالکل آ سکتی ہے ۔ سبزہ اور سبز پن خوبصورتی اور خوشحالی کی علامت ہیں ، لیکن زمیں پر "گھاس" اگنا تلازمے پر پورا نہیں اُتر رہا ۔ اب میں تفصل سے بیان کروں گا کہ "سبزہ" اور "گھاس" کی ہیئت اور ساخت میں کیا فرق ہے ۔ " سبزہ " ہریالی اور روئیدگی ہے ، جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو سکتی ہے جو ایک منظر ہے ۔ "گھاس" ایک مختلف
term
ہے جو "چارا" ہےاور جانوروں کی خوراک ہے ، اب سبز پری کے ساتھ چلنے سے سبزہ اگتا تو خوبصورتی میں اضافہ ہوتا اور اگر گھاس اگتی تو اُس منظر نامے پر اثر پڑتا جو شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک اور مثال جیسے "سبز پا" اور "سبز بخت" میں فرق ہے ، "سبز پا" کا مطلب نامبارک کے ہیں اور "سبز بخت" کا مطلب نیک بخت اور مبارک شے کے ہیں ۔ تو اس طرح اس شعر میں مزید بہتری ممکن تھی ۔
ممتاز گرمانی کے لیے نیک تمنائیں اور مزید شعوری در کھلنے کی دعا ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Ideas of Aristotle and Ibn e Sina Explained by Dr.Waqar Khan

ارسطو نے فلسفہ نظری کی تین قسمیں بیان کی ہیں ،
ریاضیات ، طبیعات ، علم لاہوت
اس لحاظ سے ابنِ سینا نے موجودات کے حوالے سے مزید بات بڑھائی اور موجودات کی تین اقسام بیان کیں جو یہ ہیں :
1)
ایک وہ جو صرف ممکن کے ذیل میں ہیں جو صرف پیدا ہو کر فنا ہو جاتی ہیں ۔
2)
دوسری وہ ہیں جو ممکن کے ذیل میں لیکن ایک خارجی سبب سے ان میں وجوب پایا جاتا ہے یعنی وہ فانی ہونے کے باوجود باقی رہ جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
3)
تیسری قسم اس ذاتِ بر تر تک محدود ہے جو بذاتِ واجب ہے اور اسے اللہ کہتے ہیں ۔
یہ سوال اٹھایا محترمہ رضوانہ سعید نے اور اس حوالے سے ان موجودات کی مثالیں پوچھیں تو میں کچھ بیان کیں جو یہ ہیں :

1)
پہلی قسم جس کو فنا ہے ، وہ مادہ ہے ، وہ وجود ہے ، اور ہر وہ شے وجود رکھتی ہے جو محدود احاطے کی حامل ہو ، صرف خدا کا وجود نہیں وہ وجود سے ماوراء ہے ، یہ قسم انسان ، حیوان ، زمین ، پہاڑ اور ان جیسی تمام اشیاء کو اپنی حد میں رکھتی ہے ۔
2)
دوسری قسم وہ ہے جو ایک حد تک مادہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن طبیعات اور اعلیٰ علوم کی حیثیت سے بھی اوپر کا درجہ رکھتی ہے ، اصل میں وہ کچھ عجیب ہے ، اُسے نور کہیں یا کلام ، لیکن وہ اُس سے ہے جس سے یہ تمام جہان بنے ، اور اُس نے ہی اپنے کلام ِ کن سے یہ سب بنایا ، اب دیکھیں یہ مادہ بھی اسی سے بنا اس لیے اس کلام کا تعلق اس مادہ سے ہے ، وہ کلام ہی تھا جس کے ہونے سے یہ مادہ و غیر مادہ سب بنا ،
اب بات الجھانے کی بجائے سیدھی بات یہ کہ "کلام" ایک درمیانی رابطہ رہا ، وجود اور ماورائے وجود کے درمیان ، کلام ایک طرف تو اُس سے جڑا ہے جو کلیم ہے ، اور دوسری طرف اس سے جڑا ہے جسے کلام عطا ہوا اور وہ کلام کرنا نہ جانتا تھا ، کلام پہلی قسم سے بھی جڑا ہے یعنی مادہ اور انسان سے بھی ، تیسری سے بھی جڑا ہے یعنی اس واحد سے بھی ، یہ درمیانی صورت دوسری قسم جب پہلی قسم سے جڑی تو فنا کو قبول کر کے بھی بقا پا گئی کیونکہ اس کا تعلق تیسری قسم سے بھی تھا ۔ بات یہ ہے کہ جب یہ وجود سے ملی تو فنا ہوئی ، اور جب ماورائے وجود سے نکلی تو بقا رکھتی ہے ۔
علوم کی تین اقسام میں سے دوسری قسم جو ارسطو اور ابنِ سینا نے بیان کی ، دوسری قسم کو کہا گیا کہ وہ ایک حد تک طبیعات سے ماوراء اور بلند بھی ہے اور وجود سے جڑی بھی ، یہ دوسری قسم کلام ہی ہے ، جو فنا ہو کر بھی بقا کی حامل ہے ۔
کلام ایک پل ہے ان دو کے درمیان جو کلیم ہے اور جسے عطا ہوا ۔
وہ پیکر جب پیدا ہوا تو لا علم تھا ، پہلے اسے آگہی عطا کی گئی تو وہ با علم ہوا لیکن پھر بھی خاموش تھا ، وہ وقت ایسا تھا جب کسی کو کچھ بولنے اور سوال کرنے کی اجازت بھی نہ تھی ، وہ پیکر بھی خاموش تھا ، پھر اسے کلام عطا کیا گیا تو وہ بولنے لگا ، وہ کلام کرنے لگا اور آج تک کرتا آ رہا ہے ، وہ سوال کرنے لگا اُس پر بھی جس سے سوال کرنے کی طاقت عطا کی ۔
یہ کلام ہی دوسری قسم ہے جو درمیانی پل ہے فنا اور بقا کے بیچ ۔
3)
تیسری قسم وہ ہے جو مادہ اور وجود سے ماوراء ہے ۔ وہ احساس سے بھی زیادہ حساس اور جذب ہو جانے والی ہے ، اس قسم سے متعلق علم طبیعات ، ریاضیات اور فلاسفی سے ماوراء ہے جس کو تسلیم کرنے کے لیے تمام علوم کو جھکنا پڑتا ہے کیونکہ تمام علوم کی اصل وہ ہے ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Ghazal ek jism by Dr.Waqar Khan

تصورات میں جب بھی رہا ، رہا اک جسم،
خیال ِ قرب کی نظروںمیں گھومتا اک جسم،

تمام اہلیان ِشوق منہ چُھپا تے پھریں ،
کہ اِن کے شوق کے باطن کا آئینہ اک جسم،

یہ اِس طرف کو پڑا ہانپتا ہے وصل ترا،
اور اُس طرف کو ٹوٹ پھوٹ کر گرا اک جسم،

نہ چاہتے ہوئے پھر بھی تو ہو رہا مائل،
کہ مجھ کو اپنی طرف کیوں ہے کھینچتا اک جسم،

مرے خیال میں اِس کو ہوس ہی کہتے ہیں،
میں اِک کے بعد مانگتا ہوں دوسرا اک جسم،

بغیر سوچے میں دے دوں تجھے یہ کُرہ ارض،
تُو گر نواز دے کوئی بھی من چلا اک جسم،

زہے نصیب کہ میرا نصیب ہے اک جسم،
مرا نصیب بھی کیا خوب ، کہ ترا اک جسم،

یہ شیخ صاحب کا فرمان ہے سو دیکھ میاں،
کہ سات پردوں میں لائو ڈھکا چُھپا اک جسم،

تمہا رے عشق کی ھو ابتدا تقدس سے،
مگر یقین سے کہتا ہوں انتہا اک جسم،

وہ جسم آج تہہِ خاک جا چُکا ہے وقار،
اور اُس کے ہجر میں خود کو گنوا چُکا اک جسم۔
وقار خان

Bandagi Ghazal by Dr.Waqar Khan

"بندگی"
دل سے اپنے خدا کی نه کی بندگی،
احتراماََ هی تهامے رکهی بندگی،

میری نظریں تو انساں په پڑ نه سکیں،
میں نے آنکهوں په باندهے رکهی بندگی،

تو خدا کے مقابل خدا بن گیا،
تیرے ہاتهوں سے جاتی رهی بندگی،

اے خداؤ میں تم سب کا منکر هوا،
میں نے تم جیسوں کی ‌‌‌‌چهوڑ دی بندگی،

تیرے حصے میں دیروحرم هی رهے،
شیخ تو نے تو ہرگز نه کی بندگی،

تیرے بندے تو خود هی خدا بن گۓ،
اے خدا تو نے اب دیکه لی بندگی،

میرے سجدوں میں بهی خواهشِ زر رهی،
میں نے خود هی تو اب بیچ دی بندگی،

میرے دل میں وقار آج بهی بت پڑے،
اور لب په مرے بندگی بندگی۔
وقارخان

Adhora Pann by Dr.Waqar Khan






Kocha e jan e jaan main ja pohnchy ghazal by Dr.Waqar Khan

کوچہءجانِ جاں میں جا پہنچے،
یعنی کہ امتحاں میں جا پہنچے،

جب زمیں سے ہمیں نکالا گیا،
پہر تو ہم آسماں میں جاپہنچے،

جومکاں کی تلاش میں نکلے،
قافلے لامکاں میں جا پہنچے،

جونہی پاءوں یقین سے پہسلے،
رہگزارِ گماں میں جا پہنچے،

جن پہ ظاہر ہوءے ہیں دیروحرم،
وہ ترے آستاں میں جا پہنچے،

آرزو حدِجاں سے باہر کی،
عالمِ رفتگاں میں جا پہنچے،

اتنے گم تہے وقار ذات میں ہم،
کیا خبر کس جہاں میں جا پہنچے۔
(وقارخان)

Main qais k mazar py Ghazal by DR.WAQAR KHAN

میں قیس کے مزار پہ برسوں پڑا رہا،
مجہ کو عطا ہوءی بہی تو بس اک دعاءے عشق

میرے وجودِ خاک پہ کچھ بھی نہیں جچا،
مِن بعدِ خاکِ عشق و وفا یا قباۓ عشق۔

ڈاکٹر وقار خان

Asrar e kayenat hain mery bayan main Ghazal by Dr.Waqar Khan

اسرار ِکائنات ہیں میرے بیان میں،
کتنے ہی آسمان ہیں اِس آسمان میں،

یہ عشق ماورائے وجود و نبود ہے،
ڈھونڈا گیا اِسے مگر کون و مکان میں،

اے تشنگانِ جام ِ عدم، عاشقانِ دشت،
رکھا ہی کیا ہے اپنے لیے اِس جہان میں۔

ڈاکٹر وقار خان

Ghazal by DR.Waqar Khan , sidra tull wasl k saaye ka tallabgaar hon main

سدرۃالوصل کے سائے کا طلبگار ہوں میں،
تپشِ ہجر میں برسوں سے گرفتار ہوں میں،

جا کسی اور کو جا دھمکیاں دے مارنے کی،
جب سے میں پیدا ہوا تب سے سرِدار ہوں میں،

میرا پیغام بھلا تیغ کہاں روکے گی،
حاکمِ وقت کو بتلاؤ قلم کار ہوں میں،

میں نے تو رب کو بھی پوجا ہے اور اُس یار کو بھی،
واعظا تو ہی بتا کس کا گُنہگار ہوں میں۔

ڈاکٹر وقار خان

مرا آگے بڑھنے کا شوق بھی، مرا حوصلہ بھی فریب تھا

غزل
مرا آگے بڑھنے کا شوق بھی، مرا حوصلہ بھی فریب تھا،
مجھے منزلوں کا گُمان کیا، مرا راستہ بھی فریب تھا،
ہم اندھیر نگری کے باسیوں کو پتہ کبھی بھی نہ چل سکا،
وہ جو روشنی تھی فریب تھی، اور وہ دِیا بھی فریب تھا،

جو مرا خیال و بیان تھا، مجھے خُود کو بھی نہ بدل سکا،
مری زندگی بھی زیاں رہی، مرا فلسفہ بھی فریب تھا،
میں نے مسجدوں کی زیارتوں میں خُدا بھی اپنا گنوا دیا،
مری پوجا پاٹ بھی جھوٹ تھی، مرا دیوتا بھی فریب تھا،
ترے سارے وعدے سراب تھے، تری ساری قسمیں بھی ڈھونگ تھیں،
ترا صد کہا بھی فریب تھا، ترا اَن کہا بھی فریب تھا،
جو وقار چہروں کی بھیڑ تھی وہ فسونِ رنگِ حیات تھا،
سرِآئینہ بھی فریب تھا، پسِ آئینہ بھی فریب تھا۔
ڈاکٹر وقار خان

Ye jo rukh py gard e malal hy ghazal by Dr.Waqar Khan

یہ جو رُخ پہ گردِ ملال ہے تجھے کیا خبر،
کوئ زندگی سے نڈھال ہے تجھے کیا خبر،

سبھی حسرتوں کو گلے سے میں نے لگا لیا،
اِنہی حسرتوں میں وصال ہے تجھے کیا خبر،

مُجھے عشق کرنے سے روکنے چلے آئے ہو؟
یہ مری بقا کا سوال ہے تجھے کیا خبر۔
ڈاکٹر وقار خان

Zakhm khaty hain jee jalaty hain Ghazal by Dr.Waqar Khan

زخم کھاتے ہیں، جی جلاتے ہیں،
ہم کہاں ایسے باز آتے ہیں،
زندگی روز گھٹتی جاتی ہے،
مسئلے روز بڑھتے جاتے ہیں،
اب کہاں بھوت اور بلائیں رہیں،
آدمی آدمی کو کھاتے ہیں،
خاک سے خاک بھی نہیں ملتی،
روز ہم خاک چھان آتے ہیں۔
ڈاکٹر وقار خان

Jis trha jari hy yaan khon o kharabat ki jang , ghazal by Dr.Waqar Khan

جس طرح جاری ہے یاں خون و خرابات کی جنگ،
کیا خبر ہونے لگے واں پہ بھی درجات کی جنگ،

اب تو بتلا دے ہمیں کون خدا ، کون ہیں ہم،
واعظا چھوڑ بھی دے اپنے مفادات کی جنگ،

میں نے ایمان بچانے کے لیے جنگ لڑی،
جنگ وہ عشق کی تھی یا کہ مری ذات کی جنگ؟

ڈاکٹر وقار خان

Ghazal Hawass by Dr. Waqar Khan

مرا شعور ہوس، میرا لاشعور ہوس،
وصالِ یار ہوس، وصل کا سرور ہوس،

مرا مجاز ہوس، میرا لا مجاز ہوس،
یہ جلوہ ہائے نما جلوہ تا نہ طور ہوس،

یہ اور بات کہ ہو روح گھومتی پھرتی،
وگرنہ جسم جہاں ، واں پہ تو ضرور ہوس،

ہیں آپ سامنے اور پھر بھی آپ کی ہی طلب،
اِسی کو کہتے ہیں لالچ، یہی حضور ہوس،

آ تجھ کو لے کے چلوں آسماں کے اُس جانب،
جہاں نظر بھی نہ آتی ہو دور دور ہوس،

میں اِک زمانے سے اپنی ہوس میں ڈوبا ہوا،
مرا نزول ہوس، اور مرا ظہور ہوس،

میں مانگ لیتا ہوں اپنی عبادتوں کا ثمر،
کبھی تو خواہشِ جنت، کبھی تو حور ہوس،

مجھے سزا میں کوئی جسم سونپیے صاحب،
کہ مجھ سے آج ہوا ہے یہ اِک قصور ہوس،

یہ چند چیزیں وقار آ بچیں محبت میں،
حصولِ جسم، ضرورت، دغا، فتور، ہوس۔
ڈاکٹر وقار خان

Shoq-e-husn o adaa dill lagi mazratt ghazal by Dr.Waqar Khan

شوقِ حسن و ادا، دل لگی معذرت،
ساقیا معزرت، مے کشی معذرت،

میرا احساس عاری ہے جزبات سے،
چشمِ نم، سوزِ دل ، بے بسی معذرت،

قافلہ لوٹنے سے میں قاصر رہا،
رہبرہ معزرت، رہبری معذرت،

میں بسر کر نہ پایا تجھے ڈھنگ سے،
معزرت زندگی، زندگی معذرت،

میری حالت کہیں درمیاں میں رہی،
بے خودی معزرت، آگہی معذرت،

مجھ کو دیر و حرم سے نہ فرصت ملی،
اے خدائے جہاں، بندگی معذرت،

بس میں ہوتے ہوئے جان بخشی تمہیں،
دشمنو معزرت، دشمنی معذرت۔

ڈاکٹر وقار خان

Nazm ay aarzo -e- Hayaat by Dr.Waqar Khan

نظم
" آرزوئے حیات"
اے آرزوئے حیات اب کی بار جان بھی چھوڑ،
تجھے خبر ہی نہیں کیسے دن گزرتے ہیں،
اے آرزئے نَفَس اب مُعاف کر مجھ کو،
تجھے یہ علم نہیں کتنی مہنگیں ہیں سانسیں،
کہ تُو تو لفظ ہے، بس ایک لفظ ادھ مُردہ،
ترے خمیر کی مٹی کا رنگ لال گُلال
سُلگتی آگ نے تجھ کو جَنّا ہے اور تُو خود،
ایک ایسی بانجھ ہے جس سے کوئی امید نہیں،
تُو ایسا زہر ہے جو پی کے کوئی بھی انساں،
خود اپنے آپ کو کوئی خدا سمجھتا ہے،
تُو اِک شجر ہے جو بس دھوپ بانٹتا ہی رہے،
تُو اِک سفر ہے جو صدیوں سے بڑھتا جاتا ہے،
تُو ایسا دَم ہے، جو مُردوں کو زندہ کرتا ہے،
تُو وہ کَرَم ہے جو ہر اِک کریم مانگتا ہے،
تُو وہ طلب ہے جسے خود خدا بھی پوجتے ہیں،
تُو ہو طَرَب ہے جسے خود خوشی بھی مانگتی ہے،
تُو مجھ کو جتنے بھی اب شوخ رنگ دِکھلائے،
تُو چاہے زندگی کو میرے پاس لے آئے،
وقار اب ترے قدموں میں گِرنے والا نہیں،
اے آرزوئے حیات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں پہلے والا نہیں۔
ڈاکٹر وقارخان ..

Main sunta rhon bs yaar ki aur meri suny mra yaar by Dr.Waqar Khan Ghazal

میں سُنتا رہوں بس یار کی اور میری سُنے مرا یار،
یہ دنیا لاکھ نہ مانے، پر مجھ میں رہے مرا یار،

میں نوکر اپنے یار کا، مرا رب وی میرا یار،
میں اَکھّیاں بند کر مان لوں جو حکم کرے مرا یار،

کیا "نرک بہشت" کے چکر، کیا "گھاٹا وادھا" سوچنا،
چُپ سادھے ساتھ میں چل دوں، جہاں لے کے چلے مرا یار،

ہو بے چینی بھری عمر کی یا مرگ کی لمبی نیند،
میں اپنے پَلّے باندھ لوں مجھے جو کچھ دے مرا یار،

میرے آنسو پُونچھ کے "سونہنا" مرا ماتھا چُومتا جاوے،
میں سینے لگ کے روؤں ، مرے درد سہے مرا یار،

مری تختی کوری ذات کی، مرا اندر باہر صاف،
مرا دین وقار وہ ہو گا ، اب جو بھی لکھے مرا یار۔
ڈاکٹر وقار خان

Rah-e-fanaa sy mily , sidra tull baqaa sy mily by Dr.Waqar Khan


رہِ فنا سے ملے، سدرۃالبقا سے ملے ،
تری طلب میں کئی بار ہم خدا سے ملے ،

نہیں رہا ہے محبت پہ اب یقین ، کہ وہ ،
نہ کوششوں سے ملے، نہ ہی تو دعا سے ملے ،

ترے مریض تبھی سُکھ کا سانس لیتے ہیں ،
ترے وجود کی خوشبو جبھی ہوا سے ملے ۔
ڈاکٹر وقار خان

Wo jin ki zat k ander bhi ek qafass hy miyan by Dr.Waqar Khan

وہ جن کی ذات کے اندر بھی اِک قَفَس ہے مِیاں،
وہ ہم سے تازہ ہوائوں کی بات کرتے ہیں ،

یہ " میر جعفر و صادق " سے لوگ بھی دیکھو ،
ہمارے ساتھ وفائوں کی بات کرتے ہیں ۔
ڈاکٹر وقار خان .
Wo jin ki zaat k ander bhi ek qaffass hy miyaan ,
Wo hum sy tazaa hawa'oon ki baat krty hain,

Ye " Meer Jafir-o-Sadiq " sy log bhi daikho,
Hamary saath wafaa'oon ki baat krty hain .
Dr.Waqar Khan

Zat ka jo safar kry to kry Ghazal by DR.WAQAR KHAN

ذات کو جو سفر کرے تو کرے،
اپنے قدموں کو " پَر " کرے تو کرے،

میرے الفاظ تو گئے ضائع،
اب مرا خوں اثر کرے تو کرے،

مجھ سے تو یہ بسر نہیں ہوتی،
زندگی " وہ " بسر کرے تو کرے ،

بھیک اب مانگتا نہیں ہوں میں،
تُو اِدھر خود نظر کرے تو کرے،

وہ تو پھر خودکشی نہیں ہوتی،
جو ترے نام پر کرے، تو کرے،

میں نہیں کر سکا ہوں ، پر یہ وقت،
قدر میری اگر کرے ، تو کرے۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Sitarooon ko basany ki tammana by Dr.Waqar Khan

ستاروں کو بسانے کی تمنا،
زمیں ویران کرتی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر وقار خان

Nazm wo auratt thi by Dr.Waqar Khan

" وہ عورت تھی "
خلا کی مُشکلات اپنی جگہ قائم تھیں ، اور دنیا،
اُجڑتی، بھُربھری ، بنجر زمینوں کی نشانی تھی،
ستارے سُرخ تھے، اور چاند سورج پر اندھیروں کا بسیرا تھا،
درختوں پر پرندوں کی جگہ ویرانیوں کے گھونسلے ہوتے،
زمیں کی کوک میں بس تھور تھا، اور خار اُگتے تھے،
ہوا کو سانس لینے میں بہت دُشواریاں ہوتیں،
تو پھر اُس نور والے نے کوئی لوحِ انارہ بھیج دی شاید،
اندھیرے روشنی پہ کس طرح ایمان لے آئے،
بلائیں کس طرح پریوں کی صورت میں چلی آئیں،
یہ کِس ” نورل ثویبا ” کی خدا تخلیق کر بیٹھا ،
یہ نرمی ، دلبری ، شرم و حیا تخلیق کر بیٹھا،
وہ ” نورل ” وہ ” ثویبا ” جس کی خاطر آسماں سے رنگ اُترے تھے،
وہ جس کے دَم سے دنیا پر نزاکت کا وجود آیا،
خدائے خلق نے ” نورل ” سے پہلے ہی ہوس تخلیق کر دی تھی،
نزاکت تک ہوس کی دسترس تخلیق کر دی تھی،
ہزاروں سال بیتے ہیں مگر فطرت نہیں بدلی،
نگاہیں اب بھی بھوکی ہیں کہ جیسے کھا ہی جائیں گی،
ہوس زادوں نے کیسے نور سے منہ پر ملی کالک،
ہر اِک رشتہ ضرورت کے مطابق کس لیے بدلا،
ہوس زادو۔۔۔ بدن خورہ۔۔۔۔ ذرا سی شرم فرماؤ ،
وہ ” نورل ” وہ ” ثویبا ” زندگی کا استعارہ تھی ،
کبھی حَوّا ، کبھی مریم، کبھی لوحِ انارہ تھی،
وہ ” عورت ” تھی ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Ye mera hosla k mujh bashar ny dard sahy , ghazal by Dr.Waqar Khan

یہ میرا حوصلہ کہ مُجھ بشر نے درد سَہے،
تِرا کرم کہ تُو نے دُکھ دیے خدا ہو کر،

وہ وقت اچھا تھا جب لوگ ساتھ بیٹھتے تھے،
کسی بھی طمع و لالچ سے ماوراء ہو کر۔
ڈاکٹر وقار خان۔

ye dunya dari bhi ktni ajeeb shay hy miyaan ghazal by DR.WAQAR KAHN

یہ دنیا داری بھی کتنی عجیب شے ہے میاں،
خدا کو یاد کیا جاتا ہے مفاد کے وقت،

یہ میرے شعر ہمیشہ ہوئے نظر انداز،
بس اک غرور بھری خامشی تھی داد کے وقت،

بس ایک خون مرے سر پہ ہو چکا تھا سوار،
تمیزِ مشرک و مومن نہ تھی جہاد کے وقت۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Salam by Dr.Waqar Khan

"مولائے کائنات حضرت علیؑ کے نام "
صدقہِ آلِ عَبا ، فُزتُ بِرَبِ الکَعبہ ،
میں جہاں جا کے لڑا، فُزتُ بِرَبِ الکَعبہ ،

اِنَّمَا فُزتُ عَلی الدُّنیا ، و اَدوَارُ الحَشر ،
اُن کی جب خاک ہوا ،فُزتُ بِرَبِ الکَعبہ ،

میں ثناء خوانِ علی ہوں مرے الفاظ کی خیر ،
میں نے جو جو بھی کہا ، فُزتُ بِرَبِ الکَعبہ ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Mery apno ko mry samny mara tu ny , Ghazal by Dr.Waqar Khan

میرے اپنوں کو مرے سامنے مارا تُو نے ،
پُل صراط ایسی ہی ہے؟ جس سے گزارا تُو نے ،

تیرے سینے پہ اترتا تو کوئی بات بھی تھی ،
مجھ کو بنجر سی زمیں پر ہی اتارا تُو نے ،

تُجھ سے چھِن جائے سہارا تو پتہ چل جائے ،
یار کیوں چھین لیا میرا سہارا تُو نے ،

مجھ کو احساس ہے کہ میں ہی غلط ہوں لیکن ،
جو کیا ٹھیک کیا؟ سارے کا سارا تُو نے ؟

اُس کے چُلُّو میں جو آیا تو وہ زم زم نکلا ،
اور سمندر بھی دیا مجھ کو تو کھارا تُو نے ،

روح کی روح کو بھی وار دیا تُجھ پہ وقار ؔ ،
اور مٹی کا کیا جسم بھی پیارا تُو نے ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Nazm Gawahi by Dr.Waqar Khan

" گواہی "
میں محبت کے ستاروں سے نکلتا ہوا نور ،
حق و ناحق کے لبادوں میں چُھپا ایک شعور ،
میرے ہی دم سے ہوا مسجد و مندر کا ظہور ،
میں مسلمان و برہمن کے ارادوں کا فتور ،
میں حیا زادی و خوش نین کے ہونٹوں کا سرور ،
کسی مجبور طوائف کی نگاہوں کا قصور ،
میری خواہش تھی کہ میں خود ہی زمیں پر جائوں ،
اور زمیں زاد کا خود جا کے میں انجام کروں ،
وہ زمیں زاد کہ احسان فراموش ہے جو ،
وہ زمیں زاد ، زنا زاد ، انا زاد ہے جو ،
وہ زمیں زاد کہ جو خود ہی زمیں پر اترا ،
اور زمیں وہ جو وفا دار نہیں ہو سکتی ،
وہ زمیں جس پہ کئی خون کے الزام لگے ،
وہ زمیں جس نے یہاں دیکھے ہیں کٹتے ہوئے سر ،
وہ زمیں دیتی رہی ہے جو گناہوں کو پناہ ،
وہ زمیں جس نے چھپائے ہیں کئی راز و نیاز ،
سازشیں ہوتی رہیں جس پہ محبت کے خلاف ،
اور وہ چُپ ہے اگلتی ہی نہیں ایک بھی لفظ ،
مسئلہ یہ ہے کہ اب کس سے گواہی مانگوں۔
ڈاکٹر وقار خان۔

Nazm Aib by Dr.Waqar Khan

"عیب"
یہ ایک لفظ برا جو کہ ایک لفظ ہے بس
تو کیا برائی ہے اس لفظ کا قصور ہے کیا
تو کیا یہ ٹھیک ہے اس کو برا ہی کہتے رہیں
یہ رات جو کہ اندھیری ہے کیوں اندھیری ہے
بس ایک رات کو ہی کیوں اندھیر کر دیا ہے
یہ کالی رات ہے کتنے ہی راز رکھے ہوئے
اور ایک ہم ہیں کہ رب کا بھی راز رکھتے نہیں
یہ اک گناہ کہ جس کا وجود ہے یا نہیں
گناہ کرتے ہیں یا پھر گناہ ہوتا ہے
گناہ کر کے معافی کا راستہ کیوں ہے
گناہ کرنا ہے تو پھر قبول بھی تو کرو
وہ شوق رکھتے ہو اور حوصلہ نہیں رکھتے
یہ ایک جھوٹ جو تم بولتے تو ہو لیکن
یہ جھوٹ بھی تو تمہاری ہی خامیوں سے بنا
یہ جھوٹ جو کہ کبھی جھوٹ ہی نہیں کہتا
یہ جھوٹ جس کے سہارے تمہارے کام چلیں
یہ جھوٹ جو کہ کئی کڑوے سچ چھپائے ہوئے
اور ایک تم کہ اسے اپنا مانتے ہی نہیں
یہ ساری خامیاں ، یہ سارے عیب، سارے نقص
تمہارے فحش کبی جسم کو ڈھکے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر وقارخان۔

Interview of Dr.Waqar Khan in Daily Karachi newspaper

 Interview of Dr.Waqar Khan  In Karachi Daily Morning Special , by
نوجوان نسل کا نمائندہ شاعر ، وقار خان ۔
٭ شعر شعور دیتا ہے ، اور پہلا شعور مجھے اپنی ماں سے ملا، میں اپنی ماں سے بہت زیادہ متاثر ہوں ، شعوری عوامل آپ کو کچھ کر گزرنے پر راغب کرتے ہیں ۔
٭ جب جب گروہ بنے ادب درمیان میں آہیں بھرتا رہ گیا ، اور اس کے ذمہ دار وہ سب لوگ ہیں جو ایک دوسرے پر برتری لے جانے کی ضد میں ادب اور زبان کے ساتھ زیادتی کرتے آئے ہیں ۔
٭ سوشل میڈیا تفریح فراہم کر رہا ہے ، ہاں فیس بک نے اہم کردار ادا کیا ہے نئے شعراء کے لیے ، نہ صرف نئے بلکہ سینئرز شعراء بھی برابر مستفید ہوئے ۔
٭ لوگوں نے خواتین کو ہوا میں اٹھا رکھا ہے ، اِس معیار کی شاعری نہیں ہو رہی جتنا شور مچایا جا رہا ہے ، اگر بات کی جائے اور دیکھا جائے تو ہر طرف خواتین لیکن چند ایسی خواتین ہیں جو شعر کہہ رہی ہیں ۔
٭ شعر و ادب کے لوگوں ، خاص طور پر نئے آنے والوں پر جدت کے بھوت نے اس قدر اثر ڈالا ہوا ہے کہ یہ اردو کو لشکری زبان سے کھچٖڑی زبان بنانے پر تُلے ہوئے ہیں ۔
٭ پاکستان میں ہی معیاری شاعری ہو رہی ہے ، انڈیا میں چند بڑے ناموں کے علاوہ اب کچھ نہیں بچا ، نئی نسل میں صرف دو چار لوگ ہی ایسے ہیں جو شعر کہہ رہے ہیں ۔
Zafar Bhopali .
شاعری کی ابتدا کب کی ؟
جواب: شاعری آٹھویں جماعت سے شروع کی، تب ٹوٹے پھوٹے شعر کہا کرتا تھا ، پھر نویں جماعت سے غزل کہنا شروع کر دی، اور مقابلاتی اور طرحی غزلیں بھی کہنے لگا۔
2: شعری اصلاح کس سے لی ؟
جواب: شاعری میں اصلاح کسی سے بھی نہیں لی، البتہ اپنا شروع کا کلام ایک بار اپنے اردو کے استاد طاہر مسعود مہار کا سنایا، اور پھر ملتان آنے کے بعد کچھ غزلیں ضیاء ثاقب بخاری صاحب کو بھی دکھائیں لیکن میں کسی کا باقاعدہ شاگرد نہیں رہا۔
3: آپ کی مادری زبان کون سی ہے ؟
جواب: مادری زبان سرائیکی ہے لیکن شعر اردو میں ہی کہے ، میرے نزدیک زبان کوئی بھی ہو ادب کی تخلیق زیادہ اہمیت کی حامل ہے ، سرائیکی بہت زرخیز زبان ہے لیکن میں شعر نہیں کہے سرائیکی میں ،اب سرائیکی میں نثر پر شاید افسانہ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
4: آپ کی شاعری سے رغبت کے کیا عوامل ہیں ؟
جواب: شعر شعور دیتا ہے اور پہلا شعور مجھے اپنی ماں سے ملا، اور میں اپنی ماں سے بہت متاثر ہوں، وقت کے ساتھ چلنا پڑے تو اندر سوئے خیالات اور شعوری عوامل آپ کو کچھ کر گزرنے پر راغب کرتے ہیں، میں سب سے پہلے ساغر صدیقی کو پڑھا اور پھر غالب اور پھر جون ایلیا، لیکن میں جون پر آ کر رک گیا اور مجھے لگا کہ شاید میرے اندر کا اضطراب جو مجھے خیال کی گہرائیوں میں ڈبوتا جا رہا ہے شاید وہ مجھے جون تک ہی لانا چاہتا تھا، عوامل کیا ہو سکتے ہیں ؟ میرے نزدیک وجود کا تصور بہت فکر انگیز رہا اور اس کے علاوہ اپنی ذات اور اُس ذات کی تلاش تک کا سفر ہی ایسا سفر ہے جو آپ کو وہاں لے جاتا ہے جہاں سے انسان سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے اور پھر وہ سوچ سکتا ہے جو شاید ابھی بنا بھی نہ ہو۔
5: آپ کے اب تک کتنے مجموعے منظر ِ عام پر آ چکے ہیں ؟
جواب: میرا پہلا شعری مجموعہ 2016 کے شروع میں آنے والا ہے جو ابھی مراحل میں ہے ، شاعری میں 22 ایوارڈز مل چکے ہیں ۔
6: آپ کن شعراء سے متاثر ہیں ؟
غالب، جون ، ساغر۔ اور سب سے زیادہ جون۔
7: ادبی گروہ بندی کے بارے میں کیا کہیں گے ؟
جواب: گروہ بندی ، ادب میں گروہ بندی، کیا ہم کسی میدان میں لائے گئے ہیں جہاں ہمیں یہ فیصلہ لینا ہے کہ کون جیتا ہے اور کون ہار گیا۔ گروہ تب بنائے جاتے ہیں جب کسی سے لڑنا ہو، سیاست، جنگ یا کوئی اور ایسی سرگرمی جس کے ذریعے حدود سے آگے نکل جانا ہو، ادب میں اب تک جو ترقی ہوئی وہ ادبی تخلیقات سے ہوئی نہ کہ گروہ بندی سے ، جب جب گروہ بنے ادب درمیان میں آہیں بھرتا رہ گیا، اور اس کے ذمہ دار وہ سب لوگ ہیں جو ایک دوسرے پر برتری لے جانے کی ضد میں ادب اور زبان کے ساتھ زیادتی کرتے آئے ہیں۔ میں بالکل گروہ بندی پسند نہیں کرتا۔
8: شاعری کی کون سی صنفِ سخن کو معتبر کہیں گے ؟
شعر شعور دیتا ہے اور ہر وہ صنف جو اپنا حق ادا کر رہی ہو وہ معتبر ہے ، اب حق کون سی صنف ادا کرتی ہے یہ تخلیق اور تخلیق کار پر منحصر ہے ، اگر غزل اس قدر مضبوط ہے کہ وہ تمام لوازمات کو پورا کر رہی ہے تو وہ معتبر اور اگر نظم یا دوسری اصناف ادب تخلیق کر رہی ہیں تو وہ، ویسے غزل کو میں برتری دیتا ہوں۔
9: کیا شاعری کے لیے کوئی نظریہ اپنانا ضروری ہے ؟
ہر شاعر کے اپنے خیالات اور نظریات ہوتے ہیں اور تخلیق کار ہی وہی ہوتا ہے جس کے اپنے نظریات ہوں اور وہ اس قدر مضبوط ہوں کہ اُن پر عمل کرنا بھی ممکن ہو اور اُن پر تجرباتی مراحل بھی آسانی سے سر کیے جاسکیں۔ وہ تخلیق کار ہی کیا جو دوسروں کے نظریات کو نقل کرے یا مستعار لے ، اپنا نظریہ اور نقطہء نظر ہونا ضروری ہے ۔
10: عہدِ حاضر کے ادیب و شاعر کیا اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں ؟
جواب: ہر عہد میں ادب تخلیق ہوتا رہا لیکن اس وقت جس مشکل مراحل سے ہم گزر رہے ہیں مجھے بہت دکھ اور تشویش کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جس رو کی طرف ہمارا ادب بڑی تیزی کے ساتھ جا رہا ہے وہ ادب کی عمر کم کر دے گا۔ آج کل جو جدت کا بھوت سوار ہے نئے شعراء پر اور وہ جس طرح انگریزی الفاظ اور بے تُکے اور بے معنی خیالات اور لوازمات کو استعمال میں لا رہے ہیں اس سے شعر کی عمر کم ہو گی اور یہ خطرناک حد تک آنے والے دور میں مشکل پیدا کر دے گا۔ جدت نئے خیال اور نئے مضامین کا نام ہے لیکن جس طرح کچھ لوگوں نے منفرد ہونے کے چکر میں اور شاید ظفر اقبال صاحب کو متاثر کرنے کے لیے بے تُکی جدت کا ڈھونگ رچایا اس سے میں قطعی مطمئن نہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر دور کی طرح اب بھی کچھ لوگ شعر کہہ رہے ہیں اور ادب کی خدمت کر رہے ہیں ۔
11: سوشل میڈیا کی شاعری کو کیا کہیں گے ؟
جواب: سوشل میڈیا پر شاعری کہاں ہو رہی ہے ؟ سوشل میڈیا تو بس تفریح فراہم کر رہا ہے ، ہاں ، فیس بک نے اہم کردار ادا کیا ہے نئے شعراء کے لیے ۔ فیس بک پر نہ صرف نئے بلکہ معروف اور سینئرز شعراء بھی مستفید ہوئے ، ایک خامی یہ کہ نئے لوگوں نے جس طرح بازاری اور فیس بک کی شاعری شروع کر رکھی ہے وہ ادب کے لیے تشویشناک بات ہے ، شعر وہ ہوتا ہے جو نہ صرف شعور فلاسفی نیا پن تغزل اور بے ساختگی رکھتا ہو بلکہ اثر بھی رکھتا ہو، اب مسئلہ یہ ہے کہ شعر تو تخلیق ہو رہا ہے لیکن بے برکتی اس قدد ہو گئی ہے کہ اثر ختم ہو گیا ہے اور ایک وجہ وقت کی قلت بھی ہے ، لوگ شعر اور ادب سے دور ہوگئے ہیں لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو وقت کی قلت بھی کہاں ہوئی ، پورا پورا دن لوگ فیس بک اور انٹر نیٹ کی نذر تو کر دیتے ہیں لیکن کبھی اپنے خیال کے سفر پر نہیں گئے ۔
12: خواتین شعراء کی شاعری کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
جواب: خواتین ، میری رائے سے شاید کسی کو دکھ ہو لیکن جس قدر لوگوں نے خواتین کو ہوا میں اٹھا رکھا ہے اس معیار کی شاعری نہیں ہو رہی، اگر بات کی جائے اور گِنا جائے تو چند ہی خواتین ایسی ہیں جن کی شاعری معیاری ہے ، اور دیکھا جائے تو ہر طرف خواتین خواتین خواتین ، لیکن چند خواتین ایسی ہیں جو واقعی ایسا شعر کہہ رہی ہیں جو معتبر حوالہ ہو گا۔
13: آج کی نسل کتاب اور ادب سے دور کیوں ہے ؟
ادب ، کتاب ، شعور، خیال، روایات ، یہ وہ مذاق بن چکے ہیں جو آج کل کی نسل صرف مذاق میں بھی اِن چیزوں پر توجہ نہیں دیتی ، لوگ کہتے ہیں کہ وقت کی قلت ہے جس کی وجہ سے کتاب سے دور ہوئے ، نوجوان نسل سوتے ہوئے اٹھتے ہوئے کلاس لیکچر ہر جگہ فیس بک واٹس اپ ، ٹوئٹر اور انٹر نیٹ تو استعمال کرتی نظر آئے گی لیکن ہر اس چیز سے دور ہو گی جس کا تعلق ادب سے ہو گا ۔ اردو نہیں پڑھتے شاعری نہیں پڑھتے نہ پڑھیں ، انگریزی سے لگائو ہے تو انگریزی کا ادب تو پڑھیں ، کچھ تو ادب کتاب سے واسطہ رکھیں لیکن اُن کے واسطے یہ چیزیں فضول اور وقت کا ضیاع ہے ، اور اس میں قصور کس کا ہے ؟ ادیب کا ، ادب کا ، کتاب کا یا معاشرے کا، مرے خیال سے تو والدین کا جو اپنے بچوں پر توجہ ہی نہیں دیتے اور اُن کو صرف وقت کی دوڑ میں ڈال دیتے ہیں جہاں وہ بچے معاشی دوڑ میں تو آگے نکل جاتے ہیں لیکن اُن میں موجود انسان کہیں ہانپتا رہ جاتا پے ۔
14: اردو زبان کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں ؟
جواب: اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں پہلے بھی بات کر چکا کہ مجھے تشویش ہے ، شعراء اور ادب کے لوگوں اور خاص طور پر نئے آنے والوں پر جدت کے بھوت نے ایسا اثر ڈالا ہوا ہے جو اردو کو لشکری زبان سے کھچڑی زبان بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف قاری کی غیر دلچسپی، نئی نسل کی کتاب سے دوری ، شعراء کے ذاتی مفادات اور سیاست و منافقت، تو اردو بے چاری بیچ میں پریشانی میں مبتلا ہے کہ اُس کا کیا ہو گا، لیکن امید رکھی جا سکتی ہے اُن چند لوگوں سے جو آنے والے دور میں اردو کے وارث ہوں گے ، اور اردو زبان قائم رہے گی۔
15: پاکستان یا ہندوستان؟ معیاری شاعری کہاں نظر آتی ہے ؟
جواب: پاکستان میں ہی شاعری ہو رہی ہے اور معیاری بھی صرف پاکستان میں ہی ہو رہی ہے ، انڈیا میں چند بڑے ناموں کے علاوہ اب کچھ نہیں بچا ، نئی نسل میں صرف دو چار لوگ ہی ایسے ہیں جو شعر کہنا جانتے ہیں ، اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان ہی اس وقت اردو شاعری کا مرکز اور اردو زبان کی بقاء کا ذریعہ ہے ورنہ بھارت نے تو فلمی دنیا میں بھی اردو کو اس طرح ذلیل کرکے رکھ دیا ہے کہ وہاں آنے والے دور میں بھی شاید امروہہ دلی لکھنو والا زمانہ نہ آ سکے۔
اردو زبان کی ترقی اور بقاء کے لیے دعا گو اور ادب کی ترویج کے لیے ہم شعراء اور ادب کے لوگوں کو ہی اپنی تمام تر ذاتی آراء سے ہٹ کر صرف اردو کے لیے کام کرنا ہو گا جو ہماری اور اردو کا نصیب بدل سکے۔
ٖغزل
مرا شعور ہوس، میرا لاشعور ہوس،
وصالِ یار ہوس، وصل کا سرور ہوس،
مرا مجاز ہوس، میرا لا مجاز ہوس،
یہ جلوہ ہائے نما جلوہ تا نہ طور ہوس،
یہ اور بات کہ ہو روح گھومتی پھرتی،
وگرنہ جسم جہاں ، واں پہ تو ضرور ہوس،
ہیں آپ سامنے اور پھر بھی آپ کی ہی طلب،
اِسی کو کہتے ہیں لالچ، یہی حضور ہوس،
آ تجھ کو لے کے چلوں آسماں کے اُس جانب،
جہاں نظر بھی نہ آتی ہو دور دور ہوس،
میں اِک زمانے سے اپنی ہوس میں ڈوبا ہوا،
مرا نزول ہوس، اور مرا ظہور ہوس،
میں مانگ لیتا ہوں اپنی عبادتوں کا ثمر،
کبھی تو خواہشِ جنت، کبھی تو حور ہوس،
مجھے سزا میں کوئی جسم سونپیے صاحب،
کہ مجھ سے آج ہوا ہے یہ اِک قصور ہوس،
یہ چند چیزیں وقار آ بچیں محبت میں،
حصولِ جسم، ضرورت، دغا، فتور، ہوس۔
ڈاکٹر وقارخان۔
نشتر ہسپتال ملتان۔

Khata qabool nahien hy to khud khata kr dekh. Ghazal by Dr.Waqar Khan

خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ ،
یا ایک بار برابر میں میرے آ کر دیکھ ،

یہ میرا صبر ہے ، یہ مجھ پِسے ہوئے کا صبر ،
خدائے قہر ۔۔۔ تُو آ ، قہر آزما کر دیکھ ،

غرور وار دیا میں نے فی سبیل العشق ،
اے عشق ۔۔۔ تُو بھی تو اب تھوڑا حوصلہ کر دیکھ ،

میں دل کا اچھا ہوں لیکن ذرا سا ہوں گستاخ ،
تُو ایک بار مجھے سینے سے لگا کر دیکھ ،

تُو آزما تو چکا ہے یہ سارے مکر و فریب ،
بس اب اذانِ محبت زباں پہ لا کر دیکھ ۔
ڈاکٹر وقار خان۔

Interview of Dr.Waqar Khan at Urdu Columns

Interview Of Dr.Waqar Khan by Faheem Manjhota Urdu Columns
شعر لکھنا اور کہنا ایک خدا داد صلاحیت ہے اور انسان ازل سے انپے احساسات اورجذبات کو بیان کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لیتا رہاہے نوجوان نسل کے چند شعراء ایسے ہیں جنہوں نے بہت کم عرصے میں کامیابی کی بلدیوں کا چھوا ہے اور بہت جلد مقبولیت حاصل کی انہیں میں سے کوٹ سلطان کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر وقار خان بھی ہیں جنہوں نے بہت کم عرصہ میں اپنی شاعری اور خوبصورت لب ولہجہ کی وجہ سے شا عری میں خوب نام کمایا ہے اور اب تک شاعری کے میدان میں مختلف 22 ا یوارڈ بھی اپنے نام کر چکے ہیں ، 4اپریل 1994کو کوٹ سلطان میں پیدا ہونے والے اس خوبصورت لب و لہجہ کے نوجوان شاعر سے گذشتہ روز صبح پاکستاننے جو بات چیت کی آپ قارئین کی نظر ہے ۔
صبح پاکستان:.۔اپنا مختصر تعارف کر ا دیں ؟
وقار خان۔میرا نام وقار خان ہے اور میں 4اپریل 1994 کو کوٹ سلطان میں پیدا ہو ا ،ابتدائی تعلیم کوٹ سلطان سے حاصل کی آج کل نشتر میڈیکل کالج ملتان میں ایم بی بی ایس کا طالب علم ہوں
صبح پاکستان۔میڈیکل اور شاعری دوالگ الگ اور مشکل شعبے ہیں کیسے کر لیتے ہیں ؟
وقار خان۔شاعر بنتے نہیں شاعر پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی شعوری کوشش سے شعرکہے جا سکتے ہیں میرے نزدیک شعور کی ضرورت ہے اور محنت انسا ن کو کہا ں سے کہا ں لے جاتی ہے ،شاعر میں پہلے تھا ،ڈاکٹر میں بعد میں بنا ،میڈیکل مشکل ہوتی ہے مگر شاعری میں نہیں ،
صبح پاکستان۔ پہلا شعر کب اور کونسا کہا ؟
وقار خان۔شعر میں آٹھویں جماعت سے کہ رہا ہوں،پہلے ٹوٹے پھوٹے شعر کہا کرتا تھا مگر نویں جماعت سے غزل کہنا شروع کردی او ر مقابلاتی اور طرحی غزل بھی کہنے لگا
اس شخص کو اجالوں کا سمجھا گیا خدا
اک شمع تک بھی جس سے جلائی نہ گئی،
یہ میر ی پہلی غزل کا ایک شعر ہے۔
صبح پاکستان:.۔کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب شاعر ایک ناکام عاشق ہوتاہے ،آپ کیا کہیں گے ؟
وقار خان۔شاعری اور عشق کا تعلق ضرور ہے مگر لازم نہیں کہ یہ عشق مجازی ہو اور معشوقانہ چکر پہ مبنی ہو ایک بے چینی اور ایک اضطراب ایک شاعر میں ہوتاہے اور عشق سے بھی تو اس لحاظ سے مماثلت ہو سکتی ہے لازم نہیں کہ ہر شاعر عاشق ہو یا ہر عاشق شاعر ہو ۔میرا ایک شعر ہے
یہ عشق ماورائے وجود و نبود ہے ڈونڈھا گیا مگر اسے کون و مکان میں۔
عشق تو یہاں کا ہے ہی نہیں پھر کون عاشق اور کون معشوق
صبح پاکستان۔غزل کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی شاعری کی ؟
وقار خان۔جی میں نے نظم اور نثر بھی لکھی ہے اور افسانہ بھی اورہر وہ صفت سخن معزز جو اپنا حق ادا کر رہی ہو ہے اور جس صنف میں لکھا جائے ایسے لکھا جائے کہ لکھنے کا حق ادا ہو جائے ۔
صبح پاکستان:.۔کیا آپ باقاعدہ مشاعروں میں بھی شرکت کرتے ہیں ؟
وقار خان۔سخن سرائے پاکستان کے نام سے ہماری ایک تنظیم ہے جس کے زیر اہتما م مشاعرے ہم خود کرواتے ہیں جس میں ملک بھر کے عالمی شہرت یافتہ شعرا ء کرام آتے ہیں اور مشاعرے بے شمار پڑھے ہیں پہلا مشاعری اعتبار ساجد اور ضیا ثاقب بخاری کے ساتھ پڑھا،اس کے علاقہ ملتان ،فیصل آباد ،بہاولپور،لاہور ،میانوالی ،خانپو ، ڈیرہ غازی خان اور تمام شہروں میں بارہا مشاعرے پڑھے ہیں۔ دوستوں کی محبت ہے کہ وہ روز یاد کیے ہوئے ہیں ۔
صبح پاکستان۔:.صوفی ازم کے بارے آپ کیا کہیں گے ؟
وقار خان۔صوفی ،انسان ،ذات،خدا کتابیں یہ سب کیا ہیں ؟ ،میری شاعری عشق معشوقی اور روزی روٹی کے رونے دھونے پہ نہیں میں چاہتاہوں پہچان لوں خود کو اور اس کو جس نے بنایا ،اس کو جس نے بہکایا ،اس کو جس نے رلایا ،اس کو جس نے سدھارا،صوفی ہونا بڑی بات نہیں خیال کے اس راستے کو ظاہر کرنا چاہیے جس پر چل کر لوگ اپنی منزل کو پہنچتے ہیں ،میں تو بس ایک ادھورا سا شاعر ہوں۔
صبح پاکستان:.۔کیا آپ کی شاعری کی کوئی کتاب بھی آ چکی ہے ؟
وقار خان۔ابھی تک کتاب تو نہیں آ سکی ،مگر میرا کلام مختلف اخبارات ،میگزین اور رسائل میں چھپتا رہا ہے ،پاکستا ن کے علاوہ انڈیا کے میگزین میں بھی میرا کلام چھپا ہے میری ایک نظم انگلش میں ٹرانسلیٹ ہو کر بھی چھپ چکی ہے میری کتا ب تکمیل کے مراحل میں ہے اور بہت جلد آ جائے گی ۔
صبح پاکستان::..۔شاعری میں کس سے متاثرہیں ؟
وقار خان ۔میں سب سے زیادہ اپنی ماں سے متاثر ہوں اور پہلا شعور مجھے اپنی ماں سے ملا،اس کے علاوہ ساغر صدیقی سے پھر غالب اور آ کر رکا جون ایلیا ء پر اور مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ میں ان سے مل نہیں سکا،میں جون ایلیا کو صدی کا شاعر کہتاہوں ۔
زندگی ملی کبھی تو گلہ کریں گے پر،
زندگی ملی نہیں تو گلہ کیا نہیں،
زخم کی نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکا ،
تو وقار خان ہے جون ایلیا نہیں۔
صبح پاکستان:.۔شاعری میں اصلاح کس سے لیتے ہیں ؟
وقار خان۔ میں شاعری میں اصلاح کسی سے نہیں لی اور نہ ہی باقاعدہ طور پر کسی کو شاگرد رہاہوں ، شروع کی شاعری اپنے اردو کے استاد طار مسعود مہار کو ایک بار سنائی تھی پھر ملتان آنے کے بعد کچھ غزلیں ضیا ثاقب بخاری کو بھی دکھائیں ۔
صبح پاکستان:.۔آج کا نوجوان کتاب سے دور کیوں ہے ؟
وقار خان۔ادب ،کتاب،شعور،روایت یہ سب مذاق بن چکا ہے آج کا نوجوان سار ا دن انٹر نیٹ پر گزار دیتاہے اور اس کو ادب سے کوئی دلچشپی نہیں رہی میر ا خیا ل میں اس سلسلہ میں والدیں کا قصور بھی ہے جو پیسا کمانے کی دوڑ میں اپنے بچوں کی صحیح پر ورش نہیں کرتے اور ان کو صرف وقت کی ڈور میں ڈال دیتے ہیں جو وقت کی دوڑ میں تو آگے نکل جاتے ہیں مگر ان میں انسان کہیں بھٹکتا رہ جاتاہے
صبح پاکستان۔ انیسوں صدی کے شعرا بارے آپ کا کیا خیال ہے ؟
وقار خان۔شاعری ہوتی رہی ہے ہر عہد میں لیکن تقاضے بدلتے رہے انیسویں صدی میں بڑے بڑے شاعر گزرے ہیں جو شاید اب یہ صدی جنم نہ دے سکے ۔
صبح پاکستان:.۔موجود دور کی شاعری کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟
وقار خان۔موجودہ دور میں بھی شاعری ہو رہی ہے مگر میں اس سے مطمئن نہیں ہوں اور غزل مکمل طور پر بدل چکی ہے چاہیے تو یہ تھا کہ ہم غزل کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھاتے مگر ہم نے ایسا نہ کیا ،ہر عہد میں ادب تخلیق ہو تا رہا ہے مگر اس وقت جس مشکل مراحل سے ہم گزر رہے ہیں مجھے نہایت ہی افسوس اور تشویش کے ساتھ کہنا پڑ رہاہے کہ جس رو پر ہمارا ادب تیزی سے جار ہے مجھے لگتاہے اس سے ہمارے اد ب کی عمر کم ہوتی جا رہی ہے ۔
صبح پاکستان:.۔آج کل شاعری میں جدت نام کا لفظ استعمال کیا جا رہاہے ،کیا کہیں گے اس پر ؟
وقار خان۔آج کل نئے شعراء پر جدت کا بھوت سوار ہے اور وہ جس طرح انگریزی کے الفاظ اور بے تکے الفاظ اور لوازمات استعمال میں لا رہے ہیں اس سے شعر کی عمر کم ہو جائے گی اور یہ خطر ناک حد تک آنے والے ادوار میں مشکلات پید ا کر دے گا،جدت نئے خیال اور نئے مضامین شامل کرنے کا نام ہے نہ کہ بے تکے اور بے معنی لوازمات کے استعمال کا ، اردو کو لشکری زبان سے کھچڑی زبان بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔
صبح پاکستان:.۔آپ کی مادری زبان سرائیکی ہے مگر آپ اردو شاعر ہیں ۔۔کیوں ؟
وقار خان۔زبان کسی کی ملکیت نہیں جو مزاج کو بھا جائے وہ راس آ جاتی ہے ،میری مادری زبان سرائیکی ہے میں اس میں بھی کچھ کرنا چاہوں گا مگر اردو میرے مزاج میں شامل ہے زبان کو ئی بھی ہو ادب ضروری ہے
صبح پاکستان:۔نوجوان شعرا کے نام کیا پیغام دیں گے ؟
وقار خان۔نئے شعراء کو ایک پیغام دوں گاکہ اپنے مشاہدات اور احساسات کولے کے آئیں ،زمانے کے ساتھ لکھنا سیکھو ،کیوں ان سے مستعار لیتے ہو جو چلے گئے ہیں ،شعر کہو اور شاعری کا حق ادا کر دو۔
نمونہ کلا م
غزل
میرے اپنوں کو مرے سامنے مارا تُو نے ،
پُل صراط ایسی ہی ہے ؟ جس سے گزارا تُو نے ؟
تیرے سینے پہ اترتا تو کوئی بات بھی تھی ،
مجھ کو بنجر سی زمیں پر ہی اتارا تُو نے ،
تُجھ سے چھِن جائے سہارا تو پتہ چل جائے ،
اے خدا چھین لیا میرا سہارا تُو نے ،
مجھ کو احساس ہے کہ میں ہی غلط ہوں لیکن،
جو کیا ٹھیک کیا ؟ سارے کا سارا تُو نے ؟
اُس کے چُلو میں جو آیا تو وہ زم زم نکلا،
اور سمندر بھی دیا مجھ کو تو کھارا تُو نے ،
روح کی روح کو بھی وار دیا تُجھ پہ وقارؔ ،
اور مٹی کا کیا جسم بھی پیار ا تُو نے ۔
انٹر ویو :۔۔۔۔۔۔۔ملک فہیم منجوٹھہ
With The Grace Of Allah and Parent's Prayers ,
am Awarded With Big Honor. "Young Scientist Award"
From World Academy Of Sciences America.
Special Thanks to Respected Sadat Kareem Salih For This Favor.
( Nawa-e-Waqt, Khabrain, Insaf Newspapers, all Newspapers of Layyah, Local chanells of


Lahore)

Jaun main sharminda hon. By Dr.Waqar Khan

جون میں شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔
تُو چلا گیا، جلدی چلا گیا، ملے بغیر، میں تجھے یاد کیا، بہت یاد کیا ، وہ اِس لیے کہ یہ دنیا مرے ساتھ بھی ویسے ہی کر رہی ہے جیسے ترے ساتھ کیا۔ تُو نے کیا کر لیا تھا جو میں کچھ کر پاتا، تُو قلم گھِستا رہا ، میں بھی گھِستا رہوں گا، تری بات ضائع گئی ، مری بات بھی ضائع جا رہی ہے ، تُو نے الفاظ کا زور لگایا تو کیا بدلا؟ اور مرے الفاظ میں زور ہی نہیں ، وہ الفاظ کیسے ہوا کرتے ہیں جو اثر رکھتے ہیں،کیا وہ کسی اور زبان کسی اور رسم الخط کسی اور مخلوق کے ہاتھوں لکھے گئے ہوتے ہیں ؟
تجھے بے وفائی کا سامنا ہوا اور مجھے وفا ملی ہی نہیں ، توُ نے زندگی سے گلہ کیا اور مجھے زندگی اب تک نہیں ملی ، ملی تو گلہ کروں گا، ترے خونی رشتوں نے تجھے تنہا کیا اور مجھے رسوا، تُو نے کیسے جھیل لیا اِس دنیا کو اتنے سال، میں تو اِس دنیا سے مایوس ہو چکا ہوں۔ تجھے پتہ ہے میں نے محبت کر لی ہے ، شاید ترے بعد مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
ایک بات بتا۔۔۔۔ کیا دنیا سب کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہے ؟ تو وہ لوگ جو خوش دکھائی دیتے ہیں وہ کس دنیا کے ہیں ؟ یا دنیا صرف اُن لوگوں کی ہے ؟ یہ دنیا ہمیں ہی کیوں راس نہ آئی ؟ کیا سب کے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں یا ہمارے ہوئے ؟ کیا سب کا لکھا خام گیا یا ہمارا؟ کیا سب کو نفرت نصیب ہوئی یا صرف ہمیں ؟
جانی ۔۔۔۔ میں تم سے شرمندہ بھی ہوں اور ناراض بھی ۔ تُو نے دنیا کو چھوڑنے کی ٹھانی تھی اور میں خود کو ، میں بھی ایسا ہی کرتا لیکن میں جون نہیں ایک ٹوٹا ہوا کم حوصلہ شخص ہوں۔ تُو نے رشتوں سے ہار کر دنیا چھوڑی تھی اور میں دنیا سے ہار کر رشتوں کو اپنا رہا ہوں، تُو جانتا تھا یہ سب رشتے کیا ہیں ؟ جانتا میں بھی ہوں یہ رشتے کیا ہیں لیکن میں وہ گلہ دور کرنا چاہتا ہوں جو تم سے رشتوں کو رہا ، خونی رشتوں کو۔
میں خود کو چھوڑ کر رشتوں کو بچا رہا ہوں۔
جون میں شرمندہ ہوں۔
ڈاکٹر وقارخان۔

Jo tujhy aru mujhy aik kar saka nahien Ghazl by Dr.Waqar Khan

جو تجھے اور مجھے ایک کر سکا نہیں ،
وہ ترا خدا نہیں ، وہ مرا خدا نہیں ،

زندگی ملی کبھی تو گلہ کریں گے پر ،
زندگی ملی نہیں تو گلہ کیا نہیں ،

میں جو اِس دیار میں اب تلک نہیں مرا ،
کیا مرا کوئی عزیز اب یہاں بچا نہیں ؟

جس کے احترام میں سر کٹا دیا گیا ،
اُس کو تو خبر نہیں ، اُس کو تو پتہ نہیں ،

خود سے دور ہو گئے ، چُور چُور ہو گئے ،
رسی جل گئی مگر اُس کا بل گیا نہیں ،

زخم کی نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکا ،
تُو وقار خان ہے ، جون ایلیا نہیں ۔
ڈاکٹر وقار خان۔

Dekh pagli na dill laga mery sath . Ghazal by Dr.Waqar Khan

دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے ساتھ ،
اتنی اچھی نہیں وفا مرے ساتھ ،

یار جو مجھ پہ جان وارتے تھے ،
کیا کوئی واقعی مرا مرے ساتھ ؟

میں تو کمزور تھا میں کیا لڑتا ،
وہ مگر پھر بھی لڑ پڑا مرے ساتھ ،

میں پریشان تو نہیں مرے دوست ،
اتنی ہمدردی مت جِتا مرے ساتھ ،

اے خدا تُو تو جانتا ہے مجھے ،
تو نے پھر ایسا کیوں کیا مرے ساتھ ،

اب مرے پاس پھوٹی کوڑی نہیں ،
اب نہیں کوئی بولتا مرے ساتھ ،

کیا خبر تجھ کو اچھے لگ جاتے ،
تُو اگر اُس کو دیکھتا مرے ساتھ ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Mery hontoon ka abhi zehr try jism main hy . By Dr.Waqar Khan

میرے ہونٹوں کا ابھی زہر ترے جسم میں ہے ،
تُو اگر بچھڑا تو کیا چین سے رہ پائے گا ؟

اے سخن فہم مرے شعر سے کیا لگتا ہے ؟
کیا مرے بعد مجھے یاد رکھا جائے گا ؟

میں تو اِس شوق میں ہوتا ہوں کہ کچھ بولیں لوگ ،
بولنا اپنا کبھی رنگ تو دکھلائے گا ،

تُو جو اب ساتھ نہیں ہے تو یہی لگتا ہے ،
اب خدا بھی تو مرے کام نہیں آئے گا ،

جو بھی کہنا ہے یہاں جھوٹ کے انداز میں کہہ ،
سچ اگر تُو نے کبھی بولا تو پچھتائے گا ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

Mera Paigham Bhalla taigh Kahana roky gi. Dr.Waqar Khan


Wo mera yaar hy par meri maanta nahien hy . Ghazal by DR.WAQAR KAHN

غزل
وہ میرا یار ہے پر میری مانتا نہیں ہے ،
وہ درد دیتا ہے پر درد بانٹتا نہیں ہے ،

یا اُس کو میری زباں کی سمجھ نہیں آتی ،
یا جان بوجھ کے اِس سمت دیکھتا نہیں ہے ،


تُو اُس کے پاس کبھی جا کے تھوڑا وقت گزار ،
کہ جتنا تُو نے سُنا اُتنا وہ برا نہیں ہے ،

وہ بولی تیرے لیے خاندان کیوں چھوڑوں ؟
وقارؔ تجھ سے مرا رشتہ خون کا نہیں ہے ۔
ڈاکٹر وقار خان۔

zyada sochnay walay tujhay pata nahi hai : poet waqar khan

زیادہ سوچنے والے تجھے پتہ نہیں ہے ، 
جو تجھ کو سینے لگاتا ہے وہ ترا نہیں ہے ،

وہاں پہ ہم بھی ہیں موجود ڈھونڈنے والی ، 
سو تیرے دل میں اکیلا ترا خدا نہیں ہے ،

تمہیں پتہ ہے کہ تم کس لیے ہوئے ہو ذلیل ؟
تمہارے پاس کوئی اپنا نظریہ نہیں ہے ،

ہیں بد دماغ مری طرح میرے سارے دوست ،
کوئی بھی دنیا کے بارے میں سوچتا نہیں ہے ،

اے لڑکی تجھ کو بھلا مجھ میں کیا نظر آیا ؟
وقارؔ خام صفت تیرے کام کا نہیں ہے  

ڈاکٹر وقار خان