Friday, 22 January 2016

Zat ka jo safar kry to kry Ghazal by DR.WAQAR KHAN

ذات کو جو سفر کرے تو کرے،
اپنے قدموں کو " پَر " کرے تو کرے،

میرے الفاظ تو گئے ضائع،
اب مرا خوں اثر کرے تو کرے،

مجھ سے تو یہ بسر نہیں ہوتی،
زندگی " وہ " بسر کرے تو کرے ،

بھیک اب مانگتا نہیں ہوں میں،
تُو اِدھر خود نظر کرے تو کرے،

وہ تو پھر خودکشی نہیں ہوتی،
جو ترے نام پر کرے، تو کرے،

میں نہیں کر سکا ہوں ، پر یہ وقت،
قدر میری اگر کرے ، تو کرے۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

No comments:

Post a Comment