Friday, 22 January 2016

Ideas of Aristotle and Ibn e Sina Explained by Dr.Waqar Khan

ارسطو نے فلسفہ نظری کی تین قسمیں بیان کی ہیں ،
ریاضیات ، طبیعات ، علم لاہوت
اس لحاظ سے ابنِ سینا نے موجودات کے حوالے سے مزید بات بڑھائی اور موجودات کی تین اقسام بیان کیں جو یہ ہیں :
1)
ایک وہ جو صرف ممکن کے ذیل میں ہیں جو صرف پیدا ہو کر فنا ہو جاتی ہیں ۔
2)
دوسری وہ ہیں جو ممکن کے ذیل میں لیکن ایک خارجی سبب سے ان میں وجوب پایا جاتا ہے یعنی وہ فانی ہونے کے باوجود باقی رہ جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
3)
تیسری قسم اس ذاتِ بر تر تک محدود ہے جو بذاتِ واجب ہے اور اسے اللہ کہتے ہیں ۔
یہ سوال اٹھایا محترمہ رضوانہ سعید نے اور اس حوالے سے ان موجودات کی مثالیں پوچھیں تو میں کچھ بیان کیں جو یہ ہیں :

1)
پہلی قسم جس کو فنا ہے ، وہ مادہ ہے ، وہ وجود ہے ، اور ہر وہ شے وجود رکھتی ہے جو محدود احاطے کی حامل ہو ، صرف خدا کا وجود نہیں وہ وجود سے ماوراء ہے ، یہ قسم انسان ، حیوان ، زمین ، پہاڑ اور ان جیسی تمام اشیاء کو اپنی حد میں رکھتی ہے ۔
2)
دوسری قسم وہ ہے جو ایک حد تک مادہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن طبیعات اور اعلیٰ علوم کی حیثیت سے بھی اوپر کا درجہ رکھتی ہے ، اصل میں وہ کچھ عجیب ہے ، اُسے نور کہیں یا کلام ، لیکن وہ اُس سے ہے جس سے یہ تمام جہان بنے ، اور اُس نے ہی اپنے کلام ِ کن سے یہ سب بنایا ، اب دیکھیں یہ مادہ بھی اسی سے بنا اس لیے اس کلام کا تعلق اس مادہ سے ہے ، وہ کلام ہی تھا جس کے ہونے سے یہ مادہ و غیر مادہ سب بنا ،
اب بات الجھانے کی بجائے سیدھی بات یہ کہ "کلام" ایک درمیانی رابطہ رہا ، وجود اور ماورائے وجود کے درمیان ، کلام ایک طرف تو اُس سے جڑا ہے جو کلیم ہے ، اور دوسری طرف اس سے جڑا ہے جسے کلام عطا ہوا اور وہ کلام کرنا نہ جانتا تھا ، کلام پہلی قسم سے بھی جڑا ہے یعنی مادہ اور انسان سے بھی ، تیسری سے بھی جڑا ہے یعنی اس واحد سے بھی ، یہ درمیانی صورت دوسری قسم جب پہلی قسم سے جڑی تو فنا کو قبول کر کے بھی بقا پا گئی کیونکہ اس کا تعلق تیسری قسم سے بھی تھا ۔ بات یہ ہے کہ جب یہ وجود سے ملی تو فنا ہوئی ، اور جب ماورائے وجود سے نکلی تو بقا رکھتی ہے ۔
علوم کی تین اقسام میں سے دوسری قسم جو ارسطو اور ابنِ سینا نے بیان کی ، دوسری قسم کو کہا گیا کہ وہ ایک حد تک طبیعات سے ماوراء اور بلند بھی ہے اور وجود سے جڑی بھی ، یہ دوسری قسم کلام ہی ہے ، جو فنا ہو کر بھی بقا کی حامل ہے ۔
کلام ایک پل ہے ان دو کے درمیان جو کلیم ہے اور جسے عطا ہوا ۔
وہ پیکر جب پیدا ہوا تو لا علم تھا ، پہلے اسے آگہی عطا کی گئی تو وہ با علم ہوا لیکن پھر بھی خاموش تھا ، وہ وقت ایسا تھا جب کسی کو کچھ بولنے اور سوال کرنے کی اجازت بھی نہ تھی ، وہ پیکر بھی خاموش تھا ، پھر اسے کلام عطا کیا گیا تو وہ بولنے لگا ، وہ کلام کرنے لگا اور آج تک کرتا آ رہا ہے ، وہ سوال کرنے لگا اُس پر بھی جس سے سوال کرنے کی طاقت عطا کی ۔
یہ کلام ہی دوسری قسم ہے جو درمیانی پل ہے فنا اور بقا کے بیچ ۔
3)
تیسری قسم وہ ہے جو مادہ اور وجود سے ماوراء ہے ۔ وہ احساس سے بھی زیادہ حساس اور جذب ہو جانے والی ہے ، اس قسم سے متعلق علم طبیعات ، ریاضیات اور فلاسفی سے ماوراء ہے جس کو تسلیم کرنے کے لیے تمام علوم کو جھکنا پڑتا ہے کیونکہ تمام علوم کی اصل وہ ہے ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔

No comments:

Post a Comment