مرا آگے بڑھنے کا شوق بھی، مرا حوصلہ بھی فریب تھا،
مجھے منزلوں کا گُمان کیا، مرا راستہ بھی فریب تھا،
ہم اندھیر نگری کے باسیوں کو پتہ کبھی بھی نہ چل سکا،
وہ جو روشنی تھی فریب تھی، اور وہ دِیا بھی فریب تھا،
جو مرا خیال و بیان تھا، مجھے خُود کو بھی نہ بدل سکا،
مری زندگی بھی زیاں رہی، مرا فلسفہ بھی فریب تھا،
میں نے مسجدوں کی زیارتوں میں خُدا بھی اپنا گنوا دیا،
مری پوجا پاٹ بھی جھوٹ تھی، مرا دیوتا بھی فریب تھا،
ترے سارے وعدے سراب تھے، تری ساری قسمیں بھی ڈھونگ تھیں،
ترا صد کہا بھی فریب تھا، ترا اَن کہا بھی فریب تھا،
جو وقار چہروں کی بھیڑ تھی وہ فسونِ رنگِ حیات تھا،
سرِآئینہ بھی فریب تھا، پسِ آئینہ بھی فریب تھا۔
ڈاکٹر وقار خان
مری زندگی بھی زیاں رہی، مرا فلسفہ بھی فریب تھا،
میں نے مسجدوں کی زیارتوں میں خُدا بھی اپنا گنوا دیا،
مری پوجا پاٹ بھی جھوٹ تھی، مرا دیوتا بھی فریب تھا،
ترے سارے وعدے سراب تھے، تری ساری قسمیں بھی ڈھونگ تھیں،
ترا صد کہا بھی فریب تھا، ترا اَن کہا بھی فریب تھا،
جو وقار چہروں کی بھیڑ تھی وہ فسونِ رنگِ حیات تھا،
سرِآئینہ بھی فریب تھا، پسِ آئینہ بھی فریب تھا۔
ڈاکٹر وقار خان
No comments:
Post a Comment