یہ دنیا لاکھ نہ مانے، پر مجھ میں رہے مرا یار،
میں نوکر اپنے یار کا، مرا رب وی میرا یار،
میں اَکھّیاں بند کر مان لوں جو حکم کرے مرا یار،
کیا "نرک بہشت" کے چکر، کیا "گھاٹا وادھا" سوچنا،
چُپ سادھے ساتھ میں چل دوں، جہاں لے کے چلے مرا یار،
ہو بے چینی بھری عمر کی یا مرگ کی لمبی نیند،
میں اپنے پَلّے باندھ لوں مجھے جو کچھ دے مرا یار،
میرے آنسو پُونچھ کے "سونہنا" مرا ماتھا چُومتا جاوے،
میں سینے لگ کے روؤں ، مرے درد سہے مرا یار،
مری تختی کوری ذات کی، مرا اندر باہر صاف،
مرا دین وقار وہ ہو گا ، اب جو بھی لکھے مرا یار۔
ڈاکٹر وقار خان
چُپ سادھے ساتھ میں چل دوں، جہاں لے کے چلے مرا یار،
ہو بے چینی بھری عمر کی یا مرگ کی لمبی نیند،
میں اپنے پَلّے باندھ لوں مجھے جو کچھ دے مرا یار،
میرے آنسو پُونچھ کے "سونہنا" مرا ماتھا چُومتا جاوے،
میں سینے لگ کے روؤں ، مرے درد سہے مرا یار،
مری تختی کوری ذات کی، مرا اندر باہر صاف،
مرا دین وقار وہ ہو گا ، اب جو بھی لکھے مرا یار۔
ڈاکٹر وقار خان
No comments:
Post a Comment