تنقیدی سلسلہ
(ڈاکٹر وقارخان)
غزل: ارشد عباس ذکی
یہ جو زخمِ دل ہے اِسے رفو نہیں کر رہا ،
میں ترے حوالے سے گفتگو نہیں کر رہا ،
کوئی اور ہے جسے ساری باتوں کا علم ہے ،
مرا راز افشاء مرا عدو نہیں کر رہا ،
یہاں سارے شہر کو علم ہے کہ میں تیرا ہوں،
مرا اعتبار تو صرف تُو نہیں کر رہا ،
میری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں ،
میں ورق ورق کو یونہی لہو نہیں کر رہا،
دلِ خوش گماں تجھے بس اِسی کا ملال ہے ،
دلِ آرزو تری آرزو نہیں کر رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید کسی بھی فن پارے میں حسن و قبح ، محاسن و معائب ، خوبیاں اور اسقام الگ الگ کرنے کا نام ہے ،
اردو نے جس تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے کیا اُسی رفتار سے اردو تنقید نے بھی
ترقی کی ؟ کیا اردو تنقید اس قابل ہوئی ہے کہ اِسے یونانی ، رومی ،
اطالوی، فرانسیسی یا انگریزی ادب کی تنقید کے مساوی پیش کیا جا سکے ؟ کیا
اردو تنقید نے اپنے اصول وضع کیے یا مستعار نظریات کی مرہونِ منت ہے ؟ کیا
اردو تنقید اپنی جملہ خامیوں اور ممکنہ خوبیوں سے آگاہ ہے ؟
اردو
غٖزل نے جتنی تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور جس طرح اردو غزل کے تقاضے بدلے ہیں
ہمیں چاہیے تھا اِس سے فائدہ اٹھا کر اِسے اپنی طاقت بناتے لیکن بدقسمتی
سے ہم نے اس کو کمزوری بنا کر اپنی غزل کو دوسری اصناف کے سامنے کمزور ثابت
کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
ارشد عباس ذکی کی غزل:
ارشد عباس ذکی کی اس غزل کو پڑھ کر روایت سے جڑے ہونے کا احساس ہوا،
مجموعی رائے کے مطابق غزل نظریاتی عوامل کی حامل دکھائی دی ۔ اور اِس غزل
پر نظریاتی تنقید ہی کی جا سکتی ہے ۔
(Theoratical Criticism)
اچھی غزل وہ ہے جو نظریاتی عوامل سے چل کر عملی مراحل تک کا سفر کرے ۔ شعر
توضیح و تشریح طلب ہو تو اُس سے کھلنے والے در معاندانہ نہ ہوں اور اپنی
اصل پر قائم ہوں اور یہ خوبیاں اِس غزل میں موجود ہیں۔ خیال کی پختگی،
نفاست ، روانی ، نفسیاتی جذباتیت اور تغزل موجود ہے ۔ مصرعہ سازی ، فنی
مہارت ، کرافٹ اور سب سے بڑی بات ارشد عباس ذکی نے اپنے زاویے سے غزل کو
پیش کیا اور سہلِ ممتنع میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنا مدعا پیش کیا اور
شعوری کوشش سے دور رہ کر آسان لہجے میں اثر انگیز شعر کہے ۔
رہی
بات معائب اور خامیوں کی توغزل کے اشعار اکتشافی ہیئت سے دور نظر آتے ہیں،
اکتشافی ہیئت جدت پسندوں کی اختراع ہے اور جدت پسند طبقے کے اچھوتے نظریات
اور کچھ ذاتی فلاسفی اور نئے الفاظ و تلازمات جو اردو کو دیے جا سکتے ہیں
جو پہلے موجود نہ ہوں ، کچھ ایسا نظریہ کچھ ایسا تصور جو اب تک موجود نہ ہو
اور شاعر اگر ایسے نئے نظریات پیش کر سکے تو یہ بڑی بات ہوتی ہے ۔ ارشد
عباس ذکی کی اس غزل میں یہ ہیئت موجود نہیں۔ تخلیق کے داخلی و باطنی
محرکات کو سامنے رکھ کر کچھ نئے تصورات پیش کیے جانے چاہیے تھے ۔ ایک شعر "
مری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں" توضیحی عنصر رکھتا ہے جس پر سیر
گفتگو ضروری ہے ۔ ایک حد تک غزل روایت سے جڑی ہے ۔
1:
یہ جو زخمِ دل ہے اسے رفو نہیں کر رہا ،
میں ترے حوالے سے گفتگو نہیں کر رہا ،
روایتی شعر جس میں ایک گلہ ہے ، روانی اور تغزل کی بہترین مثال ہے ۔ سہلِ
ممتنع ہے اور خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا ہے کہ
محبوب کے دیے گئے زخم کو نہ ہی رفو کر رہا ہوں اور نہ ہی تجھے اس کا ذمہ
دار ٹھہرایا گیا ہے
2:
کوئی اور ہے جسے ساری باتوں کا علم ہے ،
مرا راز افشاء مرا عدو نہیں کر رہا ،
نفاست اور روانی سے بھر پور شعر جو اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ شعر تشریح طلب
ہے اور فنی حوالے سے مکمل ہے ۔ کوئی دشمن نہیں بلکہ اپنا ہے جسے مرے تمام
حالات اور ارادوں کو پتہ ہے جو راز باہر کر رہا ہے ۔
3:
یہاں سارے شہر کو علم ہے کہ میں تیرا ہوں،
مرا اعتبار تو صرف تُو نہیں کر رہا ،
سہلِ ممتنع اور نفاست سے بھر پور شعر ہے جو پڑھ کر قاری کو با آسانی سمجھ آ سکتا ہے اور اثر رکھتا ہے۔
4:
میری سرگزشت میں چودہ صدیوں کے زخم ہیں ،
میں ورق ورق کو یونہی لہو نہیں کر رہا،
یہ شعر جسے بیان کرنے کے لیے ساختیات اور اسلوبیاتی عوامل کو سامنے رکھنا
ہوگا۔ یہ شعر نظریاتی، عملی ، تشریحی اور تدریسی حوالوں سے بھر پور ہے ۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دو طبقوں پر محیط ہیں، ایک وہ جو قربانی دیتا ہے
اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ قربانی کا احساس کسی کو نہیں ہو گا وہ سر کٹانے
سے باز نہیں آتا۔ اور دوسرا وہ طبقہ جو قربانی مانگتا ہے ، قربانی لے لینے
کے بعد بھی معاف نہیں کرتا اور بے حسی کا شکار رہتا ہے ، دراصل یہ طبقہ
ذہنی اور عملی طور پر کمزور طبقہ ہے ۔
چودہ صدیوں کا قصہ ہے اور لفظ لفظ خون رو رہا ہے ۔
اس شعر پر جتنی بات کی جائے کم ہے ۔
5:
دلِ خوش گماں تجھے بس اِسی کا ملال ہے ،
دلِ آرزو تری آرزو نہیں کر رہا ۔
یہ شعر شعریت اور اسلوب کا حامل ہے ۔ تشکیلات اور جامع مفہوم اس شعر کی
خوبیوں میں شامل ہیں۔ بیان کیا گیا کہ خوش گماں دل تجھے اس بات کا دکھ ہے
کہ اب یہ دل تری آرزو ہی نہیں کر رہا کیوں کہ آرزو زندہ رہنے کا نام ہے اور
حقیقت پسندی میں زندہ رہنا بہت دشوار کام تصور کیا جاتا ہے ۔
ارشد عباس ذکی کے لیے دعائیں اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقار خان۔
No comments:
Post a Comment