تنقیدی سلسلہ "حقِ تنقید"
ڈاکٹر وقار خان
غزل : ممتاز گرمانی
اردو زبان سے تعلق کا اظہار کرنے والا کوئی بھی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ زبان وسیع ہے جو ہر زبان کو اپنے اندر سما لینے کا حوصلہ رکھتی ہے سوائے انگریزی کے۔ ساخیتات ، ایک ایسا علم جو ہیئت اور اثر کو بیان کرتا ہے ، اب ساخت الفاظ کی بھی ہو سکتی ہے اور خیالات و رموز کی بھی ، لیکن ہر وہ بیان جو اپنے اندر مکمل ہو گا وہ علم ِ ساختیات کے قوانین پر پورا اترتا ہے اور اردو زبان وہ واحد زبان ہے جو شاید لاطینی اور یونانی زبانوں کے مقابلے میں اپنے اندر زیادہ اثر رکھتی ہے لیکن ہمیں احساس شاید کبھی نہ ہو ۔
مستقبل ، کسی بھی عمل کے مرحلہ وار آگے بڑھنے اور نئی ہیئت میں تبدیل ہو کر ایک نیے عمل کے ظہور کا نام ہے ۔ اردو کے مستقبل کے بارے میں بات کی جائے تو میری بتائی گئی اس تعریف کے مطابق اردو مرحلہ وار آگے بڑھی ، نئی ہیئت کی طرف رواں دواں بھی ہے ؛ لیکن کیا نئی ہیئت کے بعد ایک مکمل نئی شکل اور عمل کے ساتھ ظہور ہو سکے گی ؟ اردو کا مسقبل شاید اُن بدنصیبوں کے ہاتھوں میں ہے جنہیں ہم شاعر ، ادیب ، اور نقاد کہتے ہیں ، لیکن یہ جس طبقے کے لوگ ہیں وہ طبقہ تخلیق کی پیداوار ہے لیکن تخلیق دو طرح کی ہوتی ہے ، اچھی تخلیق اور بری تخلیق۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مسقبل کا تعین کرنے والے اچھی تخلیق کی پیداوار ہیں یا بری تخلیق کی ، کیا ذاتی مفاد اور آسانی کی خواہش میں ریاضت کو چھوڑ کر شارٹ کٹس ڈھونڈنے والے اردو کو اُس سمت میں لے کر چلنے کا فن جانتے ہیں؟
مجھے معلوم ہے آپ مری باتوں سے تنگ پڑ رہے ہوں گے لیکن مری ایک مجبوری ہے ، میں بولنا چھوڑ نہیں سکتا ، لکھنا ترک کرنا مرے لیے سانس ترک کرنے کے مترادف ہے ، میں جانتا ہوں میں کچھ نہیں ، لیکن میں اُن نظریہ دان ہستیوں کی تلاش میں سرگرداں ہو جو شاید اردو کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
کیا خبر میں کامیاب بھی ہوپائوں گا یا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ ادھر ہی موجود ہیں لیکن ہم نے اُن کو نظر انداز کر کے بری تخلیق کے حامل الفاظ کو واضح کیا ہوا ہے اور یہی تخلیق بے سود ہے ۔ بولنا ایک مشکل کام ہے اور جو بول اٹھے وہ پھر چپ نہیں کر سکتا ، اس لیے اکثر لوگ چپ رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بولنے کا ہرجانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔
آج سے تقریبا چار ہزار سال قبل ادبی تخلیق اور شعوری تنقید پر کیا گیا کام جس کا خالق خاخپ اور اسونب تھا ۔خاخب اور اسونب نے اس تخلیقی کام میں ادب اور تخلیق کو امر قرار دیا اور یہ تصنیف فراعنہ مصر کے بارہویں خاندان (1786/ 1991 ق م ) کے زمانے میں تخلیق کی گئی ۔ وہ تخلیق آج تک کیوں یاد رکھی گئی کیوںکہ اُس نے مرحلہ وار ادب اور شعور کی نئی جہتوں کو کھولا اور آج تک یاد رکھی گئی ۔ اب جب ہم افلاطون اور ارسطو کی بات کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہم ابھی اُن سے تفصیلی ملاقات کر کے آ رہے ہوں ، یہ ذرا بھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ صدیاں ہوئیں بیت چکے ہیں اور ہم میں سے بڑے سے بڑے ادیب نے بھی اُن سے ہاتھ ملا کر نہیں دیکھا ؛ جب بھی اُن کے نظریات کے بارے میں بات کی جائے تو ہم چاہے بات اردو میں کریں یا سرائیکی، انگریزی میں یا فراسیسی، عبرانی ہو یا لاطینی ، لیکن بات ایک ہی رہتی ہے کیوں کہ وہ بات صرف بات نہیں ایک تخلیق تھی ، اچھی تخلیق ، اور صرف تخلیق ہی کو بقا حاصل ہے جو آج کل بہت کم دکھائی دے رہی ہے ۔
ممتاز گرمانی کی غزل :
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
ممتاز گرمانی کی غزل ساخت ، اسلوب ، فن ، روانی اور نئے مضامین کے ساتھ مخصوص لہجے کی حامل ، نظریاتی عوامل پر مشتمل جو اپنے اندر تشریحی موضوعات رکھتی ہے۔ سلاست، مصرع سازی تغزل اور ایک حد تک روایت سے جڑی غزل ہے اور یقینا اچھی تخلیق میں شمار کی جائے گی اور یہی تخلیقی رویہ کسی بھی شاعر کی تخلیق کو زندہ رکھتا ہے ۔
معائب کی بات کی جائے تو آخری شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ممکن ہے جسے میں آخر پر بیان کروں گا ۔
1)
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
اسلوب اور عنوان کے حوالے سے خوبصورت شعر ہے جو روایت کی مضبوطی کا اظہار ہے ، تشکیل اور زبان کے حقوق کو واضح کر رہا ہے ۔ ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ ہم نے رائگانی کا فن سیکھا ہے ، اور اس انداز سے سیکھا ہے کہ یا تو رائگاں ہوئے یا رائگاں کیا ۔ فن کو جہل کی نذر کر کے اپنے مسقبل کو رائگاں جانے دیا۔ اس شعر میں یہی بیان ہوا کہ ہنر مت گنوا مرے دستکار ہنر مت گنوا ، لیکن اس معاشرے میں ہنر کی قدر ہی کیا ہے ۔
2)
نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
روایت سے جڑا انتہائی خوبصورت شعر ، تشریحی عنصر کے ساتھ ایک امید اور اپنے کام کی لے کے ساتھ بہتا ہوا شعر ہے ۔ وہ جو ہے اُس سے بہتر ہے جو ہونا ہے ، کیا پتہ ہو جو ہو گا اِس سے بھی برا ہو جو اب اچھا نہیں ہے ۔ شمار بے برکتی کا باعث ہے اور یہی شمار اب اردو کے پیچھے پڑا ہے جو اس کو سر اٹھانے نہیں دیتا ، ہر ادیب اپنی اہمیت اور حیثیت کے سکوں کو شمار کرتے نہیں تھکتا اور اس شمار کے وزن نے اردو کی کمر جھکا دی ہے ۔ عاجزی وہ شے ہے جو مفاد سے ماوراء ہے اور صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہے لیکن عاجزی بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔
3)
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
اکتشافی عوامل ، نئے عنوان کا حامل شعر جو
Descriptive Criticism
کے حوالے سے اپنی الگ اہمیت کا حامل ہے ۔" زمینِ دل پہ تہجد گزار پھول بنا " کتنا دلکش مصرعہ ہے ۔ ہم نے یہ ہی تو جانا ہے کہ جو نہیں وہ پیش کیا جائے اور جو ہے اُسے چھپایا جائے اور اس کام میں ہم کامیاب بھی ہوئے اور افسوس کے ہم انسان ہیں ، یہی المیہ اس شعر میں خوبصورتی سے بیان ہوا ہے ۔
4)
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
معاندازنہ عناصر سے دور روایت سے جڑا سہل ِ ممتنع اور اثر انگیز شعر ہے ۔ سننا بہت تکلیف دہ ہے اور صبر طلب بھی ، اور ہم نہ ہی صبر کرنے کے حامل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی تکلیف برداشت کرنے کے ، لیکن خالی ہاتھ لوٹنا تکلیف دہ نہیں ؟ شاید نہیں کیوں کہ خالی ہاتھ لوٹنا آسان ہے بجائے فکر و فقر کا بوجھ اٹھا کر آنے سے ۔ موجودہ زمانہ جلد بازی کا شکار ہے اور شاید وقت نے بھی جلد گزر کر جلد بازی کا ثبوت دیا ہے ۔ شعر میں یہی بات بیان کی گئی کہ میں نے اُس کی سنی ہی نہیں اس لیے خالی ہاتھ لوٹا؛ تشریح طلب موضوع کے ساتھ خوبصورت شعر ہے ۔
5)
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
روایت سے جڑا خوبصورت ، رواں شعر ہے اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا کہ یہ زندگی چار دن کی مہمان ہے سو اس کے واسطے چار پھول بنا ، لیکن زندگی چار دن میں چالیس صدیوں کا سفر کاٹنے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس کے لیے پھول اپنی سانسوں کی بلی دے کر اور خون سے سینچ کر بنانے پڑتے ہیں اور شاعر نے کتنی آسانی سے کہہ دیا اور یہی شعر کی خوبصورتی ہے ۔
6)
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
تشکیل ، پسِ تشکیل ، ہیئت اور ساخت ، زبان ، اسلوب ، تشریحی عوامل ، نظریاتی منطق کا حامل شعر جو مجھے دل سے اچھا لگا ۔ مجھے یہ بیان کرنے میں ذرا بھی خوف نہیں ہو گا کہ یہ اچھی تخلیق کا اچھا شعر ہے ۔ میں اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر آ کھڑا تھا جہاں دو راستے تھے ، ایک زندگی کا راستہ ، دوسرا مایوسی کا، آپ سوچیں گے زندگی کے ساتھ موت کا تلازمہ جچتا تھا لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا ، موت اتنی بڑے شے نہیں ، جس قدر مایوسی ۔ میں زندگی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا ، جینا چاہتا تھا ، لیکن سب لوگ مرا منہ چِڑا رہے تھے ، مجھے واضح الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ تُو اس قابل نہیں کہ زندگی کی راہ پر چل سکے ، پھر میں نے ایک فیصلہ کیا ، میں نے خود سے کہا کہ تم اپنا کام کرو اور لوگوں کو اُن کا کام کرنے دو۔ لوگوں کا کام بہکانا ہے سو وہ بہکاتے رہیں ، میرا کام آگے بڑھنا ہے سو میں بڑھتا رہوں ؛ اور میں آگے نکل آیا ، اُن سب سے ۔ اس شعر کوپڑھ کر کے مرے اندر کا بوجھ کم ہوا اور مجھے غرض نہیں اس بات سے کہ لوگ کیا سوچتے ہوں ۔
7)
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
جمالیاتی احساس اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا خوبصورت شعر لیکن اس شعر کو میں نے غزل کے معائب و اسقام میں شامل کیا ۔ شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ہو سکتی ہے ۔ سبز پری کے ساتھ چلنے سے ہر ایک کانٹا پھول بنا، بالکل ایسا ہو سکتا ہے ؛ خوبصورتی و روئیدگی آ ئے گی ، بالکل آ سکتی ہے ۔ سبزہ اور سبز پن خوبصورتی اور خوشحالی کی علامت ہیں ، لیکن زمیں پر "گھاس" اگنا تلازمے پر پورا نہیں اُتر رہا ۔ اب میں تفصل سے بیان کروں گا کہ "سبزہ" اور "گھاس" کی ہیئت اور ساخت میں کیا فرق ہے ۔ " سبزہ " ہریالی اور روئیدگی ہے ، جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو سکتی ہے جو ایک منظر ہے ۔ "گھاس" ایک مختلف
term
ہے جو "چارا" ہےاور جانوروں کی خوراک ہے ، اب سبز پری کے ساتھ چلنے سے سبزہ اگتا تو خوبصورتی میں اضافہ ہوتا اور اگر گھاس اگتی تو اُس منظر نامے پر اثر پڑتا جو شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک اور مثال جیسے "سبز پا" اور "سبز بخت" میں فرق ہے ، "سبز پا" کا مطلب نامبارک کے ہیں اور "سبز بخت" کا مطلب نیک بخت اور مبارک شے کے ہیں ۔ تو اس طرح اس شعر میں مزید بہتری ممکن تھی ۔
ممتاز گرمانی کے لیے نیک تمنائیں اور مزید شعوری در کھلنے کی دعا ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔
ڈاکٹر وقار خان
غزل : ممتاز گرمانی
اردو زبان سے تعلق کا اظہار کرنے والا کوئی بھی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ زبان وسیع ہے جو ہر زبان کو اپنے اندر سما لینے کا حوصلہ رکھتی ہے سوائے انگریزی کے۔ ساخیتات ، ایک ایسا علم جو ہیئت اور اثر کو بیان کرتا ہے ، اب ساخت الفاظ کی بھی ہو سکتی ہے اور خیالات و رموز کی بھی ، لیکن ہر وہ بیان جو اپنے اندر مکمل ہو گا وہ علم ِ ساختیات کے قوانین پر پورا اترتا ہے اور اردو زبان وہ واحد زبان ہے جو شاید لاطینی اور یونانی زبانوں کے مقابلے میں اپنے اندر زیادہ اثر رکھتی ہے لیکن ہمیں احساس شاید کبھی نہ ہو ۔
مستقبل ، کسی بھی عمل کے مرحلہ وار آگے بڑھنے اور نئی ہیئت میں تبدیل ہو کر ایک نیے عمل کے ظہور کا نام ہے ۔ اردو کے مستقبل کے بارے میں بات کی جائے تو میری بتائی گئی اس تعریف کے مطابق اردو مرحلہ وار آگے بڑھی ، نئی ہیئت کی طرف رواں دواں بھی ہے ؛ لیکن کیا نئی ہیئت کے بعد ایک مکمل نئی شکل اور عمل کے ساتھ ظہور ہو سکے گی ؟ اردو کا مسقبل شاید اُن بدنصیبوں کے ہاتھوں میں ہے جنہیں ہم شاعر ، ادیب ، اور نقاد کہتے ہیں ، لیکن یہ جس طبقے کے لوگ ہیں وہ طبقہ تخلیق کی پیداوار ہے لیکن تخلیق دو طرح کی ہوتی ہے ، اچھی تخلیق اور بری تخلیق۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مسقبل کا تعین کرنے والے اچھی تخلیق کی پیداوار ہیں یا بری تخلیق کی ، کیا ذاتی مفاد اور آسانی کی خواہش میں ریاضت کو چھوڑ کر شارٹ کٹس ڈھونڈنے والے اردو کو اُس سمت میں لے کر چلنے کا فن جانتے ہیں؟
مجھے معلوم ہے آپ مری باتوں سے تنگ پڑ رہے ہوں گے لیکن مری ایک مجبوری ہے ، میں بولنا چھوڑ نہیں سکتا ، لکھنا ترک کرنا مرے لیے سانس ترک کرنے کے مترادف ہے ، میں جانتا ہوں میں کچھ نہیں ، لیکن میں اُن نظریہ دان ہستیوں کی تلاش میں سرگرداں ہو جو شاید اردو کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
کیا خبر میں کامیاب بھی ہوپائوں گا یا نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ ادھر ہی موجود ہیں لیکن ہم نے اُن کو نظر انداز کر کے بری تخلیق کے حامل الفاظ کو واضح کیا ہوا ہے اور یہی تخلیق بے سود ہے ۔ بولنا ایک مشکل کام ہے اور جو بول اٹھے وہ پھر چپ نہیں کر سکتا ، اس لیے اکثر لوگ چپ رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بولنے کا ہرجانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔
آج سے تقریبا چار ہزار سال قبل ادبی تخلیق اور شعوری تنقید پر کیا گیا کام جس کا خالق خاخپ اور اسونب تھا ۔خاخب اور اسونب نے اس تخلیقی کام میں ادب اور تخلیق کو امر قرار دیا اور یہ تصنیف فراعنہ مصر کے بارہویں خاندان (1786/ 1991 ق م ) کے زمانے میں تخلیق کی گئی ۔ وہ تخلیق آج تک کیوں یاد رکھی گئی کیوںکہ اُس نے مرحلہ وار ادب اور شعور کی نئی جہتوں کو کھولا اور آج تک یاد رکھی گئی ۔ اب جب ہم افلاطون اور ارسطو کی بات کرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہم ابھی اُن سے تفصیلی ملاقات کر کے آ رہے ہوں ، یہ ذرا بھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ صدیاں ہوئیں بیت چکے ہیں اور ہم میں سے بڑے سے بڑے ادیب نے بھی اُن سے ہاتھ ملا کر نہیں دیکھا ؛ جب بھی اُن کے نظریات کے بارے میں بات کی جائے تو ہم چاہے بات اردو میں کریں یا سرائیکی، انگریزی میں یا فراسیسی، عبرانی ہو یا لاطینی ، لیکن بات ایک ہی رہتی ہے کیوں کہ وہ بات صرف بات نہیں ایک تخلیق تھی ، اچھی تخلیق ، اور صرف تخلیق ہی کو بقا حاصل ہے جو آج کل بہت کم دکھائی دے رہی ہے ۔
ممتاز گرمانی کی غزل :
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
ممتاز گرمانی کی غزل ساخت ، اسلوب ، فن ، روانی اور نئے مضامین کے ساتھ مخصوص لہجے کی حامل ، نظریاتی عوامل پر مشتمل جو اپنے اندر تشریحی موضوعات رکھتی ہے۔ سلاست، مصرع سازی تغزل اور ایک حد تک روایت سے جڑی غزل ہے اور یقینا اچھی تخلیق میں شمار کی جائے گی اور یہی تخلیقی رویہ کسی بھی شاعر کی تخلیق کو زندہ رکھتا ہے ۔
معائب کی بات کی جائے تو آخری شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ممکن ہے جسے میں آخر پر بیان کروں گا ۔
1)
سخن میں حسن کی خوشبو اُتار ، پھول بنا ،
ہنر گنوا نہ مرے دستکار ، پھول بنا ،
اسلوب اور عنوان کے حوالے سے خوبصورت شعر ہے جو روایت کی مضبوطی کا اظہار ہے ، تشکیل اور زبان کے حقوق کو واضح کر رہا ہے ۔ ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ ہم نے رائگانی کا فن سیکھا ہے ، اور اس انداز سے سیکھا ہے کہ یا تو رائگاں ہوئے یا رائگاں کیا ۔ فن کو جہل کی نذر کر کے اپنے مسقبل کو رائگاں جانے دیا۔ اس شعر میں یہی بیان ہوا کہ ہنر مت گنوا مرے دستکار ہنر مت گنوا ، لیکن اس معاشرے میں ہنر کی قدر ہی کیا ہے ۔
2)
نجانے کب ہو تری حاضری وہاں اے دوست ،
یہاں شمار نہ کر ، بے شمار پھول بنا ،
روایت سے جڑا انتہائی خوبصورت شعر ، تشریحی عنصر کے ساتھ ایک امید اور اپنے کام کی لے کے ساتھ بہتا ہوا شعر ہے ۔ وہ جو ہے اُس سے بہتر ہے جو ہونا ہے ، کیا پتہ ہو جو ہو گا اِس سے بھی برا ہو جو اب اچھا نہیں ہے ۔ شمار بے برکتی کا باعث ہے اور یہی شمار اب اردو کے پیچھے پڑا ہے جو اس کو سر اٹھانے نہیں دیتا ، ہر ادیب اپنی اہمیت اور حیثیت کے سکوں کو شمار کرتے نہیں تھکتا اور اس شمار کے وزن نے اردو کی کمر جھکا دی ہے ۔ عاجزی وہ شے ہے جو مفاد سے ماوراء ہے اور صرف اپنے کام سے کام رکھتی ہے لیکن عاجزی بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔
3)
فقط جبیں پہ ریا کاریوں کے پھول نہ کاڑھ ،
زمینِ دل پہ تہجد گزار ، پھول بنا ،
اکتشافی عوامل ، نئے عنوان کا حامل شعر جو
Descriptive Criticism
کے حوالے سے اپنی الگ اہمیت کا حامل ہے ۔" زمینِ دل پہ تہجد گزار پھول بنا " کتنا دلکش مصرعہ ہے ۔ ہم نے یہ ہی تو جانا ہے کہ جو نہیں وہ پیش کیا جائے اور جو ہے اُسے چھپایا جائے اور اس کام میں ہم کامیاب بھی ہوئے اور افسوس کے ہم انسان ہیں ، یہی المیہ اس شعر میں خوبصورتی سے بیان ہوا ہے ۔
4)
میں اُس کی سنتا نہیں تھا سو خالی ہاتھ آیا ،
وہ مجھ سےکہتا رہا بار بار پھول بنا ،
معاندازنہ عناصر سے دور روایت سے جڑا سہل ِ ممتنع اور اثر انگیز شعر ہے ۔ سننا بہت تکلیف دہ ہے اور صبر طلب بھی ، اور ہم نہ ہی صبر کرنے کے حامل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی تکلیف برداشت کرنے کے ، لیکن خالی ہاتھ لوٹنا تکلیف دہ نہیں ؟ شاید نہیں کیوں کہ خالی ہاتھ لوٹنا آسان ہے بجائے فکر و فقر کا بوجھ اٹھا کر آنے سے ۔ موجودہ زمانہ جلد بازی کا شکار ہے اور شاید وقت نے بھی جلد گزر کر جلد بازی کا ثبوت دیا ہے ۔ شعر میں یہی بات بیان کی گئی کہ میں نے اُس کی سنی ہی نہیں اس لیے خالی ہاتھ لوٹا؛ تشریح طلب موضوع کے ساتھ خوبصورت شعر ہے ۔
5)
یہ زندگی ہے ترے گھر میں چار دن مہمان ،
سو اِس کے واسطے اے یار چار پھول بنا ،
روایت سے جڑا خوبصورت ، رواں شعر ہے اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ شعر میں بیان کیا گیا کہ یہ زندگی چار دن کی مہمان ہے سو اس کے واسطے چار پھول بنا ، لیکن زندگی چار دن میں چالیس صدیوں کا سفر کاٹنے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس کے لیے پھول اپنی سانسوں کی بلی دے کر اور خون سے سینچ کر بنانے پڑتے ہیں اور شاعر نے کتنی آسانی سے کہہ دیا اور یہی شعر کی خوبصورتی ہے ۔
6)
پڑی ہے کیا تجھے اُس کی وہ سوچتا کیا ہے ،
تُو اپنی سوچ کا چہرہ نکھار ، پھول بنا ،
تشکیل ، پسِ تشکیل ، ہیئت اور ساخت ، زبان ، اسلوب ، تشریحی عوامل ، نظریاتی منطق کا حامل شعر جو مجھے دل سے اچھا لگا ۔ مجھے یہ بیان کرنے میں ذرا بھی خوف نہیں ہو گا کہ یہ اچھی تخلیق کا اچھا شعر ہے ۔ میں اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر آ کھڑا تھا جہاں دو راستے تھے ، ایک زندگی کا راستہ ، دوسرا مایوسی کا، آپ سوچیں گے زندگی کے ساتھ موت کا تلازمہ جچتا تھا لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا ، موت اتنی بڑے شے نہیں ، جس قدر مایوسی ۔ میں زندگی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا ، جینا چاہتا تھا ، لیکن سب لوگ مرا منہ چِڑا رہے تھے ، مجھے واضح الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ تُو اس قابل نہیں کہ زندگی کی راہ پر چل سکے ، پھر میں نے ایک فیصلہ کیا ، میں نے خود سے کہا کہ تم اپنا کام کرو اور لوگوں کو اُن کا کام کرنے دو۔ لوگوں کا کام بہکانا ہے سو وہ بہکاتے رہیں ، میرا کام آگے بڑھنا ہے سو میں بڑھتا رہوں ؛ اور میں آگے نکل آیا ، اُن سب سے ۔ اس شعر کوپڑھ کر کے مرے اندر کا بوجھ کم ہوا اور مجھے غرض نہیں اس بات سے کہ لوگ کیا سوچتے ہوں ۔
7)
چلی تھی کیا مرے ہمراہ ایک سبز پری ،
زمیں پہ گھاس اُگی ، خار خار پھول بنا ۔
جمالیاتی احساس اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا خوبصورت شعر لیکن اس شعر کو میں نے غزل کے معائب و اسقام میں شامل کیا ۔ شعر میں تلازمہ کے حوالے سے مزید بہتری ہو سکتی ہے ۔ سبز پری کے ساتھ چلنے سے ہر ایک کانٹا پھول بنا، بالکل ایسا ہو سکتا ہے ؛ خوبصورتی و روئیدگی آ ئے گی ، بالکل آ سکتی ہے ۔ سبزہ اور سبز پن خوبصورتی اور خوشحالی کی علامت ہیں ، لیکن زمیں پر "گھاس" اگنا تلازمے پر پورا نہیں اُتر رہا ۔ اب میں تفصل سے بیان کروں گا کہ "سبزہ" اور "گھاس" کی ہیئت اور ساخت میں کیا فرق ہے ۔ " سبزہ " ہریالی اور روئیدگی ہے ، جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو سکتی ہے جو ایک منظر ہے ۔ "گھاس" ایک مختلف
term
ہے جو "چارا" ہےاور جانوروں کی خوراک ہے ، اب سبز پری کے ساتھ چلنے سے سبزہ اگتا تو خوبصورتی میں اضافہ ہوتا اور اگر گھاس اگتی تو اُس منظر نامے پر اثر پڑتا جو شعر میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک اور مثال جیسے "سبز پا" اور "سبز بخت" میں فرق ہے ، "سبز پا" کا مطلب نامبارک کے ہیں اور "سبز بخت" کا مطلب نیک بخت اور مبارک شے کے ہیں ۔ تو اس طرح اس شعر میں مزید بہتری ممکن تھی ۔
ممتاز گرمانی کے لیے نیک تمنائیں اور مزید شعوری در کھلنے کی دعا ۔
ڈاکٹر وقار خان ۔
No comments:
Post a Comment