Friday, 22 January 2016

Nazm Gawahi by Dr.Waqar Khan

" گواہی "
میں محبت کے ستاروں سے نکلتا ہوا نور ،
حق و ناحق کے لبادوں میں چُھپا ایک شعور ،
میرے ہی دم سے ہوا مسجد و مندر کا ظہور ،
میں مسلمان و برہمن کے ارادوں کا فتور ،
میں حیا زادی و خوش نین کے ہونٹوں کا سرور ،
کسی مجبور طوائف کی نگاہوں کا قصور ،
میری خواہش تھی کہ میں خود ہی زمیں پر جائوں ،
اور زمیں زاد کا خود جا کے میں انجام کروں ،
وہ زمیں زاد کہ احسان فراموش ہے جو ،
وہ زمیں زاد ، زنا زاد ، انا زاد ہے جو ،
وہ زمیں زاد کہ جو خود ہی زمیں پر اترا ،
اور زمیں وہ جو وفا دار نہیں ہو سکتی ،
وہ زمیں جس پہ کئی خون کے الزام لگے ،
وہ زمیں جس نے یہاں دیکھے ہیں کٹتے ہوئے سر ،
وہ زمیں دیتی رہی ہے جو گناہوں کو پناہ ،
وہ زمیں جس نے چھپائے ہیں کئی راز و نیاز ،
سازشیں ہوتی رہیں جس پہ محبت کے خلاف ،
اور وہ چُپ ہے اگلتی ہی نہیں ایک بھی لفظ ،
مسئلہ یہ ہے کہ اب کس سے گواہی مانگوں۔
ڈاکٹر وقار خان۔

No comments:

Post a Comment