ہم کہاں ایسے باز آتے ہیں،
زندگی روز گھٹتی جاتی ہے،
مسئلے روز بڑھتے جاتے ہیں،
اب کہاں بھوت اور بلائیں رہیں،
آدمی آدمی کو کھاتے ہیں،
خاک سے خاک بھی نہیں ملتی،
روز ہم خاک چھان آتے ہیں۔
ڈاکٹر وقار خان
آدمی آدمی کو کھاتے ہیں،
خاک سے خاک بھی نہیں ملتی،
روز ہم خاک چھان آتے ہیں۔
ڈاکٹر وقار خان
No comments:
Post a Comment