Friday, 22 January 2016

Interview of Dr.Waqar Khan in Daily Karachi newspaper

 Interview of Dr.Waqar Khan  In Karachi Daily Morning Special , by
نوجوان نسل کا نمائندہ شاعر ، وقار خان ۔
٭ شعر شعور دیتا ہے ، اور پہلا شعور مجھے اپنی ماں سے ملا، میں اپنی ماں سے بہت زیادہ متاثر ہوں ، شعوری عوامل آپ کو کچھ کر گزرنے پر راغب کرتے ہیں ۔
٭ جب جب گروہ بنے ادب درمیان میں آہیں بھرتا رہ گیا ، اور اس کے ذمہ دار وہ سب لوگ ہیں جو ایک دوسرے پر برتری لے جانے کی ضد میں ادب اور زبان کے ساتھ زیادتی کرتے آئے ہیں ۔
٭ سوشل میڈیا تفریح فراہم کر رہا ہے ، ہاں فیس بک نے اہم کردار ادا کیا ہے نئے شعراء کے لیے ، نہ صرف نئے بلکہ سینئرز شعراء بھی برابر مستفید ہوئے ۔
٭ لوگوں نے خواتین کو ہوا میں اٹھا رکھا ہے ، اِس معیار کی شاعری نہیں ہو رہی جتنا شور مچایا جا رہا ہے ، اگر بات کی جائے اور دیکھا جائے تو ہر طرف خواتین لیکن چند ایسی خواتین ہیں جو شعر کہہ رہی ہیں ۔
٭ شعر و ادب کے لوگوں ، خاص طور پر نئے آنے والوں پر جدت کے بھوت نے اس قدر اثر ڈالا ہوا ہے کہ یہ اردو کو لشکری زبان سے کھچٖڑی زبان بنانے پر تُلے ہوئے ہیں ۔
٭ پاکستان میں ہی معیاری شاعری ہو رہی ہے ، انڈیا میں چند بڑے ناموں کے علاوہ اب کچھ نہیں بچا ، نئی نسل میں صرف دو چار لوگ ہی ایسے ہیں جو شعر کہہ رہے ہیں ۔
Zafar Bhopali .
شاعری کی ابتدا کب کی ؟
جواب: شاعری آٹھویں جماعت سے شروع کی، تب ٹوٹے پھوٹے شعر کہا کرتا تھا ، پھر نویں جماعت سے غزل کہنا شروع کر دی، اور مقابلاتی اور طرحی غزلیں بھی کہنے لگا۔
2: شعری اصلاح کس سے لی ؟
جواب: شاعری میں اصلاح کسی سے بھی نہیں لی، البتہ اپنا شروع کا کلام ایک بار اپنے اردو کے استاد طاہر مسعود مہار کا سنایا، اور پھر ملتان آنے کے بعد کچھ غزلیں ضیاء ثاقب بخاری صاحب کو بھی دکھائیں لیکن میں کسی کا باقاعدہ شاگرد نہیں رہا۔
3: آپ کی مادری زبان کون سی ہے ؟
جواب: مادری زبان سرائیکی ہے لیکن شعر اردو میں ہی کہے ، میرے نزدیک زبان کوئی بھی ہو ادب کی تخلیق زیادہ اہمیت کی حامل ہے ، سرائیکی بہت زرخیز زبان ہے لیکن میں شعر نہیں کہے سرائیکی میں ،اب سرائیکی میں نثر پر شاید افسانہ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
4: آپ کی شاعری سے رغبت کے کیا عوامل ہیں ؟
جواب: شعر شعور دیتا ہے اور پہلا شعور مجھے اپنی ماں سے ملا، اور میں اپنی ماں سے بہت متاثر ہوں، وقت کے ساتھ چلنا پڑے تو اندر سوئے خیالات اور شعوری عوامل آپ کو کچھ کر گزرنے پر راغب کرتے ہیں، میں سب سے پہلے ساغر صدیقی کو پڑھا اور پھر غالب اور پھر جون ایلیا، لیکن میں جون پر آ کر رک گیا اور مجھے لگا کہ شاید میرے اندر کا اضطراب جو مجھے خیال کی گہرائیوں میں ڈبوتا جا رہا ہے شاید وہ مجھے جون تک ہی لانا چاہتا تھا، عوامل کیا ہو سکتے ہیں ؟ میرے نزدیک وجود کا تصور بہت فکر انگیز رہا اور اس کے علاوہ اپنی ذات اور اُس ذات کی تلاش تک کا سفر ہی ایسا سفر ہے جو آپ کو وہاں لے جاتا ہے جہاں سے انسان سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے اور پھر وہ سوچ سکتا ہے جو شاید ابھی بنا بھی نہ ہو۔
5: آپ کے اب تک کتنے مجموعے منظر ِ عام پر آ چکے ہیں ؟
جواب: میرا پہلا شعری مجموعہ 2016 کے شروع میں آنے والا ہے جو ابھی مراحل میں ہے ، شاعری میں 22 ایوارڈز مل چکے ہیں ۔
6: آپ کن شعراء سے متاثر ہیں ؟
غالب، جون ، ساغر۔ اور سب سے زیادہ جون۔
7: ادبی گروہ بندی کے بارے میں کیا کہیں گے ؟
جواب: گروہ بندی ، ادب میں گروہ بندی، کیا ہم کسی میدان میں لائے گئے ہیں جہاں ہمیں یہ فیصلہ لینا ہے کہ کون جیتا ہے اور کون ہار گیا۔ گروہ تب بنائے جاتے ہیں جب کسی سے لڑنا ہو، سیاست، جنگ یا کوئی اور ایسی سرگرمی جس کے ذریعے حدود سے آگے نکل جانا ہو، ادب میں اب تک جو ترقی ہوئی وہ ادبی تخلیقات سے ہوئی نہ کہ گروہ بندی سے ، جب جب گروہ بنے ادب درمیان میں آہیں بھرتا رہ گیا، اور اس کے ذمہ دار وہ سب لوگ ہیں جو ایک دوسرے پر برتری لے جانے کی ضد میں ادب اور زبان کے ساتھ زیادتی کرتے آئے ہیں۔ میں بالکل گروہ بندی پسند نہیں کرتا۔
8: شاعری کی کون سی صنفِ سخن کو معتبر کہیں گے ؟
شعر شعور دیتا ہے اور ہر وہ صنف جو اپنا حق ادا کر رہی ہو وہ معتبر ہے ، اب حق کون سی صنف ادا کرتی ہے یہ تخلیق اور تخلیق کار پر منحصر ہے ، اگر غزل اس قدر مضبوط ہے کہ وہ تمام لوازمات کو پورا کر رہی ہے تو وہ معتبر اور اگر نظم یا دوسری اصناف ادب تخلیق کر رہی ہیں تو وہ، ویسے غزل کو میں برتری دیتا ہوں۔
9: کیا شاعری کے لیے کوئی نظریہ اپنانا ضروری ہے ؟
ہر شاعر کے اپنے خیالات اور نظریات ہوتے ہیں اور تخلیق کار ہی وہی ہوتا ہے جس کے اپنے نظریات ہوں اور وہ اس قدر مضبوط ہوں کہ اُن پر عمل کرنا بھی ممکن ہو اور اُن پر تجرباتی مراحل بھی آسانی سے سر کیے جاسکیں۔ وہ تخلیق کار ہی کیا جو دوسروں کے نظریات کو نقل کرے یا مستعار لے ، اپنا نظریہ اور نقطہء نظر ہونا ضروری ہے ۔
10: عہدِ حاضر کے ادیب و شاعر کیا اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں ؟
جواب: ہر عہد میں ادب تخلیق ہوتا رہا لیکن اس وقت جس مشکل مراحل سے ہم گزر رہے ہیں مجھے بہت دکھ اور تشویش کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جس رو کی طرف ہمارا ادب بڑی تیزی کے ساتھ جا رہا ہے وہ ادب کی عمر کم کر دے گا۔ آج کل جو جدت کا بھوت سوار ہے نئے شعراء پر اور وہ جس طرح انگریزی الفاظ اور بے تُکے اور بے معنی خیالات اور لوازمات کو استعمال میں لا رہے ہیں اس سے شعر کی عمر کم ہو گی اور یہ خطرناک حد تک آنے والے دور میں مشکل پیدا کر دے گا۔ جدت نئے خیال اور نئے مضامین کا نام ہے لیکن جس طرح کچھ لوگوں نے منفرد ہونے کے چکر میں اور شاید ظفر اقبال صاحب کو متاثر کرنے کے لیے بے تُکی جدت کا ڈھونگ رچایا اس سے میں قطعی مطمئن نہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر دور کی طرح اب بھی کچھ لوگ شعر کہہ رہے ہیں اور ادب کی خدمت کر رہے ہیں ۔
11: سوشل میڈیا کی شاعری کو کیا کہیں گے ؟
جواب: سوشل میڈیا پر شاعری کہاں ہو رہی ہے ؟ سوشل میڈیا تو بس تفریح فراہم کر رہا ہے ، ہاں ، فیس بک نے اہم کردار ادا کیا ہے نئے شعراء کے لیے ۔ فیس بک پر نہ صرف نئے بلکہ معروف اور سینئرز شعراء بھی مستفید ہوئے ، ایک خامی یہ کہ نئے لوگوں نے جس طرح بازاری اور فیس بک کی شاعری شروع کر رکھی ہے وہ ادب کے لیے تشویشناک بات ہے ، شعر وہ ہوتا ہے جو نہ صرف شعور فلاسفی نیا پن تغزل اور بے ساختگی رکھتا ہو بلکہ اثر بھی رکھتا ہو، اب مسئلہ یہ ہے کہ شعر تو تخلیق ہو رہا ہے لیکن بے برکتی اس قدد ہو گئی ہے کہ اثر ختم ہو گیا ہے اور ایک وجہ وقت کی قلت بھی ہے ، لوگ شعر اور ادب سے دور ہوگئے ہیں لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو وقت کی قلت بھی کہاں ہوئی ، پورا پورا دن لوگ فیس بک اور انٹر نیٹ کی نذر تو کر دیتے ہیں لیکن کبھی اپنے خیال کے سفر پر نہیں گئے ۔
12: خواتین شعراء کی شاعری کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
جواب: خواتین ، میری رائے سے شاید کسی کو دکھ ہو لیکن جس قدر لوگوں نے خواتین کو ہوا میں اٹھا رکھا ہے اس معیار کی شاعری نہیں ہو رہی، اگر بات کی جائے اور گِنا جائے تو چند ہی خواتین ایسی ہیں جن کی شاعری معیاری ہے ، اور دیکھا جائے تو ہر طرف خواتین خواتین خواتین ، لیکن چند خواتین ایسی ہیں جو واقعی ایسا شعر کہہ رہی ہیں جو معتبر حوالہ ہو گا۔
13: آج کی نسل کتاب اور ادب سے دور کیوں ہے ؟
ادب ، کتاب ، شعور، خیال، روایات ، یہ وہ مذاق بن چکے ہیں جو آج کل کی نسل صرف مذاق میں بھی اِن چیزوں پر توجہ نہیں دیتی ، لوگ کہتے ہیں کہ وقت کی قلت ہے جس کی وجہ سے کتاب سے دور ہوئے ، نوجوان نسل سوتے ہوئے اٹھتے ہوئے کلاس لیکچر ہر جگہ فیس بک واٹس اپ ، ٹوئٹر اور انٹر نیٹ تو استعمال کرتی نظر آئے گی لیکن ہر اس چیز سے دور ہو گی جس کا تعلق ادب سے ہو گا ۔ اردو نہیں پڑھتے شاعری نہیں پڑھتے نہ پڑھیں ، انگریزی سے لگائو ہے تو انگریزی کا ادب تو پڑھیں ، کچھ تو ادب کتاب سے واسطہ رکھیں لیکن اُن کے واسطے یہ چیزیں فضول اور وقت کا ضیاع ہے ، اور اس میں قصور کس کا ہے ؟ ادیب کا ، ادب کا ، کتاب کا یا معاشرے کا، مرے خیال سے تو والدین کا جو اپنے بچوں پر توجہ ہی نہیں دیتے اور اُن کو صرف وقت کی دوڑ میں ڈال دیتے ہیں جہاں وہ بچے معاشی دوڑ میں تو آگے نکل جاتے ہیں لیکن اُن میں موجود انسان کہیں ہانپتا رہ جاتا پے ۔
14: اردو زبان کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں ؟
جواب: اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں پہلے بھی بات کر چکا کہ مجھے تشویش ہے ، شعراء اور ادب کے لوگوں اور خاص طور پر نئے آنے والوں پر جدت کے بھوت نے ایسا اثر ڈالا ہوا ہے جو اردو کو لشکری زبان سے کھچڑی زبان بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف قاری کی غیر دلچسپی، نئی نسل کی کتاب سے دوری ، شعراء کے ذاتی مفادات اور سیاست و منافقت، تو اردو بے چاری بیچ میں پریشانی میں مبتلا ہے کہ اُس کا کیا ہو گا، لیکن امید رکھی جا سکتی ہے اُن چند لوگوں سے جو آنے والے دور میں اردو کے وارث ہوں گے ، اور اردو زبان قائم رہے گی۔
15: پاکستان یا ہندوستان؟ معیاری شاعری کہاں نظر آتی ہے ؟
جواب: پاکستان میں ہی شاعری ہو رہی ہے اور معیاری بھی صرف پاکستان میں ہی ہو رہی ہے ، انڈیا میں چند بڑے ناموں کے علاوہ اب کچھ نہیں بچا ، نئی نسل میں صرف دو چار لوگ ہی ایسے ہیں جو شعر کہنا جانتے ہیں ، اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان ہی اس وقت اردو شاعری کا مرکز اور اردو زبان کی بقاء کا ذریعہ ہے ورنہ بھارت نے تو فلمی دنیا میں بھی اردو کو اس طرح ذلیل کرکے رکھ دیا ہے کہ وہاں آنے والے دور میں بھی شاید امروہہ دلی لکھنو والا زمانہ نہ آ سکے۔
اردو زبان کی ترقی اور بقاء کے لیے دعا گو اور ادب کی ترویج کے لیے ہم شعراء اور ادب کے لوگوں کو ہی اپنی تمام تر ذاتی آراء سے ہٹ کر صرف اردو کے لیے کام کرنا ہو گا جو ہماری اور اردو کا نصیب بدل سکے۔
ٖغزل
مرا شعور ہوس، میرا لاشعور ہوس،
وصالِ یار ہوس، وصل کا سرور ہوس،
مرا مجاز ہوس، میرا لا مجاز ہوس،
یہ جلوہ ہائے نما جلوہ تا نہ طور ہوس،
یہ اور بات کہ ہو روح گھومتی پھرتی،
وگرنہ جسم جہاں ، واں پہ تو ضرور ہوس،
ہیں آپ سامنے اور پھر بھی آپ کی ہی طلب،
اِسی کو کہتے ہیں لالچ، یہی حضور ہوس،
آ تجھ کو لے کے چلوں آسماں کے اُس جانب،
جہاں نظر بھی نہ آتی ہو دور دور ہوس،
میں اِک زمانے سے اپنی ہوس میں ڈوبا ہوا،
مرا نزول ہوس، اور مرا ظہور ہوس،
میں مانگ لیتا ہوں اپنی عبادتوں کا ثمر،
کبھی تو خواہشِ جنت، کبھی تو حور ہوس،
مجھے سزا میں کوئی جسم سونپیے صاحب،
کہ مجھ سے آج ہوا ہے یہ اِک قصور ہوس،
یہ چند چیزیں وقار آ بچیں محبت میں،
حصولِ جسم، ضرورت، دغا، فتور، ہوس۔
ڈاکٹر وقارخان۔
نشتر ہسپتال ملتان۔

No comments:

Post a Comment