جون میں شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔
تُو چلا گیا، جلدی چلا گیا، ملے بغیر، میں
تجھے یاد کیا، بہت یاد کیا ، وہ اِس لیے کہ یہ دنیا مرے ساتھ بھی ویسے ہی
کر رہی ہے جیسے ترے ساتھ کیا۔ تُو نے کیا کر لیا تھا جو میں کچھ کر پاتا،
تُو قلم گھِستا رہا ، میں بھی گھِستا رہوں گا، تری بات ضائع گئی ، مری بات
بھی ضائع جا رہی ہے ، تُو نے الفاظ کا زور لگایا تو کیا بدلا؟ اور مرے
الفاظ میں زور ہی نہیں ، وہ الفاظ کیسے ہوا کرتے ہیں جو اثر رکھتے ہیں،کیا
وہ کسی اور زبان کسی اور رسم الخط کسی اور مخلوق کے ہاتھوں لکھے گئے ہوتے ہیں ؟
تجھے بے وفائی کا سامنا ہوا اور مجھے وفا ملی ہی نہیں ، توُ نے زندگی سے
گلہ کیا اور مجھے زندگی اب تک نہیں ملی ، ملی تو گلہ کروں گا، ترے خونی
رشتوں نے تجھے تنہا کیا اور مجھے رسوا، تُو نے کیسے جھیل لیا اِس دنیا کو
اتنے سال، میں تو اِس دنیا سے مایوس ہو چکا ہوں۔ تجھے پتہ ہے میں نے محبت
کر لی ہے ، شاید ترے بعد مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
ایک
بات بتا۔۔۔۔ کیا دنیا سب کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہے ؟ تو وہ لوگ جو خوش
دکھائی دیتے ہیں وہ کس دنیا کے ہیں ؟ یا دنیا صرف اُن لوگوں کی ہے ؟ یہ
دنیا ہمیں ہی کیوں راس نہ آئی ؟ کیا سب کے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں یا ہمارے
ہوئے ؟ کیا سب کا لکھا خام گیا یا ہمارا؟ کیا سب کو نفرت نصیب ہوئی یا صرف
ہمیں ؟
جانی ۔۔۔۔ میں تم سے شرمندہ بھی ہوں اور ناراض بھی ۔ تُو نے
دنیا کو چھوڑنے کی ٹھانی تھی اور میں خود کو ، میں بھی ایسا ہی کرتا لیکن
میں جون نہیں ایک ٹوٹا ہوا کم حوصلہ شخص ہوں۔ تُو نے رشتوں سے ہار کر دنیا
چھوڑی تھی اور میں دنیا سے ہار کر رشتوں کو اپنا رہا ہوں، تُو جانتا تھا یہ
سب رشتے کیا ہیں ؟ جانتا میں بھی ہوں یہ رشتے کیا ہیں لیکن میں وہ گلہ دور
کرنا چاہتا ہوں جو تم سے رشتوں کو رہا ، خونی رشتوں کو۔
میں خود کو چھوڑ کر رشتوں کو بچا رہا ہوں۔
جون میں شرمندہ ہوں۔
ڈاکٹر وقارخان۔
No comments:
Post a Comment