وہ ترا خدا نہیں ، وہ مرا خدا نہیں ،
زندگی ملی کبھی تو گلہ کریں گے پر ،
زندگی ملی نہیں تو گلہ کیا نہیں ،
میں جو اِس دیار میں اب تلک نہیں مرا ،
کیا مرا کوئی عزیز اب یہاں بچا نہیں ؟
جس کے احترام میں سر کٹا دیا گیا ،
اُس کو تو خبر نہیں ، اُس کو تو پتہ نہیں ،
خود سے دور ہو گئے ، چُور چُور ہو گئے ،
رسی جل گئی مگر اُس کا بل گیا نہیں ،
زخم کی نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکا ،
تُو وقار خان ہے ، جون ایلیا نہیں ۔
ڈاکٹر وقار خان۔
زندگی ملی نہیں تو گلہ کیا نہیں ،
میں جو اِس دیار میں اب تلک نہیں مرا ،
کیا مرا کوئی عزیز اب یہاں بچا نہیں ؟
جس کے احترام میں سر کٹا دیا گیا ،
اُس کو تو خبر نہیں ، اُس کو تو پتہ نہیں ،
خود سے دور ہو گئے ، چُور چُور ہو گئے ،
رسی جل گئی مگر اُس کا بل گیا نہیں ،
زخم کی نزاکتوں کو نہیں سمجھ سکا ،
تُو وقار خان ہے ، جون ایلیا نہیں ۔
ڈاکٹر وقار خان۔
No comments:
Post a Comment