Friday, 22 January 2016

Tanqeed by Dr.Waqar Khan , ghazal Amar Iqbal Karachi

تنقیدی سلسلہ
حق ِ تنقید
ڈاکٹر وقار خان ۔
غزل: عمار اقبال (کراچی)

اردو، ادب، تخلیق ، زبان اور فن ایسا مذاق بن چکے جو شاید اب ہم جیسے لوگوں تک محدور ہو جائیں۔ اردو ادب کی شروع سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ اردو ادب نے تخلیق کار سے ہمیشہ اُس کی تخلیق ، فن ، وقت، محنت ، علم اور ریاضت کو مالِ مفت سمجھ کر لیا ہے لیکن ادب نے اپنے تخلیق کار کو ہمیشہ دینے میں بخل ، تجاہل ، تاخیر اور منافقت سے کام لیا ہے اور تخلیق کار اب معاشرے کا وہ اضافی نکتہ سمجھا جاتا ہے جسے ہمارا معاشرہ برداشت کرنے کا اہل نہیں اور نہ ہی ظرف رکھتا ہے ۔
مرا علم بے کار گیا مری تخلیق کو مرے ہی خلاف استعمال میں لایا گیا ،مجھے مرے ہی بنائے ہوئے الفاظ سے روندا گیا اور میں چپ تماشا دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ میں ایک تخلیق کار ہوں اور موجودہ دور میں مری ضرورت نہیں ۔ میں جو ہوں اور جو جانتا ہوں اُس سے صرف دوسروں کو فائدہ ہوسکتا ہے ، ہمیشہ سے تخلیق کار انہی مسائل کا شکار رہے ۔

لاطینی زبان میں
cret
کے معنی چھان پھٹک کرنا کے ہیں ، اور اردو تنقید میں یہ صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے ، تنقید کا معاملہ اب قدرے تبدیلی کی طرف رواں دواں ہے ، پہلے میں یہ ذکر کیا تھا کہ ہم مغربی عوامل سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی تخلیقی پہچان ہی کھو بیٹھے، اب میں ایک اور بات کا اضافہ یہ کروں گا کہ جب کسی تخلیق پر تنقید کی جائے تو نقاد زیرِ عتاب آ جاتا ہے ، اُس کی بات سے اختلاف ہونے پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی بجائے لوگ بغیر بتائے دشمنی پال لیتے ہیں اس لیے اب بہت سے نقاد مصلحت آمیزی سے کام لیتے ہیں اور حق بات کرنے کی بجائے رجعت پسندی کی حمایت کرتے ہیں اور یہی بات ہے کہ تخلیق دم توڑتی جا رہی ہے۔ کسی کی غلطی کی نشاندہی کرنا اپنی سوشل لائف ختم کرنے والی بات ہے اور اس بات کا ذمہ دار تخلیق کار ہے جو اپنی خامی کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا اور چھوٹے عناصر کی بنیاد پر اپنے ہی تخلیقی سفر میں رکاوٹ بنتا ہے ۔ اب یہاں میں نقاد کی خامیوں کا ذکر بھی کروں کہ اُن میں بھی یہ حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ اچھی تخلیق کو قبول کرتے ہوئے سراہیں ، بلکہ وہ جان بوجھ کر خامیاں نکالنے میں لگے رہتے ہیں اور تخلیق کے محاسن کو نظر انداز کر جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کو مرے دوست عمار یاسر مگسی نے "ادبی ابلیس" کا نام دیا۔

کیا مشرق میں کوئی ایسا نظریہ دان نہیں گزرا جو ہماری زبان کو عالمی ادب کے برابر لا سکتا ہو؟ گزرے ہیں لیکن ہم نے روندا ہے ، صرف روندا ہے ، میں نہیں چاہوں گا کہ کوئی مجھ سے آگے جائے ، تم نہیں چاہو گے کہ میں تم سے آگے جائوں ، ہم نے یا تو قبول نہیں کیا یا آزمایا نہیں، بہت سے ایسے لوگ رہے؛ اور ہیں بھی؛ جو نظریہ دان ہو سکتے تھے اور اگر ہم ایسا کر لیتے تو آج ہم کسی آئی اے رچرڈ ، کرسٹوفر کاڈویل، ایڈمنڈولسن، لارنس ، ہربرٹ، ریڈ ، گاسن ، ڈیشز، ایلیٹ یا ڈرائیڈن کے ادبی نظریات کے مقروض نہ ہوتے ، ہم میں وہ سب موجود ہے لیکن پہچان کرنی ہے اور ہمیں ہی کرنی ہے ورنہ ہم گنوا دیں گے وہ ادب جو اردو ادب ہے اور جس میں ہیئت ، تشکیل اور ساخت کے وہ ذخائر موجود ہیں جو شاید فرانسیسی ، یونانی ، انگریسی ، روسی یا ڈچ زبانوں کے پیش نظر کئی گنا زیادہ رحجانات رکھتے ہیں۔
عمار اقبال کی غزل :
پہلے ہماری آنکھ میں بینائی آئی تھی ،
پھر اُس کے بعد قوتِ گویائی آئی تھی ،

میں اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار ،
میری تھکن سے مجھ میں توانائی آئی تھی ،

دل آج شام سے ہی اُسے ڈھونڈنے لگا ،
کل جس کے بعد کمرے میں تنہائی آئی تھی ،

وہ کس کی نغمگی تھی جو ساتوں سُروں میں تھی ،
رنگوں میں کس کے رنگ سے رعنائی آئی تھی ،

پھر یوں ہوا کہ اُس کو تمنائی کر لیا ،
میری طرف جو چشمِ تماشائی آئی تھی ۔

غزل میں نئے رحجانات کی ڈھونڈ مرا ہی نہیں اردو کا مسئلہ ہے اور یہی امید بقا ہے لیکن مجھے تسلی اُس وقت ہو گی جب مجھے ستارہ نظر آئے گا۔
عمار اقبال کی غزل معروضیت اور اکتشافی عوامل سے بھرپور، ہیئت اور ساخت کے اعتبار سے مضبوط ، روانی ، سلاست ، اختراعات، جدیدیت اور تشکیلی مراحل سے گزرتی ہوئی نظریاتی عوامل کی پاسدار ہے ، نفاست اور احساس کی بہترین مثال ہے ، نظریات ہماری ضرورت ہیں اور اس غزل کے چند اشعار یہ حق ادا کرنے کی سعی ہو سکتے ہیں ۔
معائب میں جب بات کی جائے تو تیسرا اور آخری شعر روایتی انداز کے حامل ہیں اور پرانے خیالات پر مبنی ہیں ۔
اسقام کے حوالے سے تیسرے شعر میں مزید فنی بہتری ممکن ہے ۔ تیسرے شعر میں شاعر نے " کمرے" کی "یے" گرائی ہے ۔ اب "کمرے" معروف ہے اس لیے
Legislative Criticism
کے قوانین کے مطابق معروف کا کوئی رکن گرانا جائز نہیں ، البتہ مجہول کا گرایا جا سکتا ہے ۔ اب "کمرے" کی "یے" گرانے سے "کمر" پڑھا جائے گا جو شعر کو معنی سے دور لے جائے گا۔ بعض نقاد اور شعراء اس کو ٹھیک بھی قرار دیتے ہیں لیکن فنی حوالے سے گنجائش نہیں ۔
1:
پہلے ہماری آنکھ میں بینائی آئی تھی ،
پھر اُس کے بعد قوتِ گویائی آئی تھی ،
جدیدیت اور ہیئت کے حوالے سے غزل کا انتہائی مضبوط شعر جو اس غزل کا حوالہ ہے۔ ہم نے دیکھنا تو سیکھا ہی نہیں اور اگر دیکھنے لگیں تو بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ اور اگر بولنے لگیں تو وہ بولتے ہیں جو سب سننے چاہیں اور سب صرف جھوٹ سننا پسند کرتے ہیں۔ روانی اور اکتشافی عوامل کی بہترین مثال جو شعر کا حق ہے وہ ادا کیا گیا ہے ۔
2:
میں اپنی خستگی سے ہوا اور پائیدار ،
میری تھکن سے مجھ میں توانائی آئی تھی ،
سہل ممتنع، تشکیل ، اور خیال اس شعر کو بہترین اشعار کے زمرے میں لا رہے ہیں۔ ہر شے اور عنصر اپنی الگ حیثیت رکھتے ہیں ، جو خستگی ہے وہ توانائی سے الگ ہے ، توانائی کبھی خستگی کی جگہ نہیں لے سکتی ، آسانی کبھی مشکل کا متبادل نہیں ہو سکتی، اگر سلیقہ آتا ہو تو خستگی طاقت بن سکتی ہے اور مشکل سے آسانی نکالی جا سکتی ہے ۔ نظریاتی عوامل کو ساتھ لیے ہوئے بہترین شعر ہے ۔
3:
دل آج شام سے ہی اُسے ڈھونڈنے لگا ،
کل جس کے بعد کمرے میں تنہائی آئی تھی ،
روایتی شعر ہے ، نفاست اور روانی واضح ہیں لیکن اس شعر کو معائب میں شمار کیا گیا ہے ، اور "کمرے" کی "یے" گرانا جائز نہیں کیونکہ "کمرے" معروف ہے اور مجہول کا رکن گرایا جا سکتا ہے۔
4:
وہ کس کی نغمگی تھی جو ساتوں سُروں میں تھی ،
رنگوں میں کس کے رنگ سے رعنائی آئی تھی ،
شعر انفرادیت، ادبی ماہیت اور جمالیاتی حسیات کا حامل ہے ، لسانی اور خیال کے حوالے سے نظریات اور توضیحی تشکیل کی بہترین مثال اور مضبوط شعر ہے ۔
Descriptive Environment
کا حامل یہ شعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ مجھے وا کیا جائے ؛ اُن اذہان پر جو خالی ہیں ؛ وہ نغمگی ہی تو میں ڈھونڈ رہا ہوں جو ایسی سُر میں ہو جو اپنی دھن میں بہا لے جائے وہ سب جو غیر ضروری ہے۔ وہ رنگ جس سے سارے رنگ بنے لیکن وہ رنگ ابھی تک وجود میں نہیں آیا، وہ رنگ وجود و نبود سے ماوراء ہے اور جس کا ہونا سب کے ہونے کی ضمانت ہے ۔
5:
پھر یوں ہوا کہ اُس کو تمنائی کر لیا ،
میری طرف جو چشمِ تماشائی آئی تھی ۔
رواں شعر ہے جو روایت سے جڑا ہے اور نفاست کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ ڈھب تو وہ ہے جو تماشا ہو کر تماشائی کی حالت کو اپنے اخیتار میں لے لے اور یہی فن ہے ۔
عمار اقبال کے لیے بہت سی دعائیں اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر وقار خان۔

1 comment: